The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 17 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج، پی ٹی آئی کے متعدد کارکن گرفتار

Chitral Times

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج، پی ٹی آئی کے متعدد کارکن گرفتار

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج، پی ٹی آئی کے متعدد کارکن گرفتار

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج، پی ٹی آئی کے متعدد کارکن گرفتار

.

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد مبینہ طور پر سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف اپر چترال پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے دو درجن سے زائد کارکنوں کے خلاف بھی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے متعدد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ڈپٹی کمشنر اپر چترال ارشد خان کی مدعیت میں تھانہ بونی میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اپنی درخواست میں سرکاری گاڑی نمبر A-1292 کی مبینہ چوری کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی تھی۔

درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق مذکورہ گاڑی ضلعی انتظامیہ اپر چترال کی ملکیت تھی اور ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے استعمال میں تھی۔ تاہم، مبینہ طور پر گاڑی واپس نہ کرنے پر قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی۔

فوجداری مقدمات میں کئی سال سے پریکٹس کرنے والے ایک سینئر وکیل کے مطابق تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت درج مقدمے میں ضمانت کے معاملے کا فیصلہ متعلقہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہوتا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی گرفتاری سے متعلق مؤقف جاننے کے لیے ڈی پی او، ایس ڈی پی او مستوج اور ایس ایچ او تھانہ بونی سے ٹیلی فون پر رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

دریں اثنا، اپر چترال پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف بھی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی شکایت پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے علاوہ ضلعی جنرل سیکرٹری علاؤ الدین عرفی، ڈپٹی اسپیکر کے فوکل پرسن افگن رضا، خواجہ خلیل، محمود احمد سائل سمیت دو درجن سے زائد افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے نامزد کارکنوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ خواجہ خلیل سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

انصاف لائرز فورم کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ مفتاح الدین کے مطابق دفعہ 188 کے تحت گرفتار کارکنوں کو اسسٹنٹ کمشنر مستوج کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی رہائی کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواستِ ضمانت دائر کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر درخواستِ ضمانت مسترد ہوئی تو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

chitraltimes FIR against Suraya bibi deputy speaker kp assembly