پیڈو چترال کے ملازمین کے ساتھ 19 سالہ ناانصافی کے خلاف عوامِ چترال کا بھرپور عوامی میمورنڈم
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) عوامِ ضلع چترال نے محکمہ پیڈو (PEDO) میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ گزشتہ انیس برس سے جاری امتیازی سلوک، مستقل تقرری سے محرومی اور غیر محفوظ مستقبل کے خلاف ایک تفصیلی عوامی میمورنڈم معزز چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ارسال کر دیا ہے۔
میمورنڈم میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ضلع چترال کے یہ نوجوان ملازمین سال 2008 میں محکمہ پیڈو میں باقاعدہ اشتہار کے ذریعے ورک چارج آسامیوں پر تعینات کیے گئے تھے، تاہم 2026 تک مسلسل انیس سال گزرنے کے باوجود انہیں تاحال مستقل نہیں کیا گیا، جس کے باعث ان کا مستقبل شدید غیر یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔
عوامی میمورنڈم میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چترال جیسے دور افتادہ، پہاڑی اور سخت موسمی حالات کے حامل علاقے میں بجلی واحد بنیادی سہولت ہے جس پر عوام کی روزمرہ زندگی کا انحصار ہے۔ طویل اور جان لیوا سردیوں میں، جب درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے بھی نیچے چلا جاتا ہے، یہی ملازمین شدید برفباری، طوفانی ہواؤں اور خطرناک راستوں کے باوجود دن رات فیلڈ میں رہ کر بجلی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔
میمورنڈم کے مطابق یہ ملازمین اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے کہیں بڑھ کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کئی کئی دن اور راتیں گھروں سے دور گزار کر، جان کو خطرے میں ڈال کر، بجلی کی لائنوں کی مرمت اور بحالی کرتے ہیں تاکہ عوام کی زندگی مفلوج نہ ہو۔ عوام نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ دورانِ ڈیوٹی ایک ملازم جان کی قربانی دے چکا ہے جبکہ متعدد ملازمین مستقل معذوری کا شکار ہو چکے ہیں، اس کے باوجود نہ مناسب حفاظتی اقدامات کیے گئے اور نہ ہی کسی حادثے کی صورت میں مؤثر سرکاری معاونت فراہم کی گئی۔
عوامی میمورنڈم میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ لواری ٹنل سے نیچے تعینات ملازمین کو مختصر مدت میں مستقل کر دیا گیا، جبکہ صرف چترال کے نوجوانوں کو مستقل روزگار کے حق سے محروم رکھا گیا، جو کھلے امتیازی سلوک اور آئین میں دیے گئے مساوی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
میمورنڈم میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف 36 ملازمین کا نہیں بلکہ 36 خاندانوں کا ہے، جن کے یہ نوجوان واحد کفیل ہیں۔ اووریج ہو جانے اور طویل سروس کے باعث اب ان کے لیے دیگر اداروں میں روزگار کے مواقع بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود یہ ملازمین فکس پے تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں، کسی قسم کی میڈیکل سہولت، رسک الاؤنس یا حادثاتی تحفظ انہیں حاصل نہیں، جبکہ علاج، سفر اور ڈیوٹی کے دوران دیگر اخراجات بھی اپنی جیب سے برداشت کرتے ہیں۔
میمورنڈم میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ ملازمین نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور لیبر کورٹ سے اپنے حق میں فیصلے حاصل کیے، تاہم محکمہ پیڈو نے اپیلوں اور تاخیری حربوں کے ذریعے انصاف کے عمل کو مسلسل روکے رکھا، جس کے باعث مقدمہ 2016 سے 2026 تک غیر ضروری طور پر طول پکڑتا رہا۔
عوامِ چترال نے معزز عدالتِ عالیہ اور صوبائی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائے، چترال کے ملازمین کو دیگر اضلاع کے برابر سروس اسٹیٹس دیا جائے، تنخواہوں، طبی سہولیات اور رسک الاؤنس میں بہتری لائی جائے اور عوامی مفاد و بنیادی سہولت یعنی بجلی کے تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس دیرینہ ناانصافی کا فوری ازالہ کیا جائے۔
عوام نے اس بات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ معزز عدلیہ اور صوبائی حکومت انسانی ہمدردی، آئینی ذمہ داری اور عوامی مفاد کے تحت ان مظلوم نوجوانوں کے حق میں جلد منصفانہ اور تاریخی فیصلہ صادر کریں گی۔

