چترال کی معروف روحانی وعلمی شخصیت مولانا محمد مستجاب کی یاد میں محفل مذاکرہ کا انعقاد
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) عوامی حلقوں میں “اویونو مولانا”کے نام سے مقبول اور چترال کی عظیم اور مایہ ناز روحانی و علمی شخصیت مولانا محمد مستجاب کی یاد میں مقامی ٹاؤن ہال میں ایک پروقار اور عظیم الشان ‘محفلِ مذاکرہ’ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب چترال کی ادبی و ثقافتی تنظیم انجمن ترقی کھوار چترال کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔اس دوران چترال کے مایہ ناز سپوت، پشاور یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ کے سابق چیئرمین پروفیسر اسرار الدین کی تصنیف کردہ کتاب ”انوارِ مستجاب” کی باقاعدہ رونمائی بھی کی گئی، جو مغلوب الغضب دور میں مولانا مستجاب کی زاہدانہ زندگی، دینی خدمات اور لازوال کارناموں پر محیط ایک جامع دستاویز ہے۔
تقریب کی صدارت صدارتی ایوارڈ یافتہ قاری بزرگ شاہ الازہری نے کی جبکہ لاہور میں مقیم ممتاز عالم دین فیاض الدین مہمان خصوصی اور خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان اور ممتاز سماجی وسیاسی شخصیت الحاج عید الحسین مہمانان اعزاز تھے۔ پروفیسر اسرار الدین کے علاوہ انجمن ترقی کھوار کے صدر ایڈووکیٹ عبدالولی خان عابد، معروف ادیب و سکالر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، عنایت اللہ اسیر، محمد عرفان عرفان، آصف اللہ آصفی، قاضی سلامت اللہ اور دیگر علمی، ادبی و مذہبی شخصیات نے تقریب سے سیرحاصل خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں صاحبِ کتاب اور مولانا محمد مستجاب کی ہمہ جہت شخصیت کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مستجاب تقویٰ، سادگی اور عاجزی کا مجسمہ تھے۔ انہوں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات اور احکامات کو انتہائی سادہ، عام فہم اور اثر انگیز انداز میں عام کیا۔ ان کا بلند کردار اور بے داغ طرزِ زندگی ان کی مقبولیت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا، جس کی بدولت وہ امیر و غریب، ہر مکتبہ فکر اور عام و خاص کے دلوں کی دھڑکن بن گئے اور عوام الناس کے دلوں میں ان کا احترام ہمیشہ بلند رہے گا۔
تقریبِ رونمائی کے دوران پروفیسر اسرار الدین کی کتاب ”انوارِ مستجاب” کو چترال کی تاریخ اور تصوف کے میدان میں ایک گراں قدر سرمایہ اور لازوال تحفہ قرار دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ یہ کتاب اس عظیم بزرگ کی یادوں کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے اور ان کے ان افکار کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگی جنہوں نے لوگوں کے دلوں کی دنیا بدل دی اور معاشرے میں صرف اور صرف محبت، امن اور بھائی چارے کا درس پھیلا دیا۔ تقریب میں چترال بھر سے ادیبوں، شعراء، علما اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اس روحانی محفل کو رونق بخشی۔ اس تقریب میں دو ماسٹر ڈگری اور ایم فل ڈگری کےلئے انوار مستجاب پر تحریر کردہ مقالوں کے حوالے سے کلیم الدین اور فرحانہ گل کے تاثرات بھی پیش کیے گئے ۔

