رشتوں کی کیفیت – تحریر: اقبال حیات اف برغذی
.
انسانی معاشرے باہمی رشتوں اور ناطوں سے مربوط ہوتے ہیں اور ان رشتوں کی نوعیت جہاں مختلف ہوتی ہے وہاں ان کی چاشنی اور لذت میں بھی نمایان فرق ہوتا ہے۔ اگرچہ ان رشتوں کے اقدار کی پاسداری جہاں زندگی کے رنگ وبو میں نکھار پیدا کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں وہاں انسانی فطرت اور مزاج کی بنیاد پر کسی ایک رشتے سے انسیت میں اضافے کی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں والدین کے ساتھ فطری دلی لگاو اور پیار سے قطع نظر بہنوں کی آپس میں والہانہ محبت اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل ذکر ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو ہر قسم کی ذاتی لالچ اور غرض وغایت سے پاک خاص محبت کی مہک سے معطر ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں بھائیوں کی آپس میں کے تعلقات کی لذت کا دائرہ ایک دسترخوان کے گرد بیٹھ کر کھانا کھانے کی حد تک محدود ہوتا ہے۔اور علیحدہ گھر بسانے کے بعد میراث کی تقسیم کی مناسبت سے آپس کی ناچاقیاں اور رنجشین سردمہری میں تبدیل ہوتی ہیں اور اس قسم کی کیفیت بہنوں کے مابین تعلق اور محبت کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اور ان کی پیار ومحبت کو دنیا وی امور اور معاملات متاثر نہیں کرسکتے وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنے کیلئے تیار ہوتی ہیں۔
ایک دوسرے کی فلاح وبہبود اور کامیابیوں کی آرزو مند ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے سے شکوے اور گلہ مندی کے الفاظ زبان پر نہیں لاتیں۔ہر وقت اور ہرآن آپس کیحالات سے باخبر رہنے کیلئے تڑپان رہتی ہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ے کہ اللہ رب العزت نے عورت کو محبت کی دیوی کے رنگ میں رنگین کردی ہے۔ مان کی مامتا کا تصور اس صفت کا عکاس ہے اور یہ ماں ہی ہے جو کبھی بھی اپنی اولاد کی جیب کی طرف نظر نہیں اٹھاتی اور اس کی نظریں اولاد کی جسمانی کیفیت سے آگہی حاصل کرنے کی غرض سے اس کے چہرے پر مرکوز رہتی ہیں۔ اس صفت کو بہنوں کی آپسی تعلق میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اور ان کی ایک دوسرے کی طرف اٹھنے والی نظریں بھی خیر وخواہی کے جذبات کا آئینہ دار ہوتی ہیں۔
مختصر یہ کہ بہنوں کا باہمی رشتہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک مثالی اور صدا بہار کیفیت کا حامل ہے۔یہاں اس مسلمہ حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ معاشرے کے اندر رشتوں کو جوڑنے میں صرف اسلام کی طرف سے وضع کردہ قواعد وضوابط ہی ایک مضبوط ڈور کی حیثیت رکھتے ہیں بدقسمتی سے ہم ان قواعد کی پاسداری کے ڈور کو مفاد پرستی اور خود غرضی کی قینچی کی نذر کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے آج حالت یہ ہے کہ والدین جیسے عظیم رشتے بھی اولاد سے نالان ہیں۔ ان کے سامنے اُف تک نہ کہنے کی قرآنی ہدایت پر عملداری کا تصور ایک خواب کی مانند ہے اور والدین کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنے سے حج کے برابر ثواب کا تصور موبائل کی رعنائیوں سے لطف اندوزی کی نذر ہورہا ہے۔ اور بہن کی میراث میں حصہ داری کا تقاضا دشمنی کے رنگ میں ڈھل گئی ہے۔ یوں یہ چند روزہ زندگی حقیقی لذتوں کو ترستی ہوئی گزر جاتی ہے۔اور ابدی زندگی میں نافرمانیوں کا خمیازہ بھگتنے کا معاملہ اپنی جگہ مسلمہ ہے۔