صدر پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کو پروموٹ کرنے کی بات کر کے دراصل شندور سپاسنامہ 2025 کی منظوری دی ہے۔ قاری غلام اکبر
گلگت ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گلگت میں یوم آزادی گلگت بلتستان کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کو پروموٹ کرنے کی بات کر کے دراصل شندور سپاسنامہ 2025 کی منظوری دی ہے۔ شندور سپاسنامے کے نکات 29ستمبر کو ایوان صدر سے کشمیر افیئرز تک پہنچا کے ضروری کاروائی کا حکم دیکر صدر پاکستان نے انتہائی اہم سطح پر قدم اٹھایا ہے۔ شندور سپاسنامہ 2008 کے 17 نکات کی منظوری سابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے دیکر بڑے پیمانے پر گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ مسائل حل کروایا تھا۔
آج بھی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ شندور سپاسنامے کے نکات کی من و عن منظوری دیکر گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری سطح پر آئین پاکستان کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ سابق وفاقی آئینی کمیٹی نے نئے عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی کے بابت سفارشات مرتب کئے ہیں۔ سابق مرکزی مخلوط حکومت نے وفاقی آئینی کمیٹی تشکیل دیکر بڑا اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور مرکزی مخلوط حکومت کے کردار کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی اور وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی دینے کی بابت سفارشات بین الاقوامی قوانین تک چھان پھٹک کر مرتب کئے ہیں۔ یہی موقع ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام 1970 کے بعد کے جمہوری راجگی سے بھی نکالا جائے۔
12 اعلان شدہ اضافی حلقوں پر حلقہ بندیاں بھی مکمل کیا جائے تا کہ ضلع غذر کے ساتھ 2 حلقے کاٹ کر 1970میں جو زیادتی کی گئی تھی کا ازالہ ہو سکے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ضلع گلگت سمیت دیگر اضلاع کو بھی اضافی نشستیں میسر آسکیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی حلقہ 2 ضلع غذر قاری غلام اکبر نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کیا۔
انہوں نے 24 جنوری کو پولنگ ڈیٹ کا اعلان فارمیلیٹی کے طور پر کیا گیا ہے۔ سابق وفاقی نگران کابینہ کے مدت میں بھی آٹھ ماہ تک توسیع دی گئی تھی گلگت بلتستان نگران حکومت کے مدت میں توسیع نہیں کیا گیا تو 10فیصد بھی ووٹ پول ہونا نا ممکن ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ کے درست انتخاب پر گلگت بلتستان کا بچہ بچہ وفاق کے تمام اداروں کے مشکور ہیں۔نگران کابینہ بھی عوامی امنگوں کے عین مطابق تشکیل دی جائے

