کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ ہم کیوں زندہ ہیں؟ – اقبال عیسیٰ خان
کتنے لوگ ہیں جنہوں نے واقعی اپنی زندگی کے مقصد اور وژن کو دریافت کیا ہے؟ یہ سوال سادہ ضرور ہے، مگر اس کے اندر چھپی گہرائی انسان کو خود اپنے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ ہم میں سے اکثر زندگی کو یوں جیتے ہیں جیسے یہ پہلے سے لکھی ہوئی کوئی اسکرپٹ ہو۔ تعلیم حاصل کرو، نوکری ڈھونڈو، گھر بساؤ اور پھر وقت کے ساتھ بہتے چلے جاؤ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے سفر میں ہم خود کہاں ہیں، ہماری پہچان کیا ہے، اور ہم اس دنیا میں آئے کیوں تھے۔
انسان محض سانس لینے کا نام نہیں۔ انسان ہونا ایک ذمہ داری ہے، ایک شعوری عمل ہے۔ وژن وہ روشنی ہے جو اندھیرے راستوں میں سمت دیتی ہے، اور مقصد وہ قوت ہے جو تھکے قدموں کو دوبارہ چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ بدقسمتی سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وژن کی تلاش سے پہلے ہی دوسروں کے خوابوں میں قید ہو جاتی ہے۔ والدین کی خواہش، معاشرے کا دباؤ، یا سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی وقتی کامیابیوں کا فریب، سب مل کر نوجوان ذہن کو اس کے اصل سوال سے دور کر دیتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ غیر معمولی کامیابیاں ہمیشہ اُن لوگوں نے حاصل کیں جنہوں نے خود سے یہ مشکل سوال پوچھنے کی ہمت کی کہ میں کون ہوں اور میں کیا بننا چاہتا ہوں۔ نیلسن منڈیلا نے جوانی میں یہ طے کر لیا تھا کہ اُن کی زندگی کا مقصد صرف ذاتی آزادی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کو وقار دلانا ہے۔ تین دہائیوں کی قید بھی اُن کے وژن کو توڑ نہ سکی، کیونکہ مقصد مضبوط ہو تو حالات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح اسٹیو جابز نے ٹیکنالوجی کو محض مشین نہیں بلکہ انسانی تخلیق کا اظہار بنایا، کیونکہ اُن کا وژن منافع سے آگے انسان اور خوبصورتی تک جاتا تھا۔
یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وژن دریافت نہ کرنا سب سے بڑا نقصان ہے۔ جس قوم کے نوجوان مقصد کے بغیر ہوں، وہ ہجوم تو بن سکتی ہے مگر تاریخ نہیں بنا سکتی۔ وژن انسان کو ہجوم سے نکال کر صفِ اوّل میں کھڑا کرتا ہے۔ مقصد واضح ہو تو فیصلے آسان ہو جاتے ہیں، ترجیحات خود بخود ترتیب پا لیتی ہیں، اور زندگی محض گزارنے کا نام نہیں رہتی بلکہ بنانے کا عمل بن جاتی ہے۔
پیشہ ورانہ زندگی میں بھی وہی افراد آگے بڑھتے ہیں جو اپنے کام کو صرف روزگار نہیں بلکہ مشن سمجھتے ہیں۔ ایک استاد جو یہ جانتا ہے کہ وہ نسلوں کی تعمیر کر رہا ہے، اور ایک ڈاکٹر جو مریض کو صرف کیس نہیں بلکہ انسان سمجھتا ہے، یہی لوگ خاموشی سے انقلاب برپا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے اصل کامیابی مہنگی گاڑی یا بڑی تنخواہ نہیں، بلکہ یہ شعور ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں، اس کی کوئی معنویت ہے۔
سوال وہی رہتا ہے۔ آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے خاموشی سے بیٹھ کر خود سے یہ پوچھا ہو کہ میری زندگی کا وژن کیا ہے، اور میں اس دنیا کو کیا دے کر جانا چاہتا ہوں؟ یہ سوال آج نہیں تو کل آپ کے دروازے پر دستک دے گا۔ بہتر یہ ہے کہ ہم خود اسے خوش آمدید کہیں، کیونکہ جس دن انسان اپنے مقصد کو پہچان لیتا ہے، اُسی دن وہ واقعی زندہ ہونا شروع کرتا ہے۔

