تورکھو تریچ میں کشیدگی، شیڈول فور میں نام شامل کرنے کے خلاف عوامی احتجاج
اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) تورکھو اور تریچ میں جمعے کے روز فضا کشیدہ رہی، جہاں عوام نے احتجاج اور مشاورت میں دن گزارا۔ عوامی نمائندہ تحریک تورکھو تریچ روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) کے زیرِ اہتمام 19 دسمبر کو نمازِ جمعہ کے فوراً بعد تمام مساجد اور جماعت خانوں کے باہر ہنگامی عوامی اجلاس اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے، جن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
یہ احتجاج ٹی ٹی آر ایف کے چیئرمین اور معروف عوامی رہنما عمیر خلیل کا نام مبینہ طور پر غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی طریقے سے فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کے خلاف کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے علاقے کی عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جس سے علاقے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا ہے۔
عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ پولیس حکام عمیر خلیل پر لگائے گئے الزامات کے ٹھوس شواہد پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تورکھو تریچ ایک پُرامن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال علاقہ ہے، جہاں سنی اور اسماعیلی برادری برسوں سے باہمی احترام کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ مقررین کے مطابق ٹی ٹی آر ایف کی تحریک کا واحد مقصد بونی بزند روڈ کی جلد تعمیر اور شفافیت کا مطالبہ ہے، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے افراد بلا تفریق شامل ہیں۔
شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس میں تھانہ تورکھو کے گھیراؤ اور بونی میں ڈی پی او آفس کی جانب مارچ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
عوامی نمائندوں نے صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا کہ اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چند افراد کے خلاف کی جانے والی یہ کارروائی درحقیقت تورکھو اور تریچ کی ایک لاکھ سے زائد آبادی کو اجتماعی طور پر متاثر کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ عمیر خلیل کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کے بعد علاقے میں شدید ردِعمل پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لیا جائے، مبینہ جھوٹے مقدمات کا خاتمہ کیا جائے اور عوامی نمائندوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کو مزید منظم اور وسیع کیا جائے گا۔

