گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کےپرنسپل پروفیسر سراج محمد (مرحوم ) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

File Photo: Late Principal Siraj Muhammad
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے پرنسپل، پروفیسر سراج محمد (مرحوم)، کی یاد میں ایک پروقار تعزیتی ریفرنس کالج ہال میں منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ، طلبہ و طالبات، مرحوم کے صاحبزادوں اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت مولانا نور شاہدین، لیکچرر اسلامیات، نے حاصل کی، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ مولانا سلمان یوسف، لیکچرر اسلامیات، نے نہایت دلنشین انداز میں پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر عبداللہ شہاب نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب میں تعزیتی کلمات اور مرحوم کی خدمات و اوصاف پر روشنی ڈالنے کے لیے متعدد مقررین نے خطاب کیا، جن میں ریٹائرڈ پرنسپل ضیاء الدین، ریٹائرڈ پرنسپل افتخار، سابق پرنسپل پروفیسر ممتاز حسین، سابق پرنسپل پروفیسر ایوب زرین، پروفیسر افضل امان، پروفیسر کریم اللہ، سابق پرنسپل پروفیسر قاضی ظہور الدین، پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالج چترال پروفیسر مسرت جبین، پرنسپل گرلز کالج دروش پروفیسر عائشہ، پروفیسر آصفی، سمیع الدین رئیس، معروف دانشور و محقق ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، صدر کپلا پروفیسر نوید اقبال اور پرنسپل گورنمنٹ کالج چترال پروفیسر ضیاء الحق شامل تھے۔
مقررین نے مرحوم کی گراں قدر تعلیمی خدمات، اخلاقی عظمت، علم و عمل سے وابستگی، طلبہ سے شفقت اور اصول پسندی کو زبردست انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے مرحوم کی وفات کو تعلیمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر پروفیسر مفتی عتیق الرحمن نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے۔ اس دوران محفل پر رقت طاری رہی، ہر آنکھ اشکبار اور ہر چہرہ غمزدہ نظر آیا۔
اس موقع پر کالج کی مسجد میں خصوصی قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ اور عملے نے شرکت کی۔ اساتذہ کی جانب سے نمازِ جمعہ کے بعد طلبہ کے لیے طعام کا بھی اہتمام کیا گیا، جو مرحوم سے محبت اور ان کی یاد کو تازہ کرنے کا عملی اظہار تھا۔
یہ تعزیتی ریفرنس نہ صرف ایک شاندار استاد، عظیم راہنما اور شفیق انسان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع تھا بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان وفا، احترام اور علم دوستی کے مضبوط رشتے کا پیغام بھی تھا۔


