عیدالاضحیٰ پر خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا غیرمعمولی رش، تین دنوں میں 9 لاکھ 32 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد، دیر لواری ٹنل تک تقریبا 85 ہزار سیاحوں نے قدرتی مناظرسے لطف اُٹھایا
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) عید الاضحیٰ کے موقع پر 7 جون سے 9 جون 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر سوات کے علاقے میں سیاحوں کی بڑی تعداد نے رخ کیا۔ سوات میں موجود مشہور سیاحتی مقامات مدین، بحرین اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 288,424 ملکی سیاحوں نیسیر کی، جبکہ 63 غیر ملکی سیاح بھی ان حسین وادیوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عید کی چھٹیوں میں سوات پاکستانی سیاحوں کے لیے ایک اہم اور پرکشش مقام رہا۔ صوبہ بھر کے مختلف سیاحتی مقامات پر کل 9 لاکھ32 ہزار سے زائد سیاحوں نے رخ کیا۔ گلیات میں 1 لاکھ 77 ہزار، ناران کاغان میں 1 لاکھ 68 ہزار، مالم جبہ میں 1 لاکھ 60 ہزار، اور دیر اپر میں 85 ہزار سیاحوں نے قدرتی مناظر سے لطف اٹھایا۔

یہ اعداد و شمار پولیس و لیویز چیک پوسٹس، ٹورازم پولیس، اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے فیلڈ افسران کی مدد سے مرتب کیے گئے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور اور مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی ہدایات پر سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ پارکنگ، سیکیورٹی، رہنمائی اور طبی امداد کے مؤثر انتظامات کو سیاحوں نے سراہا۔ ٹورازم پولیس کے نوجوان اہلکاروں نے سیاحوں کی مثالی خدمت انجام دیں، جبکہ محکمہ سیاحت کی ہیلپ لائن 1422 چوبیس گھنٹے فعال رہی۔ضم شدہ اضلاع جیسے خیبر اور باجوڑ میں بھی بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد نے ان علاقوں کی ابھرتی سیاحتی ترقی کو اجاگر کیا۔ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی نے سیاحتی انتظامات، نگرانی اور سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔دریں اثناء مشیر سیاحت زاہد چن زیب نے کہا کہ سیاحوں کا اعتماد ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت اور کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی صوبے کو ایک محفوظ، جدید اور عالمی معیار کا سیاحتی مرکز بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دیر اپر تک آئے ہوئے پچھاسی ہزار سیاح دیر سے ہوتے ہوئے لواری ٹنل تک سیر کی اور ان میں سے اکثریت لواری ٹنل کے دونوں اطراف تصاویر بنانے کے بعد شاید سڑکوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر واپس ہوگئے ہیں، کیونکہ یہ پچاسی ہزار میں سے نصف بھی چترال میں داخل نہیں ہوئے ہیں،


