مستوج بروغل روڈ کی تعمیر میں غیرمعمولی تاخیر، عوام سراپا احتجاج، حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈلائن، 16 ستمبر کے بعد بریپ سے لانگ مارچ کا اعلان
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) مستوج بروغل روڈ کی کشادگی اور پختگی میں بار بار کی تاخیر اور حکومتی و منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی کے خلاف آج مستوج کے مقام پرمستوج بروغل روڈ تحریک کے زیراہتمام ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ جلسے کی صدارت مستوج بروغل روڈ تحریک کے صدر وسابق ناظم یارخون محمد وزیر نے کی جبکہ مہمان خصوصی شہزادہ سراج الملک تھے۔
جلسے میں یارخون ویلی، لاسپور، تورکہو، بونی، پرواک اور مستوج سے بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ مقررین نے کہا کہ بروغل روڈ خطے کی ترقی اور عوامی سہولت کے لیے بنیادی ضرورت ہے مگر اس کی تعمیر میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
جلسے سے صدر محمد وزیر اور مہمان خصوصی شہزادہ سراج الملک کے علاوہ مختلف مقررین سابق ناظم لاسپور سلیمان شاہ،سابق امیدوار صوبائی اسمبلی سہروردی، سابق ناظم ذوالفی ہنر شاہ، ممبرتحصیل کونسل مستوج قاضی احتشام، منیجر شیر نادر، خالق داد ایڈوکیٹ، بہران شاہ ایڈوکیٹ، عنایت اللہ اسیر، انتظار علی خان ایڈوکیٹ، محمد علی ، میر رحیم، عمر رفیع، عمر خلیل (ٹی ٹی آر ایف تورکہو)، پیرمختار، شاہ وزیرلال، مختار لال (بونی) اور دیگر نے خطاب کیا۔ تحصیل چیئرمین مستوج سردار حکیم نے بھی تحریک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
مقررین نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈاپور نے گزشتہ سال اس منصوبے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ علاقے کے عوام نے گزشتہ الیکشن میں کونسلر سے لے کر ایم این اے اور ایم پی اے تک پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا، حتیٰ کہ صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی بھی اسی علاقے سے ہیں، مگر اس کے باوجود عوام کی بنیادی ضرورت سڑکوں کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
مقررین نے مرکزی حکومت اور صوبائی قیادت دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چترال کے عوام کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ یارخون ویلی جیسے پسماندہ علاقوں کے مسائل پر کبھی کسی نے آواز بلند نہیں کی۔
جلسے کے اختتام پر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا جس میں حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا گیا کہ 16 ستمبر تک اگر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے سنجیدہ اور عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو بریپ سے لانگ مارچ شروع کیا جائے گا، جو کسی بھی قیمت پر روکا نہیں جا سکے گا اور عوامی مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔



