علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب ۔ تحریر: ظہیر الدین
گزشتہ دن ٹاؤن ہال میں منعقد ہ چار گھنٹوں پر محیط اس تقریب کے دوران میں قاری فیض اللہ کی قسمت پررشک کرتا رہا اور کبھی کبھی یہ رشک حسد کی سرحدوں کو بھی چھوجاتا۔رشک کیوں نہ ہواس مرد قلندر کی قسمت پر کہ لاکھوں میں ایک ان کی دعا قبول ہوئی جس میں علم کی شمع سے محبت مانگی گئی ہے۔ سکول کے دس سالوں تک ہر روز اسمبلی میں ہم جیسے ہزاروں لاکھوں یہ دعا میں مانگتے ہیں لیکن ان میں سے دعا ایک کی قبولیت کا درجہ پالیتا ہے ۔ جن کے دلوں سے دعا نہ نکلی ہو تو وہ کیوں مالامال ہو کیونکہ کسی شاعر نے بھی یہی کہا ہے کہ دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں۔ رشک کیوں نہ آئے اس مرد درویش پر جسے اللہ رب کریم نے شاعر مشرق کی اس شہرہ آفاق منظوم دعا کے ہر مصرعہ میں مانگی ہوئی مراد سے نوازا ہے۔ درد مندوں سے ضغیفوں سے محبت کرنا تو اسے کہتے ہیں کہ اس سال جب گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں جب قیامت خیز ڈیزاسٹر سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے توامدادی اشیاء روانہ کردی اور بیرون ملک دورہ ترک کرکے خود سیدھا وہاں پہنچا۔ شائد قاری صاحب ہر روز سکول اسمبلی میں دل سے یہ دعا مانگتے ہوں گے جس کے پیچھے ان کے ماں باپ کی دعائیں کارفرما ہوں گے۔
ان سوچوں کی حصار سے باہر آیاتو ٹاؤن ہا ل کے اسٹیج اور کونے کونے میں نظریں دوڑاتا رہا کہ قاری صاحب کہیں نظر آئے مگر وہ گزشتہ 23سالوں کی طرح منظر سے غائب تھے کیونکہ اللہ کا یہ نیک فرشتہ دکھاوے اور ریاکاری سے اتنا ہی پناہ مانگتا ہوگا جتنا شیطان مردود سے ورنہ ڈیزاسٹر کے دنوں میں 5کلوگرام گھی کا ڈبہ کسی متاثر کو پکڑ اکر “ڈونر صاحب”دس دس ویڈیو بناکر دنیا کے چھ براعظموں میں پہنچاتے ہیں جس کے لئے ان کے پاس سوشل میڈیا کا ایک بیڑا موجود ہوتا ہے۔ چترال میں تین دہائی سالوں سے میڈیا رپورٹر کے طور پر میں اللہ کے حضور ضرور گواہی دوں گاکہ قاری صاحب سے تعلق ہونے کے باوجود ان تیس سالوں میں کبھی کسی ایکٹویثی کی کوریج نہیں مانگی اور نہ اس کا خیال رکھتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی خوشی ولذت ہوتی ہے۔ جس کا مضبوط تعلق عرش سے ہو تو فرش والوں کے پاس انہیں دینے کے لئے کیا ہوتا ہے۔نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کا ظرف اللہ ایسے لوگوں کو دیتا ہے جس کے ایک ہاتھ سے روز ایک لاکھ اشرفی (یا موجود ہ زمانے میں ڈالر) تقسیم ہوں تو دوسرے ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوتی جنہیں اللہ رب کریم نے پھول بناکر چمن کی زینت کاساماں پیدا کردیا ہے جس کے لئے اس نے دعامانگی تھی۔
اخلاص کی اس محفل میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عابد وزیر مہمان خصوصی اور مہمان خصوصی محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم محمد خالد صدر محفل تھے جبکہ کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائرکٹر جنرل منہاس الدین اورلویر چترال لویر کے ڈی سی محمد ہاشم عظیم مہمان اعزاز تھے جو قاری صاحب کی طرف سے اسکالر شپ پروگرام کے کنوینر اور دوسرے علمائے کرام مولانا عبدالرحمن (سابق ایم پی اے) اور شیخ الحدیث مولانا حسین احمد کے ساتھ مل کر اسکالرشپ کے چیک اور اقراء ایوارڈ تقسیم کی۔
پبلک سیکٹر سکولز کی کیٹیگری میں فرسٹ پوزیشن ہولڈر رضوان اللہ ولد راشد احمد گورنمنٹ ہائی سکول سویر کو پچاس ہزار، دوسری پوزیشن ہولڈر رابیل احسان ولد احسان اللہ گورنمٹ ہائی سکول وریجون کو چالیس ہزر روپے جبکہ تیسی پوزیشن ہولڈر جمشید احمد ولد عبد الودود گورنمنٹ ہائی اسکول سکول کو تیس ہزار روپے نقد انعام اور نشان اقراء یادگاری شیلڈ سے نوازا گیا۔
جبکہ پرائیوٹ سکولز کی کٹیگری میں میں فرسٹ پوزیشن ہولڈر سیدہ فاطمہ الزہرا بنت نور الدین دی لینگ لینڈ اسکول ایک کالج چترال کو پچاس ہراز، دوسری پوزیشن ہولڈر نداء اسد بنت اسد اللہ دی لینگ لینڈ اسکول اینڈ کالج کو چالیس ہزار اور تیسری پوزیشن ہولڈرولید سیف اللہ ولد سیف اللہ بروز پبلک اسکول بروز کو تیس ہزار روپے نقد اور نشان اقراء یادگاری شیلڈ سے نوازا گیا جبکہ کالاش کمیونٹی میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر سمیر اقبال ولد غلام سرور فرنٹیر کور پبلک اسکول کو بیس ہزار روپے نقد اور نشان اقراء یادگاری شیلڈ سے نوازا گیا۔
اس پروقار تقریب میں ہر سال ایک خصوصی اعزازی شیلڈ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے کو دی جاتی ہے، اس سال یہ ایوارڈ چترال کے معروف علمی سماجی شخصیت پروفیسر اسرار الدیں کو عطا کیا گیا۔ اور انکی خدامت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔
مہمان خصوصی کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عابد وزیر اور دوسرے مقررین نے قاری فیض اللہ چترالی کی اس انیشے ٹو initiativeکی دل کھول کرتعریف کی اور دوسرن اہل ثروت کے لئے اسے قابل تقلید مثال قرار دی۔ پروگرام حسب سابق شروع سے آخر تک انتہائی سادگی کا سماں پیش کیا (جس طر ح 23سال پہلے تھی)جبکہ اس نوعیت کے پروگرامات میں اناونسمنٹ اور کمپیرنگ کے نت نئے طور طریقے اور آئٹمز پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کرنے کی تگ ودو کرتے ہیں لیکن اس پروگرام کے منتظمین شاعر کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے کہ
لوگ دیوانے ہیں بناوٹ کے
ہم سادگی لے کر کہاں جائیں

