سوال کریں، لیکن پہلے خود سے! – بی بی آمِنہ نگار
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے اور اُسے اپنے وجود کی اہمیت کو سمجھنے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرمائی ہے۔ انسان اپنے آپ کو تبھی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے جب اس کے اندر بصیرت اور خود شناسی کی طلب موجود ہو۔ مگر یہ بصیرت حاصل کرنا آسان نہیں، کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذات کی گہرائی میں جھانکے، خود کا جائزہ لے اور اپنی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
خود کو جاننے کا ایک اہم ذریعہ اپنے آپ سے سوالات کرنا ہے۔ جتنے زیادہ سوالات آپ خود سے کریں گے، اتنا ہی زیادہ آپ اپنی شخصیت، سوچ اور احساسات کو بہتر طور پر جان سکیں گے۔
ذیل میں کچھ اہم سوالات دیے گئے ہیں جو آپ کو اپنی ذات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں:
میں کون ہوں؟
اس سوال کا جواب صرف نام، عمر، اور پسند و ناپسند جاننے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی شخصیت کی گہرائی میں اتریں۔ جب آپ خود سے بار بار سوال کریں گے تو آہستہ آہستہ اپنی اصل شناخت اور شخصیت کے مختلف پہلو آپ پر واضح ہوتے جائیں گے۔
میرے اندر وہ کون سی خوبیاں ہیں جو مجھے دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں؟
اپنی خوبیوں سے آگاہی انسان کو نہ صرف خود اعتمادی فراہم کرتی ہے بلکہ اس کی مثبت سوچ کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ ایسی سوچ نہ صرف خود انسان کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے بلکہ دوسروں پر بھی اچھا اثر ڈال سکتی ہے۔=
میری وہ کون سی خامیاں ہیں جو میری زندگی کو بہتر بنانے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں؟
اکثر انسان اپنی خوبیوں کو جلدی پہچان لیتا ہے، لیکن اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ بعض اوقات بار بار سوچنے کے باوجود بھی انسان اپنی کمزوریوں کو نظرانداز کر دیتا ہے کیونکہ وہ خود کو کامل سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ہوتا ہے۔ اپنی خامیوں کو جاننے کے لیے خود سے سوالات کرنا ضروری ہے تاکہ انسان اپنے آپ کو بہتر بنا سکے۔
میں اپنے آس پاس کس قسم کے لوگوں کو پسند کرتا/کرتی ہوں؟
یہ سوال انسان کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ زیادہ ذہنی ہم آہنگی محسوس کرتا ہے۔ ایسے افراد کی عادات اور سوچ کا مشاہدہ کرکے انسان اپنی سوچ کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں سے وہ فاصلہ رکھنا چاہتا ہے، اُن کی خصوصیات کا تجزیہ کرکے وہ اپنی ترجیحات واضح کر سکتا ہے۔ یہ عمل نئے خیالات کے در کھولتا ہے اور خود کو بدلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
کیا میرے فیصلے اور میری اقدار آپس میں مطابقت رکھتے ہیں؟
کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا وہ فیصلہ آپ کی اقدار سے متصادم تو نہیں؟ اگر فیصلے آپ کے اصولوں سے میل نہیں کھاتے تو وہ دیرپا اور مثبت اثر نہیں چھوڑیں گے۔ لہٰذا فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور اپنے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے چاہئیں۔
اپنے مستقبل کے بارے میں میری کیا منصوبہ بندی ہے اور میں نے اس کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟
مقاصد کے بغیر زندگی بے سمت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اپنے مستقبل کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔ ایسی منصوبہ بندی ہی آپ کو اپنے اہداف کے حصول میں رہنمائی فراہم کرتی ہے اور زندگی کو بامقصد بناتی ہے۔
جب انسان خود سے سوال کرتا ہے اور اپنی ذات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ دوسروں سے سوال کرنے یا رائے دینے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے۔ وہ اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنے سے گریز کرتا ہے اور کسی سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ سب اس کے خیالات اور انداز سے اتفاق کریں۔ وہ اختلافِ رائے کو تسلیم کرتا ہے اور دوسروں کے نظریات کا احترام کرتا ہے۔
بی بی آمِنہ نگاربونی اپر چترال
