صوبائی کابینہ اجلاس؛ ملٹری آپریشن کی مخالفت، ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں، گرینڈ امن جرگے کے 15 نکاتی ایجنڈے کی متفقہ منظوری: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں منعقد ہونے والے گرینڈ امن جرگے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں نے متفقہ طور پر پندرہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی، جس میں واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کا بھی یہی واضح اور دوٹوک موقف ہے، اور یہ عمران خان کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی، سماجی اور مشاورتی عمل کے ذریعے نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں منعقد ہونے والے امن جرگے کے تمام شرکاء بھی اس نکتے پر متفق تھے۔
وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر اس متفقہ موقف کے باوجود بند کمروں میں فیصلے کیے گئے اور یہ فیصلے صوبے پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے تمام اسٹیک ہولڈرز میں شدید تشویش پیدا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی ایک فرد یا ادارہ زور زبردستی صوبے پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا، اور ایسے اقدامات کے نتائج وہ نہیں ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے، تاہم پائیدار اور مستقل امن کے لیے ایک جامع، ہمہ گیر اور مشترکہ پالیسی ناگزیر ہے۔ ایسی پالیسی میں تمام اداروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں، قبائلی و پختون مشران اور عمائدین کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ باہمی مشاورت سے ایک مؤثر اور قابلِ قبول لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام فریق جب مل کر بیٹھیں گے تو نہ صرف مؤثر پالیسی تشکیل پائے گی بلکہ امن بھی بحال ہوگا۔ اس کے برعکس بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی مخالف ہے اور کسی صورت اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے 45ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی اراکین، چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکر ٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے کی فلاح و بہبود، انتظامی اصلاحات، سماجی تحفظ، صحت، تعلیم، نوجوانوں اور اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے بعد معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹیز) ایکٹ 2025 کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور اس قانون سے بیرون ملک پاکستانیوں کی صوبے میں جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے، سپیشل کورٹس کے قیام سے پراپرٹی کے معاملات حل ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے عملے کے لیے پولیس طرز پر“شہداء پیکج”کے ایجنڈے کو کابینہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں موجود دیگر یونیفارم فورسز کے شہداء کو بھی شامل کرنے کے لیے جامع یونیفارم پالیسی بنانے کی ہدایت دی گئی۔شفیع جان نے کہا کہ کابینہ نے اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس حیات آباد کے لیے بسوں کی خریداری کی منظوری دی جبکہ زمونگ کور کے زیرِ کفالت بچوں کے لیے بھی بسوں کا بندوبست کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ سردیوں کے پیشِ نظر محکمہ سوشل ویلفیئر کو بے گھر افراد کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے اور سیاحتی اضلاع میں سردیوں کے دوران سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں بل صفائی کے لیے محکمہ آبپاشی کو 900 ملین روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے ہدایت کی کہ بل صفائی کی مہم شفاف اور منظم انداز میں مکمل کی جائے، کیونکہ ان اقدام سے سیلاب کے ممکنہ نقصانات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے مزید حفاظتی اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی۔کابینہ نے گرینڈ کرم یوتھ کنونشن کے انعقاد کے لیے چھ ملین روپے کی منظوری دی۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نوجوانوں کو قومی اور صوبائی مسائل پر مکالمے اور مباحثے کا موقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اورا یسے اقدامات سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا۔ کابینہ نے دیگر اضلاع میں بھی ایسے یوتھ کنونشنز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں نیشنل پارکس اور وائلڈ لائف منصوبوں، ضم اضلاع میں جنگلات کے عملے اور صوبائی محتسب دفتر کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے مزید کہا کہ اس موقع پر صوبے میں موجود تمام سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے اور ان کی سالانہ مرمت پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔صوبائی کابینہ نے کیڈٹ کالج لکی مروت کو خیبر پختونخوا ایجوکیشنل اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1971 کے تحت لانے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ محکمہ ہائر ایجوکیشن میں لائبریرینز کی اپگریڈیشن کے لیے فورٹیئر فارمولے کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے دو شہریوں کے علاج میں معاونت کے تحت مالی امداد کی منظوری دی۔ صحت کے شعبے میں اسٹرکچرل ہارٹ اور کارڈیک ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لیے 448 ملین روپے، سرکاری ہسپتالوں میں ہیمو ڈائیلاسز مشینوں کی تبدیلی کے لیے فنڈز، جبکہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں ہیڈ نرسز اور کلینیکل/سینئر کلینیکل ٹیکنیشنز کی خدمات جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا منرلز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں چارانڈیپنڈنٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔

