پارلیمان کوفیصلہ سازی کا مرکز بنائیں – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ سے قبل، اسلام آباد ایک بار پھر کنٹینروں کا شہر بنتا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر کھڑی رکاوٹوں اور اس سیاسی تعطل کا خمیازہ اب عام شہری بھگت رہے ہیں۔ بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، سفر کرنے والے خاندان پریشان ہیں اور امتحانات کی تیاری کرنے والے طالب علم اس فکر میں ہیں کہ بند راستوں کے ہوتے ہوئے وہ امتحانی مراکز تک کیسے پہنچیں گے۔ دفعہ 144 اور شاہراہوں کی بندش نے دارالحکومت کے باسیوں کو ایک بار پھر اس سیاسی کشمکش کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں جب بھی پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کرتی ہے، حکومتِ وقت وہی پرانا طریقہ اپناتی ہے۔ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، حراستیں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور پورا شہر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ یوں دارالحکومت کے شہریوں کی روزمرہ زندگی سیاست کی نذر ہو جاتی ہے۔
اسلام آباد کے شہریوں کے لیے یہ صورتِ حال اب کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سےسیاسی کردار اور نعرے بدلتے رہے ہیں، لیکن منظرنامہ وہی رہا ہے: ایک سیاسی جماعت احتجاج کرتی ہے، حکومت راستے بند کر کے اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے اور اس محاذ آرائی کا نقصان عام شہری اٹھاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست طویل عرصے سے شدید تقسیم کا شکار ہے۔ ہمارے ہاں یہ تلخ حقیقت عام ہے کہ حکمران اقتدار سے یا تو ہتھکڑیوں میں رخصت ہوتے ہیں یا پھر تابوت میں۔ ایسے ماحول میں سیاسی اختلاف کے لیے درمیانی راستہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور سیاست دو حصوں میں بٹ چکی ہے: محبِ وطن یا غدار، جمہوری یا آمر۔ سیاسی حریفوں کو اب آئینی نظام کا حصہ سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کے لیے وجودی خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔
نتیجے کے طور پر انتخابات کو حکومت کرنے کا عارضی عوامی مینڈیٹ ماننے کے بجائے سیاسی بقا کی جنگ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس مسلسل محاذ آرائی نے جمہوری اداروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پی ٹی آئی کے بڑے پیمانے پر احتجاج اور دھرنوں نے سڑکوں پر احتجاج کو پارلیمانی سیاست کے متبادل کے طور پر پیش کر دیا ہے۔
احتجاجی سیاست کا یہ رجحان ان ادوار کے بالکل برعکس ہے جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے برسوں کی منفی سیاست سے منہ موڑ کر 2006 کے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا اور عہد کیا کہ شدید سیاسی اختلاف کے باوجود جمہوری عمل کی بقا کے لیے ایک نکتے پر متفق رہیں گی۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے عزم کیا تھا کہ منتخب حکومتوں کو غیر آئینی طریقوں سے کمزور نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اقتدار کے لیے فوج کی حمایت حاصل کی جائے گی۔
اس سیاسی سمجھوتے کے بعد اہم اصلاحات بھی کی گئی۔ ساتویں این ایف سی (NFC) ایوارڈ اور اٹھارویں آئینی ترمیم اس کی درخشاں مثالیں ہیں، جنہوں نےوفاقی مالیاتی نظام اور پارلیمانی نظام کو مضبوط کیا اور صوبوں کو زیادہ اختیارات اور وسائل منتقل کیے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ جب سیاسی جماعتیں تصادم کے بجائے اداروں کو ترجیح دیتی ہیں تو بات چیت سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور 2011 میں ملکی سیاست ایک بار پھر ایوانوں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئی۔ پی ٹی آئی اچانک ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھری اور روایتی جماعتوں کے لیے بڑا چیلنج بن گئی۔ یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کو متبادل قوت بنانے میں مدد دی، جن کی تائید اور تردید آج تک ہوتی رہی ہے۔ تاہم ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کوئی نیا سوال نہیں۔
پی ٹی آئی کے 2013 کے احتجاج اور بالخصوص 2014 کے 126 روزہ اسلام آباد دھرنے نے منتخب حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے شہر کی ناکہ بندی کو ایک اہم سیاسی طریقہ بنا دیا۔ اس دھرنے کی اہم نظیر یہ بنی کہ انتخابی تنازعات کو پارلیمان یا عدالتوں میں حل کرنے کے بجائے دارالحکومت کا گھیراؤ کر کے حکومت کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کیا جانے لگا۔ یوں یہ تصور مضبوط ہوا کہ حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال کر مطالبات منوائے جا سکتے ہیں،جس سے دیگر جماعتوں کو بھی یہی راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ملی۔ یوں اسلام آباد کھلم کھلاسیاسی دباؤ اور سودے بازی کا میدان بن کر رہ گیا۔
لیکن ان دھرنوں اور بار بار کے احتجاجی مظاہروں کا بوجھ ہمیشہ عام شہریوںپر پڑا۔ دیہاڑی دار مزدور آمدن سے محروم ہو جاتے ہیں، چھوٹے کاروبار متاثر ہوتے ہیں، اسکول بند ہوتے ہیں اور ہسپتالوں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل بھی شاہراہیں بند کر کے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں جس سے اسلام آباد کے باسیوں کی زندگی مفلوض ہو کر رہ گئی ہے۔
پرامن اجتماع کا حق ہر جمہوریت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن یہ حق دوسرے شہریوں کے حقوق سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ جب سیاسی سرگرمیاں سڑکیں بند کریں، تعلیم اور روزگار کو متاثر کریں، تو احتجاج کرنے والوں کا حق ان لاکھوں شہریوں کے حقوق سے ٹکراتا ہے جو احتجاج کا حصہ نہیں ہیں۔تاہم اس تمام تر بگاڑ کی ذمہ دار صرف اپوزیشن نہیں ہے۔ ہر دور کی حکومتوں نے بھی مخالفین کو دبانے کے لیے انتظامی پابندیوں، گرفتاریوں اور راستے بند کرنے جیسے حربے استعمال کیے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج کی اپوزیشن جس جبر کی مذمت کرتی ہے، کل اقتدار میں آ کر وہی کچھ اپنے مخالفین کے ساتھ کرتی ہے۔
ہماری سیاست کو اس وقت مصلحتوں کے بجائے متفقہ اور طے شدہ اصولوں کی ضرورت ہے۔ ایک فعال جمہوریت وہ نہیں جس میں اختلاف نہ ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کو آئینی اورسیاسی دائرے میں حل کرے۔ اس کے لیے ایسی اپوزیشن چاہیے جو آئین کا احترام کرے، ایسے انتخابی ادارے چاہیے جن پر عوام کو اعتماد ہو، اور ایسی سیاسی قیادت چاہیے جو پارلیمان کو سیاسی اختلاف اور قومی فیصلہ سازی کا بنیادی ایوان تسلیم کرے۔
اس وقت وطنِ عزیز کو کسی عارضی سیاسی سمجھوتے کی نہیں بلکہ ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت ہے، جو عوامی مینڈیٹ کے احترام، اقتدار کی پرامن منتقلی، قابلِ اعتماد طریقۂ کار کے ذریعے انتخابی تنازعات کے حل، پرامن احتجاج کے حق کی پاسداری اور بلا ابہام سویلین بالادستی جیسے بنیادی جمہوری اصول طے کرے۔اس کے ساتھ ساتھ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے نکلنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی غیر سیاسی اداروں نے یہ طے کرنے کی کوشش کی کہ کون اقتدار میں آئے گا اور کون باہر ہوگا، تو اس کے نتائج ملک کے لیے تباہ کن رہے۔
جب تک سیاسی قیادت سڑکوں پر احتجاجی سیاست کو نہیں چھوڑتی اور اسٹیبلشمنٹ یہ تسلیم نہیں کر لیتی کہ اقتدار کا فیصلہ صرف عوام کے ووٹ سے ہوگا، تب تک اسلام آباد اسی چکر میں پھنسا رہے گا: سڑکوں پر کنٹینر، چوراہوں پر ناکے اور ان سب کے درمیان پسنے والے بے بس عام شہری۔دارالحکومت کو ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں ادارے ملک کے مستقبل پر مذاکرات کریں، نہ کہ ایسی جگہ جہاں سیاسی حریف ایک دوسرے سے درینہ دشمنوں کی طرح اپنے حساب چکاتے رہیں۔