پروٹوکول کلچر اور قرضوں کا عذاب – میری بات/روہیل اکبر
.
اگست کا مہینہ آتے ہی پاکستان کی فضا سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتی ہے گلیاں، بازار، دفاتر اور گھروں کی چھتیں قومی پرچموں سے مزین ہو جاتی ہیں ملی نغمے فضا میں گونجتے ہیں، بچے آزادی کی خوشیاں مناتے ہیں اور ہر پاکستانی اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے مگر اس جشن کے شور میں ایک خاموش سوال بھی ہر دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں شہداء، مہاجرین اور بزرگوں کی قربانیوں کا حق ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا؟پاکستان کا قیام محض ایک نئی سرحد کھینچنے کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنا تھا جہاں انصاف، مساوات، دیانت، قانون کی بالادستی اور انسانی عزت و وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہولاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، ہزاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے،
ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بچوں نے یتیمی کا دکھ سہا اور خاندان بکھر گئے مگر ان سب کے دلوں میں ایک ہی امید تھی کہ آنے والی نسلیں ایک ایسے وطن میں سانس لیں گی جہاں ظلم کے بجائے عدل، استحصال کے بجائے مساوات اور نفرت کے بجائے اخوت کا راج ہوگاجب تاریخ کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو عظمت و رفعت کی وہ داستانیں سامنے آتی ہیں جن پر آج بھی دنیا رشک کرتی ہے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی مبارک زندگی پھر خلافتِ راشدہ کا سنہری دور، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی حکمرانی اور بعد ازاں حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اقتدار خدمت کا نام ہے برتری کا نہیں اس دور میں حکمران عوام کے درمیان رہتے تھے بیت المال کو امانت سمجھتے تھے اور اپنی ذات پر رعایا کو مقدم رکھتے تھے
تاریخ گواہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے ایک خلیفہ پیوند لگے لباس میں دنیا کی عظیم ترین سلطنت چلا رہا تھا مگر اسے اپنے لباس کی نہیں بلکہ اپنی رعایا کی فکر تھی یہی وہ کردار تھا جس نے اسلام کو دلوں کا فاتح بنایاافسوس کہ آج ہم اسی تاریخ کے وارث ہونے کے باوجود اس کے عملی تقاضوں سے بہت دور دکھائی دیتے ہیں آزادی کے بعد کے کئی عشروں میں پاکستان نے دفاع، سائنس، کھیل اور دیگر شعبوں میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری اور ادارہ جاتی کمزوریاں بھی بڑھتی رہیں ان مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو مسلسل مشکل بنایا ہے آج اگر ایک مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے شام تک یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ بچوں کے لیے آٹا، دودھ اور دوائی کیسے خریدے گا متوسط طبقہ مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے جبکہ نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں یہ وہ پاکستان نہیں تھا جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کے لیے قائداعظم محمد علی جناح نے بے مثال جدوجہد کی تھی
ان تمام مسائل کے درمیان ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہماری ترجیحات درست ہیں؟ کیا قومی وسائل واقعی عوام کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں یا ان کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات، غیر ضروری مراعات اور ایسے نظام پر صرف ہو جاتا ہے جس کا بوجھ آخرکار عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے؟یہی وہ سوال ہے جو ہمیں پروٹوکول کلچر، قرضوں کے بوجھ اور قومی وسائل کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کرتا ہے تاریخ کے اوراق پر جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو عظمت اور رفعت کی وہ داستانیں سامنے آتی ہیں جن پر انسانیت آج بھی رشک کرتی ہے کائنات کے عظیم ترین رہبر، خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم کی مبارک زندگی ہمارے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے آپؐ کے بعد خلیفہ اول سے لے کر چہارم تک کا دورِ خلافتِ راشدہ دیکھیں کہیں کوئی پروٹوکول کلچر نظر نہیں آتا نہ شاہانہ کر و فر، نہ سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کا رواج اور نہ ہی عام انسانوں اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے وہ ایک ایسا دور تھا جو سادگی، عدل، خوشحالی اور بے مثال امن و سکون سے ہمکنار تھالیکن اس کے برعکس ذرا آج کے پاکستان کے حالات پر نظر ڈالیے ہم نے اس سنہری تاریخ سے کیا سیکھا؟ ہماری صورتحال یہ ہے کہ ہمارے حکمران، ہماری عدلیہ اور ہماری بیوروکریسی پروٹوکول کی فوجِ ظفر موج کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں
بم پروف گاڑیاں، درجنوں سیکیورٹی کے گارڈز اور سائرن بجاتی گاڑیاں جب سڑکوں پر نکلتی ہیں تو عام شہری کو گھنٹوں ٹریفک میں ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شاہانہ اور فرعونانہ پروٹوکول کلچر کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟جسکا جواب انتہائی تلخ ہے یہ ملک جو پہلے ہی کشکول اٹھائے دنیا بھر سے قرض پر قرض مانگ رہا ہے اسی قرض کے پیسے سے ان حکمرانوں کے پروٹوکول کا خرچ پورا کیا جاتا ہے!
ہم اپنے قومی اور بین الاقوامی اداروں سے اربوں ڈالر کے قرضے صرف اس لیے لیتے ہیں تاکہ ہماری اشرافیہ کے لیے مفت پٹرول، بلٹ پروف گاڑیاں، اور شاہانہ مراعات برقرار رہ سکیں ان آئی ایم ایف (IMF) اور غیر ملکی بینکوں کے سخت ترین شرائط پر لیے گئے قرضوں کو اتارنے کا بوجھ کس پر ڈالا جاتا ہے؟ انہی غریب اور لاچار عوام پر! بجلی کے بل ہوں، گیس کے چارجز ہوں، یا روزمرہ کے کھانے پینے کی اشیا ء سمیت ہر چیز پر ظالمانہ ٹیکس لگا کر غریب کا خون نچوڑا جاتا ہے تاکہ اشرافیہ کا پروٹوکول قائم رہے افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی عوام خرگوش کی نیند سوئی ہوئی ہے۔ وہ چپ چاپ ان کے قرضوں کے سنگین بوجھ کو اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے جا رہی ہے اور گھٹ گھٹ کر جی رہی ہے لیکن یاد رکھیے جب عوام خاموشی اختیار کر لیتی ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بند کر دیتی ہے تو حکمران اپنی مرضی اور فرعونیت پر اتر آتے ہیں۔ پھر قدرت کا قانون حرکت میں آتا ہے، اور آسمان کے فیصلے بزدل اور سوئی ہوئی قوموں کے لیے عذاب کی شکل میں نازل ہوتے ہیں۔