سال 2026 میں گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کے نوجوان کیسے اپنی تقریر بدل سکتے ہیں؟ – اقبال عیسیٰ خان
سال 2026 گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کے نوجوانوں کے لیے محض ایک نیا کیلنڈر نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ بن سکتا ہے۔ یہ وہ خطے ہیں جہاں پہاڑ صرف زمین کا حصہ نہیں بلکہ سوچ، مزاج اور کردار کی علامت ہیں۔ یہاں کے نوجوان صبر، برداشت اور خودداری کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں، مگر افسوس کہ انہیں اکثر تقسیم، محرومی اور جھوٹے نعروں میں الجھا کر ان کی اصل طاقت کمزور کی جاتی رہی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ 2026 کو تبدیلی کا سال بنایا جائے، ایسی تبدیلی جو نعروں سے نہیں بلکہ شعور سے جنم لے۔
سب سے پہلا قدم تعصب اور تفریق کے اس بیانیے کو توڑنا ہے جو ہمیں قبیلوں، مسالک، زبانوں اور علاقوں میں بانٹتا ہے۔ تقسیم شدہ نوجوان کبھی مضبوط قوت نہیں بن سکتے۔ گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کے نوجوانوں کے مسائل مشترک ہیں، مواقع محدود ہیں اور چیلنجز ایک جیسے ہیں، اس کے باوجود ہمیں ایک دوسرے سے لڑایا جاتا ہے۔ 2026 کا تقاضا ہے کہ ہم اس مصنوعی تقسیم کا بائیکاٹ کریں اور اپنی مشترکہ شناخت کو پہچانیں، ایک باشعور اور باوقار پہاڑی کمیونٹی کے طور پر۔
اسی کے ساتھ نام نہاد قیادت سے لاتعلقی بھی ضروری ہے۔ وہ قیادت جو ہر الیکشن میں نوجوانوں کے جذبات سے کھیلتی ہے، مگر عملی طور پر نہ روزگار دیتی ہے نہ راستہ۔ ایک لیڈر اور ایک پیشہ ور کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ جس قیادت کا ویژن خالی ہو، اس کا بائیکاٹ کرنا بغاوت نہیں بلکہ خود تحفظ ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اصل قیادت وہ ہے جو شعور دے، سوال اٹھانے کا حوصلہ دے اور خود انحصاری سکھائے، نہ کہ صرف نعروں اور تصویروں تک محدود رہے۔
2026 میں نوجوانوں کے لیے سب سے اہم شعور اپنی قدر اور اپنے حقوق کو جاننا ہے۔ جب تک نوجوان خود کو کمزور سمجھتے رہیں گے، دوسروں کو ان پر حکمرانی کا موقع ملتا رہے گا۔ یہ حقوق صرف سرکاری نوکری یا ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ عزت، میرٹ، اظہارِ رائے اور مساوی مواقع کا مطالبہ بھی ہیں۔ ایک فکری سطح پر یہ شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے کہ پہاڑوں میں پیدا ہونا کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔
یہ سال خود کی تلاش کا بھی ہونا چاہیے۔ نوجوان اپنے مقصدِ حیات کو دریافت کریں، یہ طے کریں کہ وہ صرف حالات کے مطابق جینا چاہتے ہیں یا حالات کو بدلنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ وژن اور مشن کے بغیر زندگی محض ردعمل بن جاتی ہے۔ 2026 کے لیے واضح اہداف اور قابلِ پیمائش ٹارگٹس مقرر کیے جائیں، تعلیم، مہارت، کیریئر، سماجی خدمت اور ذاتی کردار کے میدان میں۔ پھر ایک عملی حکمتِ عملی تیار کی جائے کہ ان اہداف تک کیسے پہنچنا ہے، کن وسائل کی ضرورت ہے اور کن کمزوریوں پر قابو پانا ہے۔
یہ یقین بھی ضروری ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔ خود پر ایمان کے بغیر کوئی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوتی۔ پہاڑوں کے نوجوانوں نے تاریخ میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے، بس فرق یہ تھا کہ اس وقت مقصد واضح تھا۔ آج بھی اگر نیت صاف، سمت درست اور محنت مستقل ہو تو کامیابی ناگزیر ہے۔
آخر میں، 2026 کو ایک ایسے سال میں بدلنے کی ضرورت ہے جہاں گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کے نوجوان تماشائی نہیں بلکہ اثر رکھنے والے کردار بنیں۔ ایک ایسا کردار جو اپنی کمیونٹی کے لیے امید ہو، اپنے خطے کے لیے آواز ہو اور ملک کے لیے مثبت طاقت۔ پہاڑ خاموش ضرور ہوتے ہیں، مگر جب بولتے ہیں تو دنیا انہیں سنتی ہے۔ اب وقت ہے کہ پہاڑوں کے نوجوان اپنی آواز کو پہچانیں اور دنیا پر اپنا اثر چھوڑیں۔

