پشاور ریورٹلائزیشن پلان کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے منصوبے لا رہے ہیں، وزیراعلیٰ
متعدد چینجز کے باوجود تاریخی صوبائی ترقیاتی پروگرام پیش کیا، سہیل آفریدی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے جمیل چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور ریورٹلائزیشن پلان کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور پہلے شروع کیے گئے منصوبوں کی پیش رفت سب کے سامنے ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے ان منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور الحمدللہ یہ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ 90 دن کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، اسے حاصل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جمیل چوک انڈر پاس کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 90 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے، تاہم انشاءاللہ اسے 60 دن میں مکمل کر کے دکھائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت پشاور میں تقریباً 200 ارب روپے کے منصوبے لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزیر بلدیات مینا خان اور محکمہ بلدیات کی پوری ٹیم کو منصوبوں کی مسلسل نگرانی، فالو اپ اور بروقت تکمیل یقینی بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا یہ سفر نہ پشاور میں رکے گا اور نہ ہی خیبرپختونخوا میں۔ جیسا کہ عوام سے وعدہ کیا تھا، خیبرپختونخوا میں موجودہ سال ترقی، تعمیر اور خوشحالی کا سال ہوگا اور عوام اس کا عملی مظاہرہ دیکھیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو وفاقی حکومت کی جانب سے مالی چیلنجز، سیاسی چیلنجز اور انتظامی مشکلات سمیت مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے، تاہم ان تمام چیلنجز کے باوجود صوبائی حکومت بہترین کارکردگی دکھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 میں دیگر صوبوں اور وفاق نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں وفاق اور دیگر صوبوں نے اپنے اپنے ریونیو اہداف مقرر کیے تھے، تاہم وفاق اپنے مقررہ ہدف سے تقریباً 1,213 ارب روپے کم ریونیو جمع کر سکا۔ جبکہ خیبرپختونخوا ملک کی واحد حکومت ہے جس نے اپنے مقررہ ریونیو ہدف سے زیادہ وصولی کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا ریونیو ہدف 129 ارب روپے تھا، جبکہ صوبائی حکومت نے 150 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ تقریباً ساڑھے سات دہائیوں میں خیبرپختونخوا کا ریونیو تقریباً 93 ارب روپے کی سطح تک پہنچا تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے اسے 150 ارب روپے سے زائد تک پہنچا دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی حکومت نے 180 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے اور وہ اس ریونیو کو 200 ارب روپے تک پہنچا کر دکھائیں گے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب حکومت عوامی مینڈیٹ اور عوامی طاقت سے آتی ہے تو وہ اپنی عوام اور اپنے صوبے کے بارے میں سوچتی ہے اور اسی بنیاد پر کارکردگی دکھاتی ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت پاکستان میں واحد حکومت ہے جو عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور دیگر صوبوں میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر حکومتیں قائم کی گئی ہیں اور یہ حکومتیں چور دروازے اور بیساکھیوں کے ذریعے اقتدار میں آئی ہیں۔ ایسی حکومتوں کو عوام اور پاکستان کی فکر نہیں ہوتی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ نظام میں 5,300 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود عالمی سطح پر اور پاکستان کے اداروں کی جانب سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ سے آنے والی حکومت کے لیے مختلف رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں، مالی وسائل استعمال کر کے بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں اور جعلی بیانیے پھیلائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت عوام کے حق میں فیصلے کرتی ہے اور اگر کوئی فیصلہ عوام کو پسند نہ آئے تو اس پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے برعکس غیر عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومتیں ایسے فیصلے کرتی ہیں جن پر عوامی وسائل خرچ ہوتے ہیں اور خود عوام کسمپرسی کی حالت میں رہ جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک خصوصی طیارے کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے محروم حکومتیں اربوں روپے کے جہاز خریدتی ہیں اور اسمبلی کے فلور پر کہتی ہیں کہ ہم نے خریدا ہے، کیا کر لوگے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے آنے والی حکومت اپنے صوبے میں ریونیو جنریشن کرتی ہے، جبکہ ان کے بقول چور دروازے سے اور بیساکھیوں کے سہارے آنے والی حکومتیں عوامی وسائل کے حوالے سے جوابدہی سے بچتی ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں، عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ حکمران طبقہ بیرون ملک جائیدادیں اور اثاثے بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ عوامی غصے اور بے چینی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب غیر عوامی مینڈیٹ والی حکومتیں قائم ہوتی ہیں تو معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پاکستان کی معیشت کی شرح نمو تقریباً 3 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ عمران خان کی حکومت کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تھی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دور میں کسان خوش تھا، مزدور خوش تھا، نوجوان خوش تھے اور ملک کی صنعت ترقی کر رہی تھی۔
محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بیرونی غلامی قبول نہ کرنے کی وجہ سے بیرونی سازش کے ذریعے ایک جمہوری حکومت کو ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بیرونی غلامی اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر حضرت محمد ? کی تعلیمات اور ناموس رسالت کا مقدمہ پیش کیا، جس کی وجہ سے انہیں بعض قوتوں کی جانب سے ناپسند کیا گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے والوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کے لیے کیا حاصل کیا۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ریاستی اداروں کے خلاف عوام میں نفرت بڑھی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی اور ریاستی عہدوں پر فائز افراد اگر عوام میں جائیں تو انہیں عوام کے غصے اور ردعمل کا سامنا نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے اقدامات سے عوام متاثر ہوئے ہیں، ان کے خلاف عوام میں شدید ناراضی پیدا ہوئی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے اور اگر پاکستان کے فیصلے کرنے والے لوگ، جنہوں نے اداروں، پارلیمنٹ اور جمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ہے، ہوش کے ناخن نہیں لیتے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غلط پالیسیوں اور بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ پالیسیاں ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں ایک بار پھر پولیس اہلکاروں میں بھی مایوسی پیدا ہو رہی ہے اور وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ وہ کس کے لیے اور کس پالیسی کے تحت اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 سال سے خیبرپختونخوا میں ایک ہی نوعیت کی سیکیورٹی پالیسی نافذ کی جا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود اس پالیسی کا مطلوبہ فائدہ نہیں ہوا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 22 بڑے آپریشنز، تقریباً 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور متعدد دیگر بڑے آپریشنز کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود صوبے میں بدامنی موجود ہے اور دہشت گردی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی سے متعلق پالیسیاں، رویے اور بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے عدلیہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکن طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ججز بھی بے بس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کے علاج کے لیے الشفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی ہدایت کی، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ معاملہ عمران خان یا پاکستان تحریک انصاف کی کمزوری نہیں بلکہ عدلیہ کے ادارہ جاتی اختیار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے ججز سے اپیل کی کہ وہ سوچیں کہ اگر ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو یہ عدلیہ کی بے توقیری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہونا تو عدالتوں کا فائدہ کیا ہے اور عوام انصاف کے لیے کس کی طرف دیکھیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو عدالتی انصاف نہ ملے تو ان میں مایوسی اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام انصاف اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوئے تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں اداروں کے خلاف غصہ اور نفرت بڑھ رہی ہے اور یہ صورتحال ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر پاکستان کا نوجوان، پسا ہوا طبقہ اور مڈل کلاس سڑکوں پر نکل آیا تو حالات کو قابو کرنا مشکل ہوگا۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عام آدمی حکمران طبقے کی زندگی، بیرون ملک جائیدادوں اور اپنے حالات کے درمیان فرق دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اشرافیہ بیرون ملک جائیدادیں اور جزیرے خرید رہی ہے جبکہ دوسری طرف غریب عوام اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور گھر کا خرچ پورا کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے اندر موجود غصہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور سامنے آئے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں معاشی ترقی متاثر ہوئی، اداروں کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہوا اور عام آدمی کے مسائل بڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی اداروں اور حکمرانوں نے عوام کے جذبات کو نہ سمجھا تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خواتین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و حرمت پامال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، چادر اور چار دیواری کی پامالی کی گئی اور 18 سال سے کم عمر افراد کو دہشت گردی کے مقدمات میں ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بزرگ خاتون کوٹ لکھپت جیل میں ہیں اور سوال کیا کہ کیا وہ کسی کی ماں یا بیوی نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے دیگر خواتین کارکنوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ کسی کی بیوی یا ماں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی ماوں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جائے گا اور اس کے باوجود یہ توقع رکھی جائے گی کہ دوسروں کی ماوں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کی عزت کی جائے گی تو یہ ممکن نہیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی نے اپنی عزت کروانی ہے تو اسے دوسروں کی ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کرنا ہوگی اور ان کی قدر کرنا ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ رویہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف 27 ستمبر کو اسلام آباد آ رہی ہے اور اس موقع پر بڑی تعداد میں کارکنان اور عوام شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے لیے مکمل تیاری کی جا رہی ہے اور اس مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے کہ مخالفین اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ احتجاج پرامن ہو اور کسی قسم کی فائرنگ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جس تعداد میں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے، اس بڑے اجتماع پر فائرنگ کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے مطالبات کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے ہیں۔ قومی اسمبلی سے رجوع کیا گیا، وفاقی حکومت سے بات کی گئی، پنجاب حکومت سے رجوع کیا گیا، عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرنے کے باوجود انصاف نہیں ملتا تو عوام کے پاس پرامن احتجاج کے ذریعے اپنا حق ریکارڈ کرانے کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے جا چکے ہیں تو عوام کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو یہ ریاستی اداروں کے کردار کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرے گا۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار ریاست کے ملازم ہیں اور انہیں کسی فرد کے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے پاس اپنی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا موقع ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس مرتبہ آرام سے نہ بیٹھیں اور 27 ستمبر کو اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیورز، ریڑھی بان، بس ڈرائیورز، مزدور، کسان، طلبہ، وکلائ اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد 27 ستمبر کو اس تحریک کا حصہ بنیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 27 ستمبر کو لوگ عمران خان کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے، اپنے مستقبل کے لیے، پاکستان کے لیے اور پاکستانی عوام کے لیے نکلیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی چیز کی کمی نہیں اور نہ ہی یہ جدوجہد صرف پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہے بلکہ عوام کو اپنے حقوق، اپنے مستقبل اور پاکستان کے لیے آواز بلند کرنی ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں اپنے رب پر مکمل ایمان اور یقین ہے کہ 27 ستمبر پاکستان میں ایک نئے دور کے آغاز کا دن ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کا سفر کرنے جاری رکھا جائے گا اور صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور صوبے کی معاشی استعداد بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے۔