The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 30 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ریشن میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف احتجاج جاری، خواتین بھی سراپا احتجاج، چترال مستوج شندور روڈ 24 گھنٹے سے بند

Chitral Times

ریشن میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف احتجاج جاری، خواتین بھی سراپا احتجاج، چترال مستوج شندور روڈ 24 گھنٹے سے بند

ریشن میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف احتجاج جاری، خواتین بھی سراپا احتجاج، چترال مستوج شندور روڈ 24 گھنٹے سے بند

ریشن میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف احتجاج جاری، خواتین بھی سراپا احتجاج، چترال مستوج شندور روڈ 24 گھنٹے سے بند

۔
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بجلی کے بھاری اور مبینہ اضافی بلوں کے خلاف ریشن کے مقام رمداس چوک میں جاری احتجاج 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ختم نہ ہو سکا، جس کے باعث چترال شندور روڈ بدستور ٹریفک کے لیے بند ہے اور دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

مظاہرین نے بجلی کے بلوں میں مبینہ اضافی اور ناجائز چارجز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چترال شندور روڈ کو بند کر رکھا ہے۔اور رات کو بھی دھرنا جاری رہا،  احتجاج ختم کرانے اور شاہراہ کھلوانے کے لیے پولیس کی جانب سے کوشش کی گئی، تاہم مظاہرین کے شدید ردعمل کے باعث سڑک کھلوانے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔

صورتحال اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب احتجاج میں خواتین بھی بڑی تعداد میں پہنچ گئیں اور احتجاجی مقام پر مورچہ سنبھال لیا۔ خواتین کی شرکت کے بعد انتظامیہ کے لیے احتجاج ختم کرانا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

احتجاجی جلسے کے دوران صوبائی حکومت اور منتخب نمائندگان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے اور مبینہ ناجائز چارجز نے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور غریب عوام کے لیے بھاری بل ادا کرنا ممکن نہیں رہا۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور بجلی کے بلوں کے معاملے پر انہیں ریلیف فراہم نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

احتجاجی شرکاء نے اس امر پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی چترال میں موجود ہونے کے باوجود تاحال ریشن نہیں پہنچیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ منتخب نمائندگان فوری طور پر احتجاجی مقام پر پہنچ کر عوام کے مسائل سنیں اور بجلی کے بلوں کے معاملے کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور منتخب نمائندگان عوامی مسائل سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں مبینہ اضافی چارجز کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے، بلوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور متاثرہ صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب چترال شندور روڈ کی مسلسل بندش کے باعث چترال اور اپر چترال کے درمیان ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہے۔ شاہراہ بند ہونے کے باعث مسافروں، مریضوں، طلبہ اور دیگر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دونوں اطراف گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔

عوامی حلقوں نے انتظامیہ اور احتجاجی مظاہرین دونوں پر زور دیا ہے کہ مسئلے کا فوری اور پُرامن حل تلاش کیا جائے تاکہ ایک اہم شاہراہ کی مسلسل بندش سے عام شہریوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

اخری اطلاع کے مطابق مسافروں کی مشکلات کے پیش نظر شام چھ بجے روڈ  ایک گھنٹے کیلئے کھول دیا گیاتھا ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا اور دھرنا جاری ہے۔

chitraltimes Reshun protest for electricity bill 1 chitraltimes Reshun protest for electricity bill 2 chitraltimes Reshun protest for electricity bill 3 chitraltimes Reshun protest for electricity bill 4

chitraltimes Reshun protest for electricity bill 5

chitraltimes Reshun protest for electricity bill 6

chitraltimes reshun protest continue at night