قاضی القضاء ریاستِ سوات: ولی احمدؒ المعروف بہ سنڈاکئی مُلّا – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
سوات کی تاریخ میں ولی کامل، قطب الارشاد، مجاہدِ ملت اور جرنیلِ جہادِ آزادی، سنڈاکئی مُلّا صاحب ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہوں نے دینی، سیاسی، اصلاحی اور عسکری میدانوں میں گہرے نقوش چھوڑے۔ وہ کوہستانی مُلّا اور فقیر کے نام سے بھی شہرت رکھتے تھے۔ اُن کی زندگی جہاد، علم، روحانیت اور ریاستی تشکیل کی ایک ایسی داستان ہے جو آج بھی سوات کے اجتماعی شعور میں زندہ ہے۔ اُن کا اصل نام ولی احمد تھا اور وہ 1831ء میں ضلع شانگلہ کے بلند پہاڑی علاقے سنڈاکئے کے قصبے ’’برکلے‘‘ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد مولانا عبدالحمید ایک صاحبِ علم و تقویٰ عالمِ دین تھے جو گاؤں کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ والدہ خضراء بی بی کا انتقال ولی احمد کے بچپن میں ہی ہو گیا، جس کے بعد والد نے دوسری شادی کی۔ اس سے دو بیٹے ابراہیم اور محمود پیدا ہوئے۔ تینوں بھائیوں میں سے صرف ابراہیم نے نکاح کیا، اور انہی کی نسل آج بھی سنڈاکئے میں آباد ہے۔
سنڈاکئی مُلّا کا نسبی تعلق سترہویں صدی کے مشہور مجاہد محمد اکبر شاہ المعروف بہ اخوند سالاک سے تھا۔ اخوند سالاک نے شمالی پاکستان میں اسلام کی ترویج و اشاعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اُن کا سب سے نمایاں کارنامہ ڈوما قوم کے خلاف کامیاب جہاد تھا، جس میں اُنہوں نے یوسفزئی سردار بہاکو خان کے ساتھ مل کر کفار کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا اور دشمن کو شکستِ فاش دی۔ اُنہوں نے مردان، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، ہزارہ اور گلگت جیسے علاقوں میں اسلام کی اشاعت و ترویج میں اہم خدمات انجام دیں۔ اخوند سالاک نے نہ صرف تبلیغِ دین بلکہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ اُن کا مزار شانگلہ کے قصبے کابلگرام میں واقع ہے اور اُن کی نسل آج بھی وہاں موجود ہے۔ سنڈاکئی مُلّا(سنڈاکئے مْلّا ) انہی کی نسل سے تھے، جنہوں نے اپنے آبا و اجداد کی روحانی اور جہادی روایت کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے ایک نئی جہت عطا کی۔
سنڈاکئی مُلّا نے بچپن میں سوتیلی ماں سے اختلاف کے باعث مسجد میں قیام کیا اور دینی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے۔ بعد ازاں وہ ہندوستان کے مشہور دینی ادارے دارالعلوم دیوبند گئے، جہاں اُنہوں نے ظاہری و باطنی علوم حاصل کیے۔ حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آئے اور اپنی زندگی اصلاحِ معاشرہ، تبلیغِ دین اور جہاد کے لیے وقف کر دی۔ اُس وقت قبائلی معاشرے میں بدعات، رسوم اور تعصبات کا غلبہ تھا۔ سنڈاکئی مُلّا نے اُن کے خلاف بھرپور تحریک چلائی۔ اُن کی اصلاحی کوششیں صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ کردار کے غازی تھے۔ اُنہوں نے دارالعلوم رحمانیہ تہکال پشاور اور کالو خان (صوابی) میں مدارس قائم کیے۔ ان مدارس کی مالی معاونت کے لیے اُنہوں نے سوات میں لکڑی کا کاروبار شروع کیا۔ انگریزوں کے خلاف تحریک بھی ساتھ ساتھ چلائی۔ اُن کی شخصیت میں روحانیت، علم، قیادت اور عملی جہاد کا حسین امتزاج تھا، جس نے اُنہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت عطا کی۔
1915ء میں نوابِ دیر کے ظلم و ستم سے تنگ آکر سوات کے قبائل نے سنڈاکئی ملا کی قیادت میں متحد ہو کر دیر کی افواج کو شکست دی۔ اِس کامیابی کے بعد سوات کے لوگوں نے اُن کی تجویز پر سید عبدالجبار شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ سنڈاکئی مْلّا کو ریاست کا قاضی القضاء مقرر کیا گیا۔ اُنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا، جس میں سوات، بونیر اور دیگر قبائل نے لبیک کہا۔ چک درہ اور ملاکنڈ پر حملے کیے گئے، لیکن رسد کی کمی کے باعث مجاہدین پسپا ہو گئے۔ ادین زئی مسئلہ کے دوران سنڈاکئی مُلّا نے انگریز حکومت کے خطوط پھاڑ کر جہاد کی تلقین کی۔ عبدالجبار شاہ نے انگریزوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا، لیکن سنڈاکئی مُلّا کی غیر موجودگی نے اُن کی حکومت کو کمزور کر دیا۔ انگریزوں نے سوات بالا اور بونیر پر فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن 1901ء کے تحت معاشی گھیراؤ کر دیا۔
عبدالجبار شاہ کی معزولی کے بعد میاں گل عبدالودود کو سوات کا بادشاہ بنایا گیا۔ سنڈاکئی مُلّا نے اُن کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیا، لیکن بعد میں عبدالودود نے اُن کے اثر و رسوخ سے حسد محسوس کیا۔ اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے سنڈاکئی مُلّا کو سوات سے نکالنے کی سازشیں کی گئیں۔ بادشاہ نے محسوس کر لیا تھا کہ ریاست میں ایک پیر اور ایک حاکم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اِس لیے اُس نے سنڈاکئی مُلّا کے اثر کو ختم کرنے کے لیے تطہیری مہم چلانے پر مجبور کیا۔ کہا جاتا ہے کہ باجوڑ کے لوگوں نے سنڈاکئی مُلّا کو اپنے پاس آنے کی دعوت دی اور اُنہیں بادشاہ بنانا چاہا، لیکن اُنہوں نے نکار کر دیا۔ سنڈاکئی مُلّا نے عبدالودود کی طرف سے سوات پر سے انگریز جہازوں کی پروازوں کی اجازت دینے کی مخالفت کی اور پُراسرار سرگرمیوں میں ملوث رسالدار روخان الدّین سے خفیہ بات چیت کی۔ آخرکار 1920ء میں بادشاہ نے اْنہیں جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔
سنڈاکئی مُلّا کی زندگی کا آخری دور دیر میں گزرا، جہاں اُنہوں نے عبدالودود کے خلاف قبائل کو اُبھارنے کی کوشش کی، لیکن نواب نے دیر میں اُنکی موجودگی کو صرف دباؤ کے طور پر استعمال کیا۔ 6 فروری 1927ء کو پائندہ خیل کے علاقے کوہان میں اُن کی وفات ہوئی۔ سنڈاکئی مُلّا کا مزار وہیں واقع ہے۔ اُن کی وفات کے بعد نوابِ دیر کی طرف سے سوات پر حملے کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے۔ عبدالودود نے صرف سنڈاکئی مُلّا ہی کو جلاوطنی پر مجبور نہیں کیا بلکہ اُن دیگر تمام پیروں کو بھی سوات سے نکال باہر کیا جو عوام پر سیاسی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ سنڈاکئی مُلّا کی وفات کے بعد سوات میں ایک دور کا اختتام ہوا، لیکن اُن کی جدوجہد، اخلاص اور قربانیوں کی گونج آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔
سنڈاکئی مُلّا کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جو اصلاح، علم، جہاد اور ریاستی تشکیل کے عناصر کو یکجا کرتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک ولی اللہ تھے بلکہ ایک سیاسی مفکر، مجاہد اور قوم کے رہنما بھی تھے۔ اُن کی خدمات کو تاریخِ سوات میں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔ اُن کے حالات، واقعات اور خدمات کو دینی، علمی، سیاسی اور ادبی مجلہ ’’راہِ وفا‘‘ کراچی جولائی 2004ء میں تفصیل سے قلمبند کیا گیا ہے۔ اسی مجلے میں اُن کا نسبی تعلق مشہور عالم، فقیہہ، مؤرخ، غازی اور صاحبِ تصنیف بزرگ حضرت اخوند سالاکؒ سے بتایا گیا ہے، جو اس عظیم شخصیت کی زندگی پر تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی حوالہ ہے۔ سنڈاکئی مُلّا، یا کوہستان مُلّا، ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
