قیس عبدالرشید: پشتون تاریخ کا عظیم معمہ – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
.
پشتون قوم اپنی بہادری، غیرت اور جفا کشی کے باعث دُنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ جہاں اِس قوم کی جرأت کے قصّے مشہور ہیں، وہیں ان کی نسل کے حوالے سے کئی ایسی داستانیں بھی زبان زدِ عام ہیں جو تاریخ اور افسانے کے سنگم پر کھڑی نظر آتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم کردار ’’قیس عبدالرشید‘‘ کا ہے، جنہیں پشتونوں کا جدِ اعلیٰ تسلیم کیا جاتا ہے۔ پشتونوں کی زبانی تاریخ میں قیس کا مقام ایک ایسے ستون کا ہے جس پر اس قوم کی مذہبی اور نسلی عمارت کھڑی ہے۔ لیکن جب علمی تحقیقی پیمانوں سے اس کا جائزہ لیتے ہیں، تو حقیقت کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔
پشتون روایات کے مطابق، قیس عبدالرشید کا تعلق بنی اسرائیل کے اُن’’گمشدہ قبائل‘‘ سے تھا جو بخت نصر کے حملوں کے بعد ہجرت کر کے غور کے پہاڑوں میں آباد ہو گئے تھے۔ داستانوں کے مطابق جب حجاز میں اِسلام کا سُورج طلوع ہوا، تو خالد بن ولید نے اہل غور کو خط لکھ کر اِسلام کی دعوت دی۔ اِس پر قیس کی سربراہی میں ایک وفد مدینہ منورہ پہنچا اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر اِسلام قبول کیا۔ روایت ہے کہ حضور ؐ نے قیس کا نام ’’عبدالرشید‘‘ رکھا اور اُنہیں ’’بطان‘‘ (پٹھان) کا لقب دیا، جسکا مطلب وہ لکڑی ہے جو جہاز کے تختوں کو جوڑے رکھتی ہے۔
اس داستان کا ایک اہم پہلو حضرت خالد بن ولیدؓ کیساتھ قیس عبدالرشید کا دہرا تعلق ہے۔ روایات کے مطابق نہ صرف خالد بن ولیدؓ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، بلکہ قیس کی شجاعت اور تقویٰ سے متاثر ہو کر اپنی صاحبزادی کا نکاح بھی اُن سے کر دیا۔ اِس طرح پشتونوں کے ہاں یہ عقیدہ راسخ ہو گیا کہ اُن کی نسل میں صحابیت کے شرف کے ساتھ ساتھ قریشی خون کی آمیزش بھی شامل ہے۔ یہ بیانیہ پشتون قبائل کو ایک ایسی لڑی میں پروتا ہے جہاں اُن کا شجرۂنسب براہِ راست اِسلام کے ابتدائی دور کے عظیم سپہ سالار اور معزز صحابی کے خاندان سے جا ملتا ہے۔
تاہم علمی تناظر میں کچھ تضادات اُبھرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ قیس عبدالرشید کا تذکرۂ سولہویں صدی سے پہلے کی کسی مستند کتاب میں کیوں نہیں ملتا؟ اِس قصے کا مفصل بیان نعمت اللہ ہروی کی ’’مخزنِ افغانی‘‘ میں ملتا ہے جو مُغلیہ دور کی تصنیف ہے۔ اِس سے قبل طبری، مسعودی یا البیرونی جیسے نامؤر مؤرخین، جنہوں نے اِس خطے کے قبائل پر تفصیل سے لکھا، قیس یا پشتونوں کے اسرائیلی ہونیکا کوئی تذکرۂ نہیں کرتے۔ اِس سے یہ علمی شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ داستان شاید بعد کے ادوار میں اپنی مذہبی اور نسلی شناخت کو معتبر بنانے کیلئے وضع کی گئی۔
لسانیات کے ماہرین بھی اِس نظریئے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ پشتو زبان ’’ہند-ایرانی‘‘ لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ بنی اسرائیل کی زبان ’’سامی‘‘ خاندان سے ہے۔ اگر پشتون واقعی اسرائیل کی نسل سے ہوتے، تو اُن کی زبان میں سامی اثرات واضح ہونے چاہیے تھے، جو کہ موجود نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں، جدید جینیاتی تحقیقات (DNA) نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ پشتونوں کے موروثی تعلقات بہ نسبت مشرقِ وسطیٰ کے گروہوں کے، وسطی ایشیا کے مقامی آریائی قبائل سے زیادہ قریب ہیں۔ یہ سائنسی شواہد قدیم اسرائیلی نظریئے کو محض ایک سماجی مفروضہ قرار دیتے نظر آتے ہیں۔
خالد بن ولیدؓ کیساتھ نسلی یا سسرالی تعلق پر بھی تاریخی سوالات موجود ہیں۔ خالد بن ولیدؓ قریش کے خاندان ’’بنو مخزوم‘‘ سے تھے، جو خالص عرب تھے۔ عربی کتب اور سیرتِ نبویؐ کے قدیم مآخذ، جو ہزاروں صحابہ کے ناموں اور وفود کی تفصیل پیش کرتے ہیں، قیس عبدالرشید یا غور سے آنیوالے کسی ایسے وفد کے ذکر سے خاموش ہیں۔ عرب مؤرخین نے ہر چھوٹے وفد کا ریکارڈ نہایت باریک بینی سے محفوظ کیا تھا، لہٰذا اِتنے اہم وفد اور نکاح کے واقعے کا قدیم عربی تاریخ میں موجود نہ ہونا اِس داستان کی تاریخی حیثیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ جب پشتونوں نے اِسلام قبول کیا، تو اُنہوں نے اپنی شناخت کو اِسلام کے ابتدائی مرکز سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہ ایک نفسیاتی اور سماجی رجحان ہے جو کئی دیگر مسلم اقوام میں بھی پایا جاتا ہے، جو اپنی جڑیں عرب یا مقدس ہستیوں سے ملانا پسند کرتی ہیں۔ ’’قیس‘‘ دراصل ایک قدیم عربی نام ہے، اور ممکن ہے کہ یہ کردار اس خطے کے کسی قدیم مقامی ہیرو اور اِسلامی تشخص کے امتزاج سے تخلیق پایا ہو تاکہ بکھرے ہوئے قبائل کو ایک مرکز پر اکٹھا کیا جا سکے اور انہیں ایک لڑی میں پرویا جا سکے جو شجاعت اور دینداری کا مرقع ہو۔
خلاصہ یہ کہ اگرچہ قیس عبدالرشید کا وجود تاریخی طور پر مستند نہیں، لیکن یہ پشتونوں کی ’’سماجی حقیقت‘‘ ضرور ہے۔ کسی قوم کی لوک داستانیں اس کی نفسیات اور اقدار کا آئینہ ہوتی ہیں۔ یہ قصہ پشتونوں میں اتحاد اور دین سے وفاداری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے کہ پشتون ایک قدیم مقامی آریائی قوم ہیں جنہوں نے اِسلام کے ابتدائی دور میں اسے گلے لگایا، اور وقت کیساتھ اپنی تاریخ کو اسلامی روایات کے سانچے میں ڈھال کر قیس عبدالرشید جیسے عظیم کردار کو اپنی شناخت کا محور بنا لیا تاکہ ان کا ماضی و حال ایک مربوط لڑی میں پرویا جا سکے۔
