بونی بوزند روڈ پر تاحال کام دوبارہ شروع نہ ہوسکا، علاقے کے عوام سراپا احتجاج، شندور فیسٹول کے موقع پر روڈ بند کرنے پر مجبور نہ کیاجائے؛ رائین میں ٹی ٹی آر ایف کی کارنر میٹنگ
اپرچترال ( چترال ٹائمزرپورٹ ) بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہ ہونے اور تحریری معاہدے کے باوجود بھی اسفالٹ کی مشینیں سائیٹ پر نہ پہنچانے کے خلاف ٹی ٹی أر ایف کے زیر اہتمام رائین تورکھو میں گزشتہ روزکارنر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
جس سے ٹی ٹی أر ایف کے رہنما اور مقامی عمائدین اور منتخب بلدیاتی نمائندوں نے خطاب کیا۔
میٹنگ کے شرکا نے خبردار کیا کہ ضلعی انتظامیہ، سی اینڈ ڈبلیو خصوصاً ایکسین تورکھو اور تریچ یوسی کے ڈیڑھ لاکھ آبادی کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ شندور فیسٹول کے موقع پر بونی میں جاکر بونی شندور روڈ کو بلا کریں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نے ٹی ٹی آر ایف کے تین ممبران سے تحریری معاہدہ کیا تھا کہ عید کے فوراً بعد اسفالٹ کا کام شروع ہو جائے گا لیکن تحریری معاہدے کے باجود آج تک اسفالٹ کی مشینری سائیٹ پر نہیں پہنچائی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لوگوں کو اگر مزید مجبور کیا گیا تو وہ شندور فیسٹول سے پہلے بونی بزند روڈ دھرنا دے کر بند کریں گے اور اس کی تمام ذمہ داری، حکومت، سی اینڈ ڈبلیو اور اس کے ایکسین اور ایس ڈی او اور ڈپٹی سپیکر پر عائد ہوگی۔
عمائدین نے کہا کہ تورکھو تریچ یوسی کے لوگ نہیں چاہتے کہ وہ جشن شندور میں خللل ڈالیں بلکہ چاہتے ہیں کہ اس سالانہ میلے کا انعقاد پرامن اور اچھے طریقے سے ہو لیکن محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور اس کرپٹ حکام نے تورکھو اور تریچ کے لوگوں کو مکمل دیوار سے لگا دیا ہے اور ان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت تورکھو تریچ یوسی کے عوام سے کیے گئے ادھے درجن سے زائد تحریری معاہدوں کے باوجود 16 سال سے زیرتعمیر سڑک پر کام کی تکمیل میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔
مقررین نے خبردار کیا کہ سی اینڈ ڈبلیو کا ایکسین لوگوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ بونی میں ادارے کے دفاتر کا گھیراؤ کرے۔۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مشینیں ورک سائیٹ پر پہنچائی جائیں تاکہ تورکھو تریچ یو سی کے لوگ سڑکوں پر خوار ہونے کے بجائے شندور پولو فیسٹول میں سکون سے شریک ہوں اور اس کے کامیاب انعقاد کا حصہ بنیں۔
