چترال میں وزیراعظم کے خیرسگالی بیان کا ہم نے خیرمقدم کیا، تاہم شہباز شریف خود بھی بے اختیار وزیراعظم ہیں۔ شفیع جان
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے ہر ممکن آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا جہاں عدالت نے وزیراعلیٰ کی ملاقات یقینی بنانے کے لیے احکامات بھی جاری کئے لیکن عدالتی احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو ملاقات سے روک دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ تمام حقائق ریکارڈ پر لائے جائیں، کیونکہ ہم جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اسی لیے ملاقات کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں۔شفیع جان نے واضح کیا کہ اگر اس کے باوجود پھر بھی وزیراعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو ہم عوامی عدالت میں جائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ ہمارے پاس کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں جن پر مشاورت کے بعد پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی، وزیراعظم کی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ٹیلی فون پر گفتگو اور چترال میں وزیراعظم کے خیرسگالی بیان کا ہم نے خیرمقدم کیا، تاہم شہباز شریف خود بھی بے اختیار وزیراعظم ہیں۔
شفیع جان نے پنجاب حکومت اور عظمیٰ بخاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی بدقسمتی ہے کہ وہ ”سہیلیوں کے گینگ” کے نرغے میں ہے۔
