اندھیروں میں چٹان جیسا حوصلہ، امتیاز حسین کی دکھ بھری مگر سبق آموز کہانی ۔ تحریر: اقبال عیسیٰ خان

زندگی کبھی کبھی انسان سے سب کچھ ایک ہی لمحے میں چھین لیتی ہے۔ امتیاز حسین، ولد نعمت شاہ، ساکن خانہ آباد ہنزہ، بھی اسی اچانک اور بے رحم موڑ کا شکار ہوئے۔ عمر چالیس برس، شادی شدہ، ایک ننھی پھول جیسی بیٹی کے باپ، گلگت بلتستان ہاؤس میں ملازمت، ایک باوقار اور خوشگوار گھریلو زندگی۔ وہ ایک محنتی، خودساختہ انسان تھے جو اپنی ذمہ داریوں کو خاموشی سے نبھاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ مگر پھر ایک دن، ایک المناک سڑک حادثہ، ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹ، اور زندگی نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جس کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ جسم مفلوج ہو گیا، اور ایک فعال انسان بستر تک محدود ہو گیا۔
یہ صرف جسمانی معذوری نہیں تھی، یہ ایک ذہنی اور جذباتی زلزلہ تھا۔ امتیاز کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی دنیا اچانک تاریکی میں ڈوب گئی ہو۔ وہ شخص جو کل تک خاندان کا واحد کفیل تھا، آج خود محتاجی کے خوف میں گرا ہوا تھا۔ ایک باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے جب وہ اپنی معصوم بیٹی کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے، یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو اس کرب سے گزرے۔ ایسے لمحوں میں اکثر انسان ٹوٹ جاتا ہے، ہار مان لیتا ہے، مگر امتیاز حسین نے ایک مختلف راستہ چنا۔
امتیاز کی زندگی کا سفر ہمیشہ جدوجہد سے جڑا رہا۔ ڈی جے اسکول خانہ آباد سے تعلیم کا آغاز، ڈگری کالج گلگت سے انٹرمیڈیٹ اور بیچلر، پھر گلگت بلتستان ہاؤس میں ملازمت کے ساتھ ساتھ صبح کے اوقات میں فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس مکمل کی ۔ یہ معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خواب دیکھنے والا، محنت کرنے والا اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنے والا انسان تھا۔ حادثے کے بعد بھی اس کی اصل طاقت، اس کی تعلیم اور سوچ، اس کے ساتھ رہی۔
ایک دن بستر پر لیٹے ہوئے اس نے خود سے فیصلہ کیا کہ زندگی ختم نہیں ہوئی، صرف شکل بدل گئی ہے۔ اگر جسم ساتھ نہیں دے رہا تو کیا ہوا، ذہن اب بھی زندہ ہے۔ چونکہ وہ خاندان کا واحد کفیل تھا، اس لیے ہار ماننا اس کے لیے کوئی آپشن نہیں تھا۔ اسی عزم کے ساتھ اس نے سوشل میڈیا پر ایک سادہ سا فیس بک پیج بنا کر آن لائن کاروبار کا آغاز کیا۔ کوئی بڑا سرمایہ نہیں، کوئی مضبوط سہارا نہیں، صرف حوصلہ، تعلیم اور خودداری۔
آج امتیاز حسین دنیور میں ایک کرائے کے گھر میں رہ رہا ہے۔ اس کی زندگی آسان نہیں، مگر اس کا حوصلہ غیر معمولی ہے۔ وہ ہمدردی نہیں، عزت کے ساتھ تعاون چاہتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہم سب کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایسے لوگ خیرات کے نہیں بلکہ سپورٹ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک ذمہ دار اور باشعور معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھریلو مصنوعات ایسے ہی باہمت، محنتی اور جدوجہد کرنے والے افراد سے خریدنی ہوں گی۔ ان کے آن لائن پیجز کو شیئر کرنا، ان کے کاروبار کو فروغ دینا، دراصل انسانی وقار کو مضبوط کرنا ہے۔
امتیاز حسین کی کہانی محض ایک فرد کی داستان نہیں، یہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں۔ آج جو چل رہا ہے، کل بستر پر ہو سکتا ہے۔ اصل پہچان مشکل وقت میں سامنے آتی ہے۔ امتیاز آج مفلوج ضرور ہے، مگر شکست خوردہ نہیں۔ وہ ایک حقیقی چیمپئن ہے، ایک مثال، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو تو اندھیروں میں بھی روشنی کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
امتیاز حسین کے آن لائن شاب کی تفصیلات آ پ کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے

