گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں سے بڑھتی بےزاری اور آزاد امیدواروں کا ابھرتا منظرنامہ – تحریر: اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں عوام کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔ برسوں سے وعدوں پر وعدے، اعلانات پر اعلانات، اور نعروں کی گونج میں عملی کارکردگی کا فقدان عوام کو اس حد تک مایوس کر چکا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی سمت خود متعین کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں آنے والے انتخابات کے لیے غیر معمولی تعداد میں آزاد امیدوار میدان میں اُتر رہے ہیں۔
یہ حقیقت اب کسی تجزیے کی محتاج نہیں کہ گلگت بلتستان کے شہری بالخصوص نوجوان نسل اب سیاسی جماعتوں سے عملی وژن اور نتائج چاہتی ہے، محض جذباتی بیانیہ نہیں۔ عوام جان چکے ہیں کہ پارٹی ٹکٹ لینا اکثر مخصوص گروہوں، پرانے حلقوں یا روایتی قیادت کے زیرِ اثر ہوتا ہے, ایسی قیادت جو وقت کے بدلتے تقاضوں کو سمجھنے یا قبول کرنے سے قاصر ہے۔ نتیجتاً نئے، تعلیم یافتہ اور فعال کردار رکھنے والے کئی لوگ اپنے راستے کا تعین خود کرنے کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔
آزاد امیدواروں کا یہ بڑھتا رجحان دراصل سیاسی جماعتوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ عوامی ردِعمل اس بات کا صاف اظہار ہے کہ جماعتیں اگر اپنے سیاسی منشور کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہیں، اور اگر وہ اپنی قیادت کے انداز اور اسلوب پر نظرِثانی نہ کریں، تو ان کی ساکھ مزید کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ سیاسی جماعتوں کا موجودہ طرزِ سیاست اب اسی طرح مؤثر نہیں رہا جیسے ماضی میں رہا کرتا تھا۔
وقت کی ضرورت یہ ہے کہ جماعتیں اپنے منشور کو ازسرِنو ترتیب دیں۔ اس میں نوجوانوں کی شمولیت، معاشی حکمتِ عملی، روزگار کے مواقع، ماحولیات، ٹیکنالوجی، سیاحت، اور گورننس کے وہ پہلو شامل کیے جائیں جو علاقے کی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہوں۔ اسی کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، شفاف فیصلے، جوابدہی، اور عوامی رابطے کو بھی مرکزی اہمیت دینا ہوگی۔
آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ ووٹر اب تقسیم کے نہیں، حل کے خواہشمند ہیں۔ وہ کسی بھی ایسی سیاسی قوت کو آگے بڑھنے کا موقع دیں گے جو لفظوں سے زیادہ عمل پر یقین رکھتی ہو، اور جو عوام کے اعتماد کی قدر بھی جانتی ہو۔
گلگت بلتستان کے سیاسی منظرنامے میں آنے والی تبدیلی ایک طویل دور کے بعد جنم لے رہی ہے۔ یہ تبدیلی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر وہ اس نئے سیاسی شعور کو سمجھ کر اپنی سمت درست کر لیں تو مستقبل ابھی بھی ان کا ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، آزاد امیدواروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی ایک نئے سیاسی دور کی بنیاد ڈال سکتی ہے, ایک ایسا دور جہاں عوام اپنے فیصلے خود لکھنے کے لیے تیار ہیں۔

