پیپلز پارٹی کی سیاست: جدوجہد، قربانی اور استقامت کا سفر – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان کی سات دہائیوں پر محیط سیاسی تاریخ کا اگر غیر جانب دارانہ اور معروضی جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اس ملک میں سیاست محض اقتدار کے ایوانوں تک رسائی، پالیسیاں بنانے یا انتخابی معرکے سر کرنے کا نام نہیں رہی۔ دنیا کے مستحکم جمہوری معاشروں کے برعکس، پاکستان میں اعلیٰ سیاست اکثر ایک پُرخطر سفر، غیر معمولی آزمائشوں اور حیات و ممات کی کشمکش سے عبارت رہی ہے۔یہاں جس کے حصے میں اقتدار آیا، اکثر اس کے ساتھ ہی سازشوں، ریاستی دباؤ، قید و بند، سیاسی انتقام اور بعض اوقات المناک انجام کے سائے بھی نمودار ہوئے۔ اس پیچیدہ اور مقتل نما سیاسی ماحول میں جہاں بہت سے سیاسی کردار وقتی مصلحتوں، سمجھوتوں یا ذاتی مفادات کی راہ اختیار کر کے تاریخ کے منظرنامے سے اوجھل ہو گئے، وہیں کچھ شخصیات اور خاندان ایسے بھی سامنے آئے جنہوں نے تمام تر خطرات، قربانیوں اور ذاتی نقصانات کے باوجود اپنے نظریے، عوامی وابستگی اور سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔
پاکستانی سیاست کی اسی تاریخی حقیقت کی سب سے نمایاں مثال “بھٹو کی سیاسی وراثت” (Bhutto Legacy) ہے۔پاکستان میں عوامی سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز اس وقت ہوا جب ذوالفقار علی بھٹو قومی سیاست کے مرکزی دھارے میں ابھرے۔ ستر کی دہائی سے قبل ملک کے سیاسی، معاشی اور انتظامی فیصلوں پر چند روایتی سیاسی خاندانوں، بیوروکریسی اور غیر منتخب طاقتور حلقوں کا غلبہ تھا۔ عام شہری، مزدور، کسان اور نوجوان قومی فیصلوں کے عمل میں خود کو ایک تماشائی محسوس کرتے تھے۔
ایسے جامد سیاسی ماحول میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نئے عوامی بیانیے کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا۔ ان کی آواز میں مزاحمت بھی تھی، امید بھی اور عام آدمی کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کا عزم بھی۔ انہوں نے “روٹی، کپڑا اور مکان” کے نعرے کو محض انتخابی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ سماجی انصاف، معاشی مساوات اور عوامی بہبود کے ایک وسیع تر تصور کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے سیاست کے مرکز کو اقتدار کے بند ایوانوں سے نکال کر گلی محلوں، کھیتوں، کارخانوں اور عام شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا۔ ان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی یہی تھی کہ انہوں نے ایک عام پاکستانی کو یہ احساس دلایا کہ وہ صرف ریاست کا تابع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی مستقبل کا ایک اہم فریق بھی ہے۔تاہم طاقت کے روایتی مراکز کے مقابلے میں عوامی حاکمیت کا یہ تصور قائم کرنا آسان نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی مقبولیت، عالمی سطح پر ان کا کردار، 1973ء کا متفقہ آئین اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد جیسے اقدامات انہیں داخلی اور خارجی سطح پر طاقتور حلقوں کے ساتھ تصادم کی طرف لے گئے۔
1977ء میں جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا اور ملک ایک طویل فوجی دور میں داخل ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔ اس مقدمے اور اس کے نتیجے پر آج بھی قانون دان، مورخین اور سیاسی مبصرین مختلف آرا رکھتے ہیں۔ 1979ء میں آنے والا عدالتی فیصلہ، جسے دنیا کے متعدد حلقے ایک متنازعہ فیصلے کے طور پر یاد کرتے ہیں، ان کی زندگی کے خاتمے کا سبب بنا۔تاہم تختۂ دار تک پہنچنے کے سفر میں بھٹو صاحب نے سمجھوتے یا جلاوطنی کے بجائے اپنے سیاسی موقف پر قائم رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی زندگی اور موت پاکستانی سیاسی تاریخ کا وہ باب بن گئی جس میں اقتدار سے زیادہ نظریے، عوامی وابستگی اور سیاسی استقامت کا سوال نمایاں ہو جاتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ شاید بھٹو کا نام اور ان کی سیاسی تحریک وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی، لیکن تاریخ نے ایک مختلف رخ اختیار کیا۔ ان کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی نوجوان بیٹی، محترمہ بے نظیر بھٹو، میدان سیاست میں اتریں۔
ضیاء آمریت کے سخت دور میں، جب سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد تھیں، پی پی پی کی قیادت اورکارکن جیلوں میں تھے اور جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی، بے نظیر بھٹو نے ایک نئی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ایک نوجوان خاتون کا اس سخت اور مردانہ غلبے والے سیاسی ماحول میں قیادت کے طور پر ابھرنا بذاتِ خود ایک غیر معمولی تاریخی واقعہ تھا۔انہیں قید و بند، جلاوطنی، سیاسی مخالفت، کردار کشی اور جان لیوا حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود 1988ء میں عوامی حمایت کے ساتھ ان کا اقتدار میں آنا صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں تھی بلکہ جمہوری جدوجہد اور آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی تھا۔ وہ مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔تاہم اقتدار کا سفر بھی ان کے لیے آسان ثابت نہ ہوا۔ ان کی حکومتیں قبل از وقت ختم کی گئیں، ان کے خاندان کو سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کے شوہر آصف علی زرداری نے طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کا سب سے بڑا امتحان 2007ء میں آیا۔ وہ جانتی تھیں کہ پاکستان واپسی کا فیصلہ ان کی زندگی کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے۔
کراچی کے کارساز پر ہونے والا دہشت گرد حملہ اس خطرے کا واضح اظہار تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے محفوظ جلاوطنی کو ترجیح دینے کے بجائے اپنے عوام کے درمیان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ان کے نزدیک سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام سے کیا گیا ایک عہد اور اخلاقی ذمہ داری تھی۔ یہی سوچ انہیں خطرات کے باوجود پاکستان واپس لائی۔ بالآخر 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد وہ دہشت گرد حملے کا نشانہ بنیں۔لیاقت باغ کا واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب بن گیا، جہاں ایک بار پھر بھٹو خاندان نے جمہوری جدوجہد کی قیمت اپنی جان سے ادا کی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو وراثت ایک مرتبہ پھر ایک بڑے سیاسی اور تاریخی امتحان سے دوچار ہوئی۔ ایسے جذباتی اور بحرانی لمحات میں، جب ملک بھر میں غم و غصے کی کیفیت تھی اور سیاسی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا تھا، آصف علی زرداری نے “پاکستان کھپے”کا نعرہ لگا کر نہ صرف ایک ممکنہ انتشار کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ بھٹو وراثت کے سیاسی تسلسل کو بھی برقرار رکھا۔
آصف علی زرداری نے نہ صرف اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی اہلیہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد، مشکلات اور قربانیوں کو قریب سے دیکھا تھا
بلکہ خود بھی پاکستان کے سیاسی نظام کی سختیوں کا سامنا کیا۔ طویل قید و بند، سیاسی مقدمات اور مسلسل الزامات کے باوجود انہوں نے سیاسی میدان کو ترک نہیں کیا۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ پاکستان کی سیاست میں مخالفت کی قیمت اکثر محض سیاسی نقصان یا تنقید تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات ذاتی آزادی، عزت اور زندگی تک جا پہنچتی ہے۔
اس تمام تلخ تاریخی تجربے کے باوجود آصف علی زرداری نے اپنے اکلوتے بیٹے، بلاول بھٹو زرداری، کو اسی مشکل اور غیر یقینی سیاسی میدان میں آگے بڑھایا۔ ایک ایسے والد کے لیے، جس نے اپنی شریکِ حیات کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں کھویا ہو، اپنے بیٹے کو اسی راستے پر بھیجنے کا فیصلہ محض سیاسی حکمت عملی نہیں ہو سکتا۔ یہ اس یقین کی علامت ہے کہ بعض سیاسی خاندانوں کے لیے سیاست صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری، عوامی خدمت کا عہد اور ایک طویل جدوجہد کا تسلسل بن جاتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی سفر بھی اسی پیچیدہ وراثت کے ساتھ شروع ہوا۔ انہیں ایک طرف اپنے خاندان کی تاریخی قربانیوں اور عوامی جذبات کا ورثہ ملا، جبکہ دوسری طرف جدید دور کے تقاضوں، عوامی احتساب اور جمہوری کارکردگی کے کڑے معیار کا سامنا بھی ہے۔ کسی بھی سیاسی وارث کی طرح ان کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی فیصلہ ان کی اپنی سیاسی کارکردگی، فیصلوں اور عوامی اعتماد سے ہی ہوگا۔
یہاں ایک متوازن جمہوری اور علمی نقطۂ نظر سے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ خاندانی اور موروثی سیاست پر تنقید کا حق ہر جمہوری معاشرے میں موجود رہتا ہے۔ جمہوریت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کوئی بھی فرد، جماعت یا خاندان محض اپنے ماضی، نام یا قربانیوں کی بنیاد پر دائمی استثنا کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ سیاسی قیادت کو ہر دور میں عوامی احتساب، شفافیت اور کارکردگی کے معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح کسی بھی سیاسی وراثت کا جائزہ صرف خاندانی تعلق یا اقتدار کے ادوار تک محدود کر دینا بھی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ایک سنجیدہ تاریخی تجزیہ شخصیات اور تحریکوں کو ان کے مکمل تناظر میں دیکھتا ہے؛ ان کی کامیابیوں، ناکامیوں، غلطیوں، پالیسیوں، نظریات اور قربانیوں سب کو سامنے رکھتا ہے۔بھٹو کی سیاسی وراثت کو بھی اسی وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس وراثت میں عوامی سیاست کا فروغ، آئینی جدوجہد، جمہوری اداروں کی مضبوطی کی کوششیں، ریاستی طاقت کے خلاف مزاحمت اور عوام کے ساتھ سیاسی وابستگی کے پہلو شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ اس کے مختلف ادوار کے فیصلوں اور پالیسیوں پر تنقیدی بحث بھی جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے۔
پاکستان میں سیاست کا سب سے بڑا امتحان شاید یہی ہے کہ جب حالات مکمل طور پر مخالف ہوں، جب طاقتور حلقے کسی سیاسی قوت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں، جب جبر، مقدمات اور خطرات راستہ روک رہے ہوں، تو قیادت اپنے نظریے اور عوامی وابستگی کے ساتھ کس حد تک کھڑی رہتی ہے۔اقتدار کی منزل بہت سے لوگوں کو ملتی ہے، مگر تاریخ کے صفحات پر مستقل جگہ صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنے یقین، اصولوں اور مقصد سے رشتہ برقرار رکھتے ہیں۔ سیاسی کامیابی وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، لیکن استقامت اور قربانی کا اثر تاریخ کے حافظے میں باقی رہتا ہے۔
اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض نے اسی جذبۂ استقامت، وفاداری اور نظریاتی وابستگی کو اپنے لازوال اشعار میں یوں بیان کیا:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
میدانِ وفا دربار نہیں، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
گر بازیٔ عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
پاکستانی سیاست میں بھٹو وراثت کی اصل حقیقت بھی اسی استقامت کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ اختلافات، تنقید، سیاسی بحث اور تاریخی جائزہ اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ اس خاندان اور اس سے وابستہ سیاسی تحریک نے پاکستان میں جمہوری جدوجہد کے دوران غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو اور پھر موجودہ نسل تک اس سیاسی سفر میں اقتدار کے لمحات بھی آئے اور انتہائی کٹھن آزمائشیں بھی۔ قید، جلاوطنی، سیاسی مقدمات اور شہادتیں اس تاریخ کے تلخ ابواب ہیں۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ وقت کے ساتھ تشکیل پاتا ہے۔ لیکن تاریخ کا ایک اصول واضح ہے: وہ نام زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں جو صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ کسی تصور، کسی مقصد اور عوام کے ساتھ اپنے تعلق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔بھٹو وراثت کی سب سے نمایاں علامت شاید یہی ہے کہ تمام تر اختلافات اور بحثوں کے باوجود یہ سیاسی داستان پاکستان کی تاریخ میں مزاحمت، قربانی اور استقامت کے ایک اہم باب کے طور پر موجود رہی ہے اورہے گی۔