روشت استاری: جب تقریب رونمائی میں ہی مقصد دفن کر دیا گیا۔ تحریر: احتشام الرحمن
۔
روشت استاری: جب تقریب رونمائی میں ہی مقصد دفن کر دیا گیا
آج “روشت استاری” نامی کتاب کی رونمائی تھی۔ کتاب کا بنیادی مقصد بچوں کی تربیت ہے، اور تربیت میں جو چیز سب سے زیادہ ثقافت اور کردار میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے وہ بڑوں کا احترام اور اساتذہ کی عزت ہے۔ لیکن روشت استاری کی اس تقریب میں ایک ایسی بات نظر آئی جو خود تربیتی اصولوں پر سوال اٹھانے والی تھی۔
مثلاً اسٹیج خاص مہمانوں کے لیے مختص ہوتا ہے، مگر یہاں صورتِ حال یہ تھی کہ گریڈ 18، 19 اور 20 کے پروفیسر حضرات نیچے بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ گریڈ 17 اور 18 کے بعض افسر شاہی کے افسران اسٹیج پر موجود تھے۔ دوسری طرف اساتذہ، جو معاشرے میں ایک باوقار مقام رکھتے ہیں، انہیں اسٹیج پر بٹھانا چاہیے تھا۔ مناسب ترتیب یہ ہوتی کہ اسٹیج پر چند مرکزی مہمان ہوتے، جیسے آر پی او فدا حسن، ڈی سی، چترال اور ان کے ساتھ ایک دو نمایاں اساتذہ، مثلاً پرنسپل یا ڈی ای او، چترال۔
مگر یہاں تو گویا گنگا ہی الٹی بہہ رہی تھی۔ مطلب یہ کہ جو لوگ روشت استاری کے ذریعے بچوں کی تربیت کا دعوی کر رہے تھے، وہی عملی طور پر بچوں کو ایک متضاد اور غلط پیغام دے رہے تھے۔ اسٹیج پر چند با اثر لوگ موجود تھے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بچپن اور نوجوانی کی سطح پر طلبہ میں اساتذہ اور بڑوں کا احترام نسبتا بہتر انداز میں موجود رہتا ہے۔ اسکول میں بھی اور کالج کی سطح پر بھی یہ ادب و احترام کسی حد تک برقرار رہتا ہے۔ حتی کہ وہ نوجوان بھی، جو بظاہر ایک غیر روایتی یا مشکل طرز زندگی اختیار کرتے ہیں، اکثر اپنے اساتذہ اور بڑوں کے لیے دل میں عزت رکھتے ہیں۔
لیکن جیسے ہی یہی طلبہ عملی زندگی میں داخل ہو کر بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، چاہے وہ بیوروکریٹس ہوں، ڈاکٹرز، انجینئرز یا فوجی افسران، تو ان کی شخصیت سے یہ بنیادی اخلاقی قدر یعنی بڑوں اور اساتذہ کا احترام بتدریج کم ہونے لگتا ہے، اور بعض اوقات مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ شاید ان کی ٹریننگ ہو۔ اس کے برعکس وہ افراد جو نسبتا سادہ اور عام زندگی گزارتے ہیں، جیسے چھوٹے کاروبار سے وابستہ لوگ یا معمولی ملازمت کرنے والے، اکثر اپنے اساتذہ اور بڑوں کے احترام کو زیادہ بہتر انداز میں قائم رکھتے ہیں۔
پروفیسر جاوید صاحب اکثر یہ بات کہا کرتے تھے کہ کسی استاد کو اس بات پر زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا شاگرد بڑا افسر، ڈاکٹر یا انجینئر بن گیا ہے۔ اصل خوشی اس وقت ہونی چاہیے جب شاگرد ایک بااخلاق، باکردار اور باادب انسان بنے۔ ان کے مطابق وہ طلبہ زیادہ قابل قدر ہیں جو چاہے کسی بھی چھوٹے پیشے سے وابستہ ہوں، لیکن اپنے اساتذہ اور بڑوں کا احترام کرتے ہیں، ان کے ساتھ تعلق نبھاتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں۔
یہی حقیقت آج “روشت استاری” کی تقریب رونمائی کو دیکھ کر مزید واضح ہو گئی۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد بچوں کی تربیت اور اخلاقی اقدار کی آبیاری تھا، لیکن اس تقریب کے عملی مناظر نے خود اس مقصد پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ اساتذہ اور سینئر پروفیسروں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو ایک تعلیمی و تربیتی ماحول میں انہیں ملنا چاہیے تھا۔
یہ ایک ایسا تضاد ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تربیت دینے والے ادارے اور افراد خود عملی طور پر ان اقدار کی خلاف ورزی کریں جن کی وہ تعلیم دیتے ہیں، تو پھر بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تشکیل پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔ تربیت صرف کتابوں اور تقریروں سے نہیں ہوتی، بلکہ عملی رویے ہی اصل پیغام بناتے ہیں۔
مختصرا یہ کہ ایسے پروگرامز جہاں اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو مدعو کرکے ان کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، ان میں انہیں لازماً شرکت کرنی چاہیے تاکہ تعلیمی بہتری کا عمل متاثر نہ ہو۔ متعلقہ اداروں اور منتظمین کو بھی یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ اساتذہ کو وہ عزت اور احترام دیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔ اگر علم کی حقیقی قدر نہیں بھی کی جاتی تو کم از کم موجودہ گریڈنگ اور انتظامی نظام کے مطابق ہی ان کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں تاکہ ان کی پیشہ ورانہ وقعت برقرار رہے۔
روشت استاری کی افادیت کا حتمی جائزہ اس کے مطالعے کے بعد ہی ممکن ہوگا کہ آیا یہ واقعی تعلیمی لحاظ سے ایک مؤثر اضافہ ہے یا اسلامیات اور معاشرتی علوم جیسے بنیادی مضامین کی موجودگی میں طلبہ پر محض ایک اضافی بوجھ ہو گا؟
