The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 21 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مالاکنڈ ڈویژن، خصوصاً چترال میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

Chitral Times

مالاکنڈ ڈویژن، خصوصاً چترال میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

مالاکنڈ ڈویژن، خصوصاً چترال میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

مالاکنڈ ڈویژن، خصوصاً چترال میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) مالاکنڈ ڈویژن، خصوصاً چترال میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اتالیق پل پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کی قیادت سابق صدر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن چترال سجاد اخون، قاضی وقار اقبال، سلطان احمد بیگ اور جاوید اقبال نے کی۔

احتجاجی مظاہرے سے پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے رہنما قاضی وقار اقبال، سجاد اخون، سلطان احمد بیگ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و انفارمیشن سیکرٹری نظار ولی شاہ، سینئر نائب صدر شریف حسین اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال اور مالاکنڈ ڈویژن پاکستان کا ایک اہم حصہ ہیں، تاہم یہ خطہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی دور افتادہ، پسماندہ اور سخت موسمی حالات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ایسے حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام، چھوٹے تاجروں، مزدوروں اور نوجوانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے سے پہلے علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر، صنعتوں کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حالیہ قدرتی آفات نے بھی چترال کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ چترال پانی، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں کے عوام آج بھی ان وسائل کے ثمرات سے محروم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال کی معاشی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے اور اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص چترال میں ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرتے ہوئے اسے واپس لیا جائے، تاکہ پہلے سے معاشی مشکلات کا شکار عوام پر مزید مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔

یادرہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف آج  ۲۱ جولائی کو چترال لوئر اور اپر میں مکمل شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ جس میں تمام دکانین اور کاروباری مراکز بند رہیں گے ۔

chitraltimes ppp youth protest against tax imposistion in malakand divsion 2 chitraltimes ppp youth protest against tax imposistion in malakand divsion 1