پشاور بی آر ٹی: کرایوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ، مالی خسارہ برقرار
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز )خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی (بس ریپڈ ٹرانزٹ) کے مسلسل بڑھتے ہوئے مالی خسارے کے پیش نظر کرایوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔خیبرپختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کرایوں میں اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی کے کرایے میں فی سٹاپ 10 روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے، پانچ کلومیٹر تک کا سفر کرنے والے مسافروں سے اب 30 روپے وصول کیے جائیں گے جو پہلے 20 روپے تھا۔اسی طرح 40 کلومیٹر تک کے سفر پر کرایہ 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ایک بار ٹکٹ کی قیمت بھی 60 سے بڑھا کر 70 روپے کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ٹرانس پشاور کے بورڈ آف گورنرز کی حالیہ میٹنگ میں کیا گیا جس میں بی آر ٹی کے جاری مالی بحران پر تفصیلی غور کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق حکومت نے گزشتہ برس بی آر ٹی کو 4 ارب روپے کی سبسڈی دی تاہم اس کے باوجود مالی خسارے میں نمایاں کمی نہ آ سکی۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں کرایے میں 10 روپے اضافہ کوئی بڑا بوجھ نہیں اور اس اقدام کا مقصد بی آر ٹی منصوبے کو خسارے سے نکال کر خود کفالت کی جانب گامزن کرنا ہے۔اعلامیہ کے مطابق یومیہ 6 لاکھ مسافروں کی موجودگی میں ٹرانس پشاور کو کرایوں میں اضافے کے بعد 60 لاکھ روپے یومیہ آمدن حاصل ہو سکے گی جو کہ بی آر ٹی کی مالی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
پنجاب حکومت کا مزدور کی کم ازکم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان
لاہور(سی ایم لنکس)پنجاب حکومت نے بجٹ 2025-26 اسمبلی میں پیش کر دیاہے جس میں مزدوروں کی کم سے کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے, گزشتہ برس کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے تھی۔تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ ایک سے 22 تک کے صوبائی ملازمین تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ پنجاب میں پنشن کی مد میں 5 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ترقیاتی بجٹ سے 50 ارب دے کر بلوں سے ریلیف دیا، پچھلے سال بجلی کے بلوں سے پنجاب کے عوام پریشان تھے، گجرات،راولپنڈی،سرگودھا،فیصل آباد،دیگرشہروں میں الیکٹرک بسوں کیلئیفنڈز مختص کیئے گئے ہیں، محکمہ ٹرانسپورٹ کی54 نئی اسکیمیں ترقیاتی بجٹ میں شامل ہیں، 34نئی اسکیموں کیلئے 80 ارب ایک کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے، 20جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 4 ارب 56 کروڑ 99 لاکھ روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
