سنوغر- پرواک پل خستہ حالی کا شکار، کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خدشہ، داد رسی کی اپیل
۔
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) سنوغر اور پرواک کو آپس میں ملانے والا واحد پل انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں سے روزانہ سینکڑوں افراد، خصوصاً طلبہ اور مریض، جان ہتھیلی پر رکھ کر گزرنے پر مجبور ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق 29 جون 2007 کے تباہ کن سیلاب میں اصل پل دریا برد ہو گیا تھا، جس کے بعد علاقے کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت عارضی پل تعمیر کیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ 19 سال گزرنے کے باوجود آج تک اس پل کی باقاعدہ تعمیر عمل میں نہیں لائی جا سکی، اور لوگ اسی خستہ حال ڈھانچے پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پل کی موجودہ حالت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ جبکہ روزانہ اس پل سے عام راہگیروں کے ساتھ طلباو طالبات بھی گزرتے ہیں، انہوں نے اس صورتحال کو سیاسی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔
عوام نے چترال ٹائمز کے ذریعے ڈپٹی کمشنر اپر چترال، اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے قبل فوری اقدامات کیے جائیں اور مستقل بنیادوں پر ایک مضبوط پل کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے سیاسی نمائندوں سے بھی اپیل کی ہے کہ آئندہ پری بجٹ سیشن میں اس دیرینہ مسئلے کو اجاگر کر کے اس کے لیے باقاعدہ فنڈز مختص کروائے جائیں تاکہ علاقے کے عوام کو اس خطرناک صورتحال سے نجات مل سکے۔
دریں اثنا علاقے کی سماجی کارکن سجاد سرنگ نے اس صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے منتخب نمائندگان کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

