The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 17 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ سولر منصوبہ کے تمام اخراجات وفاقی حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا اجلاس سے خطاب

Chitral Times

گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ سولر منصوبہ کے تمام اخراجات وفاقی حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا اجلاس سے خطاب

گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ سولر منصوبہ کے تمام اخراجات وفاقی حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا اجلاس سے خطاب

گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ سولر منصوبہ کے تمام اخراجات وفاقی حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا اجلاس سے خطاب

۔
اسلام آباد (نمائندہ چترال ٹائمز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے 100 میگا واٹ شمسی بجلی کی فراہمی منصوبہ کے تمام تر اخراجات وفاقی حکومت اٹھائے گی۔منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویڑن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے منصوبے پر کام کی رفتار تیز، منصوبہ کو جلد از جلد مکمل کرنے اورمنصوبے کے تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کے سولر منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کے لئے 18 میگا واٹ شمسی توانائی کا منصوبہ ہے،گلگت اور دیامیر ڈویڑنز کی سرکاری عمارات کے لئے 18 میگا واٹس کا منصوبہ دسمبر 2026 اور بلتستان ڈویڑن کی سرکاری عمارات کی سولرائزیشن کا منصوبہ اکتوبر 2026 تک مکمل ہو گا جبکہ گلگت، سکردو، چلاس اور خپلو میں گھروں کے لئے 82 میگاواٹ کے شمسی توانائی کا منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

۔

۔

سپریم کورٹ کی غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات 60 روز میں نمٹانے کے احکامات

.
اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز )سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کے جلد اور مؤثر تصفیے کے لئے تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا جس میں ملک بھر کی عدالتوں کو غیر قانونی بے دخلی ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کو ارسال کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہے جبکہ فوری اور کم خرچ انصاف کی فراہمی بھی ایک آئینی تقاضا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کے منافی ہے۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت دائر مقدمات کو 60 دن کے اندر نمٹایا جائے اور ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی مقدمے میں تاخیر ناگزیر ہو تو اس کی معقول وجوہات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانا لازمی ہوں گی۔

عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست ازخود تاخیر کی معقول وجہ تصور نہیں کی جا سکتی۔ مزید کہا گیا کہ کسی عبوری حکم کو چیلنج کئے جانے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا اور حکم امتناعی کے بغیر کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 24 کے مطابق کسی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاست پر آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سستا، تیز اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ ایسی پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کو فروغ دیں جن کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو مزید کم خرچ اور تیز بنایا جا سکے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ضروری احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد تمام انتظامی اور عدالتی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس سمیت تمام عدالتی حکام سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کے پابند ہیں۔