سیاست، مصنوعی ذہانت اور پاکستانی سیاست – ڈاکٹر زین اللہ خٹک
اکیسویں صدی کی سیاست ایک بنیادی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ یہ تبدیلی نعروں، جلسوں اور شخصیات سے آگے بڑھ کر ڈیٹا، الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) تک پہنچ چکی ہے۔ آج سیاست صرف نظریات کی جنگ نہیں بلکہ معلومات، تجزیے اور ذہن سازی کی جدوجہد بن چکی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر اور کمزور جمہوری ڈھانچے والے معاشرے میں مصنوعی ذہانت کا سیاسی استعمال ایک طرف امکانات سے بھرپور ہے تو دوسری طرف شدید خطرات کا حامل بھی ہے مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی کو کہا جاتا ہے جو انسانی ذہانت، فیصلہ سازی اور تجزیاتی صلاحیت کو مشینی نظام میں منتقل کرتی ہے۔ یہ نظام ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں رویّوں کی پیش گوئی کرتے ہیں
فیصلوں کے لیے سفارشات فراہم کرتے ہیں سیاست میں AI کا مطلب عوامی رائے، ووٹر رویّے اور سیاسی عمل کو عددی اور تکنیکی بنیادوں پر سمجھنا اور کنٹرول کرنا ہے۔عالمی سیاست میں AI کا استعمال بتدریج بڑھتا جارہا ہے۔امریکہ اور یورپ میں انتخابی مہمات ہو یا انڈیا میں ڈیجیٹل نیشنلزم،چین میں نگرانی پر مبنی سیاسی کنٹرول ہو۔پاکستان میں اگرچہ AI کا استعمال ابتدائی مراحل میں ہے، مگر سوشل میڈیا، ڈیٹا اینالیسس اور بیانیہ سازی میں اس کی جھلک واضح ہے۔یہ عمل انتخابی مہم کو مؤثر بناتا ہے، مگر سیاسی عمل کو مصنوعی اور غیر فطری بھی بنا دیتا۔پاکستان میں سوشل میڈیا پہلے ہی سیاسی انتشار کا مرکز ہے۔ AI نے اس میں مزید شدت پیدا کی۔ کیونکہ پاکستانی معاشرہ ایک روایتی اور قبائلی معاشرہ ہے۔ یہاں خودکار اکاؤنٹس (Bots)،جھوٹی خبریں،ڈیپ فیک ویڈیوز،جذباتی اور نفرت انگیز مواد وغیرہ یہ سب عوامی شعور کے بجائے عوامی جذبات کے استحصال کا ذریعہ بن رہا ہے۔مصنوعی ذہانت پولنگ کے دن درج ذیل اہم اور موثر کردار ادا کر سکتی ہیووٹر ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کیونکہ پاکستان میں کمزور جمہوریت کی وجہ سے ٹرن آؤٹ ہمیشہ بہت کم رہتا ہے۔
انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی،نتائج کا فوری تجزیہ اور سیکیورٹی رسک اسسمنٹ۔تاہم پاکستان میں ادارہ جاتی شفافیت کی کمی کے باعث AI کا استعمال انتخابی انجینئرنگ کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔اگر AI کو جمہوری نگرانی کے تحت استعمال کیا جائے تو یہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کم کر سکتا ہیں۔ تاہم طاقتور اداروں کا ڈیٹا پر کنٹرول،سیاسی مخالفین کی نگرانی اختلافی آوازوں کو دبانااور مصنوعی رائے عامہ (Manufactured Consent) ان کے منفی پہلو ہیں۔پاکستان میں جہاں جمہوریت پہلے ہی کمزور ہے، وہاں AI فوجی آمریت کو مضبوط کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت بذاتِ خود غیر جانبدار ہے، مگر اس کا استعمال اسے خطرناک یا مفید بناتا ہے۔
سیاسی AI کے لیے واضح قانون سازی،ڈیٹا پروٹیکشن قوانین،الیکشن کمیشن کی ڈیجیٹل خودمختاری،سیاسی جماعتوں کے لیے ضابطہ اخلاق اور شہریوں میں ڈیجیٹل سیاسی شعور وقت کی ضرورت ہے۔مصنوعی ذہانت مستقبل کی سیاست ہے، مگر یہ فیصلہ حال میں ہونا ہے کہ یہ سیاست عوامی اختیار کو مضبوط کرے گی یا طاقتور اشرافیہ کے کنٹرول کو۔ اگر پاکستان میں AI کو جمہوری، اخلاقی اور آئینی حدود میں نہ لایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی جمہوریت کے بجائے نگرانی، کنٹرول اور سیاسی غلامی کا نیا ذریعہ بن جائے گی۔ایک باشعور شہری، مضبوط جمہوری ادارے اور شفاف قانون ہی اس بات کی ضمانت ہیں کہ مصنوعی ذہانت سیاست میں خادم بنے، حاکم نہیں۔

