The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 3 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پکھلی: ہزارہ کی گمشدہ تاریخی شناخت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

پکھلی: ہزارہ کی گمشدہ تاریخی شناخت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

پکھلی: ہزارہ کی گمشدہ تاریخی شناخت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

پکھلی: ہزارہ کی گمشدہ تاریخی شناخت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

مغلیہ دور کی تاریخ میں پکھلی ایک ایسا نام ہے جو آج ہماری عمومی تاریخی یادداشت سے تقریباً اوجھل ہو چکا ہے، حالاں کہ کبھی یہ ایک باقاعدہ سرکار اور اہم جغرافیائی خطہ تھی۔ ابوالفضل نے آئینِ اکبری میں پکھلی کی حدود بیان کرتے ہوئے مشرق میں کشمیر، مغرب میں اٹک، شمال میں کتور (چترال) اور جنوب میں گکھڑوں کا علاقہ قرار دیا ہے۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ پکھلی کسی ایک شہر یا وادی کا نام نہیں بلکہ ایک وسیع انتظامی خطہ تھا، جس کا مرکزی تعلق موجودہ ہزارہ کے جغرافیے سے بنتا ہے۔

آئینِ اکبری کے مطابق پکھلی کی لمبائی 35 کوس اور چوڑائی 25 کوس تھی۔ اگر شاہی کوس کو تقریباً 3.2 کلومیٹر شمار کیا جائے تو 35 کوس تقریباً 112 اور 25 کوس تقریباً 80 کلومیٹر بنتے ہیں۔ قدیم ہندوستان میں کوس کی پیمائش ہر زمانے اور علاقے میں یکساں نہیں رہی، اِس لیے یہ تبدیلی ایک تخمینی حساب ہے۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکبر کے عہد کی پکھلی ایک خاصا وسیع خطہ تھی، جسے آج کے کسی ایک ضلع کی حدود کے برابر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پکھلی کی اہمیت کا ایک بڑا سبب اس کا جغرافیائی محلِ وقوع تھا۔ یہ کشمیر کی جانب جانیوالے راستوں کے قریب واقع تھی اور مغلیہ سلطنت کیلئے کشمیر سیاسی، فوجی اور انتظامی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ پہاڑوں اور دریاؤں کے درمیان پھیلا یہ خطہ پنجاب، دریائے سندھ اور کشمیر کے درمیان قدرتی رابطہ فراہم کرتا تھا۔ یہی حیثیت پکھلی کو ایک اہم گزرگاہ بناتی اور مغلیہ انتظامیہ کیلئے اسکی سیاسی و فوجی اہمیت بڑھاتی تھی۔

آج کے نقشے پر پکھلی کا سب سے نمایاں تاریخی وارث مانسہرہ ہے۔ وقت کے ساتھ پکھلی کی حدود محدود ہوئیں، تاہم موجودہ جغرافیے میں اس تاریخی خطے کا نمایاں حصہ مانسہرہ کے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بفہ پکھلی کا ایک اہم مقام ہے، جبکہ شنکیاری، بھوگڑمنگ اور گردونواح بھی اس تاریخی شناخت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ رقبہ لمبائی میں ماتھرہ سے اچھڑیاں تک اور چوڑائی میں ڈاڈر سے تناول تک جا لگتا ہے۔ ان علاقوں کی جغرافیائی وابستگی آج بھی پکھلی کے ماضی کی جھلک پیش کرتی ہے۔ موجودہ ہزارہ میں پکھلی کے تاریخی خطے کو سمجھنے کیلئے مانسہرہ اس کا مضبوط نقطۂ آغاز بنتا ہے۔

بٹگرام اور اسکے گردونواح بھی پکھلی کے تاریخی جغرافیے میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ دریائے سندھ کے مشرقی پہاڑی خطے، خصوصاً تھاکوٹ اور اس سے متصل علاقے اس قدیم خطے کی شناخت سے وابستہ رہے ہیں۔ قدیم قبائلی تقسیم میں نندھیاڑ اور تھاکوٹ جیسے علاقے اور شانگلہ کا کچھ سرحدی حصہ پکھلی سے متعلق تاریخی حوالوں میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم موجودہ ضلع بٹگرام کی حدود جدید انتظامی تقسیم کا نتیجہ ہیں، اس لیے پورے بٹگرام کو عین اکبر دور کی پکھلی سرکار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پکھلی کے تاریخی دائرے کو موجودہ نقشے سے ملاتے ہوئے تورغر اور کوہستان کے بعض ملحقہ حصوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کے پہاڑی علاقوں میں اُس زمانے کی سیاسی اور قبائلی تقسیم آج کے اضلاع جیسی نہ تھی۔ اِسی لیے تورغر کے بعض علاقے اور کوہستان کے جنوبی و مشرقی ملحقہ حصے پکھلی کے وسیع جغرافیائی دائرے سے مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم موجودہ کوہستان یا تورغر کے پورے اضلاع کو اکبر کی پکھلی قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ جزوی تاریخی تعلق اور مکمل انتظامی شمولیت میں فرق ضروری ہے۔

ایبٹ آباد کا علاقہ بھی پکھلی اور وسیع تر ہزارہ کی تاریخی تصویر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ ضلع ایبٹ آباد کے بعض حصے اس قدیم جغرافیے سے مربوط رہے، تاہم پورے ضلع کو اکبر دور کی پکھلی سرکار میں شامل سمجھنا درست نہیں۔ اس خطے میں مختلف قبائلی اور علاقائی اکائیاں اپنی الگ شناخت رکھتی تھیں۔ زیادہ محتاط نتیجہ یہی ہے کہ ایبٹ آباد کے بعض شمالی اور مشرقی علاقے پکھلی کے تاریخی دائرے سے جڑے ہوئے تھے، مگر جدید ضلعی حدود کو مغلیہ دور کی سرحدیں سمجھنا مناسب نہیں۔

ہری پور کے بارے میں بھی یہی تاریخی احتیاط ضروری ہے۔ موجودہ ہری پور کا پورا علاقہ پکھلی سرکار میں شامل نہیں تھا۔ ہزارہ کے میدانی علاقوں کی تاریخی تقسیم میں بعض حصے اٹک کے انتظامی دائرے سے وابستہ رہے، جبکہ جنوبی پہاڑی علاقوں میں گکھڑوں کا اثر بھی موجود تھا۔ چنانچہ آئینِ اکبری میں اٹک کو پکھلی کی مغربی حد قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ ہری پور کے تمام علاقے پکھلی میں شامل تھے۔ اسکے بعض شمالی و مشرقی سرحدی علاقوں کا تاریخی تعلق ضرور زیرِ بحث آتا ہے، مگر کسی مخصوص موجودہ تحصیل کو قطعی طور پر پکھلی کا حصہ کہنا محتاط تحقیق کے بغیر مناسب نہیں۔

یوں موجودہ جغرافیے سے محتاط تطبیق کی جائے تو مانسہرہ پکھلی کا مرکزی اور نمایاں تاریخی وارث دکھائی دیتا ہے، جبکہ بٹگرام کے بڑے حصے، ایبٹ آباد اور ہری پور کے بعض خطے، تورغر اور کوہستان کے کچھ ملحقہ علاقے، اور شانگلہ کے بعض سرحدی حصے اس تاریخی جغرافیے سے نسبت رکھتے ہیں۔ تاہم پکھلی کو موجودہ اضلاع کی عین حدود میں تقسیم کرنا درست نہیں ہوگا۔ اسے مغلیہ دور کی ایک وسیع تاریخی سرکار کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ اُس زمانے کی سیاسی، قبائلی اور انتظامی سرحدیں آج کے نقشے سے مختلف تھیں۔

پکھلی آج کسی سرکاری نقشے پر موجود نہیں، مگر اسکی یاد زمین کے حافظے میں زندہ ہے۔ وقت کے ساتھ نقشے بدلتے رہے، سرحدیں تبدیل ہوتی رہیں، سلطنتیں ختم ہوئیں اور انتظامی نام مٹ گئے، مگر اس خطے کی تاریخی شناخت مکمل طور پر معدوم نہیں ہوئی۔ مانسہرہ اسکا مرکزی وارث ہے، جبکہ بٹگرام، ایبٹ آباد، ہری پور، تورغر، کوہستان اور شانگلہ کے بعض علاقے بھی اسکے وسیع تاریخی دائرے سے نسبت رکھتے ہیں۔ پکھلی اسی زندہ یادداشت کا نام ہے؛ ایک ایسی شناخت جو کاغذی نقشے سے اوجھل ہوگئی، مگر ہزارہ کے شہروں، بستیوں اور پہاڑوں میں آج بھی اپنے ماضی کی خاموش گواہی دیتی ہے۔