The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 11 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہندوکش کے دامن سے ۔ قصاب اور مرغیاں! ۔ تحریر : عبد الباقی

Chitral Times

ہندوکش کے دامن سے ۔ قصاب اور مرغیاں! ۔ تحریر : عبد الباقی

ہندوکش کے دامن سے ۔ قصاب اور مرغیاں! ۔ تحریر : عبد الباقی

ہندوکش کے دامن سے ۔ قصاب اور مرغیاں! ۔ تحریر : عبد الباقی

قصاب جب پنجرے سے مرغیاں نکال کر ذبح کرتا ہے تو باقی مرغیاں یہ سوچ کر خوش ہوتی ہیں کہ ہماری جان تو بچ گئی ہے، حالانکہ ان کی یہ خوشی عارضی ہوتی ہے۔ ان کی باری بھی ضرور آنی ہے، چاہے اس میں چند گھنٹے لگیں یا چند دن۔ وہ کسی بھی وقت قصاب کی چھری تلے آ سکتی ہیں۔

آج امتِ مسلمہ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ آج اگر ایران دشمنوں کے نرغے میں ہے تو کل کسی دوسرے اسلامی ملک کی باری آ سکتی ہے۔ جب عراق پر حملہ ہوا تو دیگر اسلامی ممالک کے حکمران اور عوام یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ وہ محفوظ ہیں اور جو کچھ عراقیوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ ان کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ عراق پر وحشیانہ بمباری کر کے لاکھوں بے گناہ شہریوں کو شہید کیا، شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا، اپنی مرضی کے حکمران مسلط کیے اور تیل کے وسیع ذخائر پر قبضہ جما لیا۔

اس وقت اسلامی ممالک کی جانب سے نہ کوئی مؤثر مزاحمت سامنے آئی اور نہ ہی بھرپور مذمت کی گئی۔ بعض پڑوسی ممالک میں تو اس صورتحال پر خوشی کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس رویے نے دشمن قوتوں کے حوصلے مزید بڑھا دیے اور دیگر اسلامی ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا ان کے لیے مزید آسان ہو گیا۔

سن 2001 میں امریکی سرپرستی میں متعدد ممالک نے افغانستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے حملہ کیا، طالبان حکومت کا خاتمہ کیا اور اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کی۔ اس وقت طالبان قیادت نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے مدد کی اپیل کی، مگر بیشتر اسلامی ممالک نے مدد کرنے کے بجائے دشمن قوتوں کی سہولت کاری کی، جبکہ عوام خاموش تماشائی بنے رہے۔

تقریباً بیس سال تک افغانستان میدانِ جنگ بنا رہا۔ بے سروسامان مگر غیور افغان عوام نے بے شمار جانوں کی قربانی دے کر بالآخر امریکہ کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

افغانستان کے بعد دشمن قوتوں نے لیبیا میں مداخلت کی، معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ کیا، انہیں عبرتناک انجام سے دوچار کیا اور ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا۔ اس کے بعد تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس موقع پر بھی مسلم دنیا کی جانب سے کوئی مؤثر ردِعمل سامنے نہ آیا۔

جب دشمن قوتوں کو یقین ہو گیا کہ مسلم ممالک مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، اندرونی اختلافات کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہے، تو امریکی سرپرستی میں اسرائیل کو غزہ میں بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی کی جرات ہوئی۔ تقریباً پچھتر ہزار مسلمانوں کو شہید، لاکھوں کو زخمی اور غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے بعد اسرائیل نے ایران کی جانب توجہ دی۔

اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران پر حملے کیے۔ چونکہ ایران اپنے دشمنوں کے عزائم سے پہلے ہی آگاہ تھا اور طویل اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا رہا تھا، اس لیے اس نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا۔ اگرچہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے کئی اہم افراد شہید ہوئے، لیکن وہ اپنے اصل مقصد میں بری طرح ناکام رہے۔

جب امریکہ اور اس کے اتحادی کئی اسلامی ممالک کی خودمختاری اور عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے وہاں اپنی مرضی کے حکمران مسلط کر رہے تھے اور ان کے وسائل پر قبضہ جما رہے تھے، تو بھارت بھی خود کو جنوبی ایشیا کا چوہدری سمجھتے ہوئے انہی پالیسیوں پر چلنے لگا۔

بالآخر پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر کے مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان پر اچانک فضائی حملے کیے۔ افواجِ پاکستان نے فوری، مؤثر اور تیز رفتار جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اسے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کامیاب کارروائی نے عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور برتری کو نمایاں کیا۔ دنیا نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے بروقت اور مؤثر استعمال کو سراہا۔

جب مئی 2025 میں پاک-بھارت کشیدگی اپنے عروج پر تھی تو ستاون اسلامی ممالک میں سے صرف ترکیہ اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی۔ سعودی عرب اور ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جبکہ بیشتر اسلامی ممالک خاموش رہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق چند ممالک نے بالواسطہ طور پر بھارت کے ساتھ تعاون بھی کیا۔

آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک ارب اسی کروڑ ہے، لیکن باہمی اختلافات اور اتحاد کے فقدان کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر کمزور نظر آتے ہیں۔ دشمن قوتیں ہمیشہ مسلمانوں کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ جب اسلامی ممالک باہمی تنازعات کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی معاشی اور دفاعی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔

بعض اسلامی ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، لیکن وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے بجائے ظاہری ترقی اور بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر پر صرف کرتے ہیں۔ وہ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں، حالانکہ ان کی دفاعی ضروریات بڑی حد تک دوسروں پر منحصر ہیں۔

موجودہ حالات میں تمام اسلامی ممالک کو ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ادراک کرنا ہوگا۔ باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مسلم دنیا موجودہ حالات میں اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہی تو مستقبل میں اسے مزید سخت اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر اسلامی ممالک اپنے اختلافات ختم کر کے ایک مؤثر اور متحد اسلامی بلاک تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں تو دشمن قوتوں کے لیے نہ صرف ان پر حملہ کرنا مشکل ہو جائے گا بلکہ ان کی طرف بری نظر ڈالنے کی جرات بھی نہیں ہوگی۔ اس صورت میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزت اور وقار زیادہ محفوظ ہوں گے اور آنے والی نسلیں امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں گی۔