پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کا تیزی سے پھیلتا ہوا تشویشناک بحران – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی (این ایف سی) ایوارڈ کے نفاذ کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اختیارات اور وسائل کی صوبوں کو منتقلی سے عوامی فلاح و بہبود، بالخصوص صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری آئے گی، مگر بدقسمتی سے ڈیڑھ دہائی گزرنے کے باوجود ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں اور عملی اقدامات کے مابین ایک وسیع خلیج برقرار ہے۔ اس وقت پاکستان ایک خاموش مگر تباہ کن عوامی صحت کے بحران سے دوچار ہے؛ سیاسی کشیدگی اور معاشی عدم استحکام کے شور میں ایچ آئی وی (HIV/AIDS) کا تیزی سے پھیلتا ہوا عفریت ملک کے سماجی تانے بانے کو کھوکھلا کر رہا ہے، جس کے اثرات اب عام گھرانوں تک پہنچ چکے ہیں۔
نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (NACP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2025 تک پاکستان میں 84,421 ایچ آئی وی کیسز رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 60,785 مریض 98 اے آر ٹی (Antiretroviral Therapy) مراکز کے ذریعے علاج حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز کے تخمینے اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ عالمی اداروں کا ماننا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد 3 لاکھ 50 ہزار تک ہو سکتی ہے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد افراد اپنی تشخیص سے ہی نابلد ہیں۔ یہ شماریاتی تضاد نہ صرف کمزور سرویلنس سسٹم اور ناقص ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کی غمازی کرتا ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بیماری خاموشی سے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ یکم دسمبر 2025 کو عالمی یومِ ایڈز کے موقع پر عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ نے یہ تنبیہ کی کہ گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان میں نئے کیسز کی شرح میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2010 میں 16 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 48 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان کا شکار ہے۔ وزارتِ قومی صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک اسلام آباد میں 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے؛ 2025 میں 498 اور 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں 120 کیسز کا اندراج اس امر کا ثبوت ہے کہ وائرس شہری مراکز میں مسلسل پھیل رہا ہے۔ متاثرین میں 64 فیصد بالغ مرد، جبکہ ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں پر بھی مشتمل ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وائرس اب مخصوص گروہوں سے نکل کر وسیع سماجی نیٹ ورک اور خاندانوں تک پہنچ چکا ہے۔
ماضی میں ایچ آئی وی کو محدود اور مخصوص خطرے سے دوچار گروہوں جیسے منشیات کے عادی افراد،خواجہ سرا برادری یا جسم فروشی میں ملوث لوگوں تک سمجھا جاتا تھا، مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ وائرس کا عام آبادی، خواتین اور بچوں میں منتقل ہونا تیزی سے وبائی شکل اختیار کر رہا ہے۔ بچوں میں کیسز کی تعداد، جو 2010 میں 530 تھی، 2023 میں بڑھ کر 1800 ہو گئی، جس میں پنجاب کی تحصیل تونسہ کا واقعہ ایک ہولناک مثال ہے جہاں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 331 بچے ایک ہسپتال میں بار بار استعمال ہونے والی آلودہ سرنجوں کے باعث وائرس کا شکار ہوئے۔ یہ سانحہ طبی شعبے میں انفیکشن کنٹرول کے کمزور نظام، غیر تربیت یافتہ عملے اور بنیادی حفاظتی اصولوں کی عدم پابندی کو بے نقاب کرتا ہے۔
اس بحران کے پھیلاؤ میں غیر محفوظ انجیکشنز، آلودہ سرنجوں کا استعمال اور غیر معیاری خون کی منتقلی جیسے عوامل سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں فی کس انجیکشن کے استعمال کی شرح دنیا میں بلند ترین ممالک میں شامل ہے، جن میں سے اکثر غیر ضروری ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، منشیات خاص طور پر میتھ ایمفیٹامین/آئس کے استعمال میں اضافہ اور اس سے منسلک غیر محفوظ جنسی رویے بھی وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ماں سے بچے کو وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے محض 14 فیصد حاملہ خواتین کو طبی امداد کی دستیابی یہ بتاتی ہے کہ ہمارے بنیادی مراکزِ صحت اس بحران کے سامنے کتنے غیر فعال ہیں۔ اگرچہ 2013 سے 2024 کے دوران علاج حاصل کرنے والوں کی تعداد 6500 سے بڑھ کر 55,500 ہوئی ہے، لیکن صرف 21 فیصد متاثرین کی تشخیص اور 7 فیصد میں وائرس کا کنٹرول ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ابھی بھی ہدف سے کوسوں دور ہیں۔
ایچ آئی وی کا مسئلہ صرف طبی نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی اور معاشی اثرات بھی ہیں۔ سماجی بدنامی کے خوف سے ٹیسٹ کروانے سے گریز، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو درپیش مشکلات، اور معاشی طور پر فعال آبادی کا متاثر ہونا مستقبل کے انسانی سرمائے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ 2030 تک ایڈز کے خاتمے کا عالمی ہدف حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو ردعمل دکھانے والی (Reactive) پالیسی ترک کر کے ایک فعال (Proactive) اور مربوط قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر سکریننگ، طبی ضابطہ اخلاق کا نفاذ، عوامی آگاہی اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مراکز کا قیام ناگزیر ہے۔ ایڈز خاموشی سے پھیلتا ہے، مگر اس کے اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔ اگر آج وفاقی اور صوبائی اداروں نے متحد ہو کر فوری اقدامات نہ کیے، تو یہ بحران ہمارے قابو سے باہر ہو جائے گا۔
