پنجشیر اور چترال کا ٹرانزٹ راستہ زیباک بدخشان کے ذریعے پہلی بار منسلک، علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، پاکستانی حکام سے شاہ سلیم بارڈر کھولنے کا مطالبہ
چترال ( چترال ٹائمزرپورٹ ) صوبہ بدخشاں کے ضلع زیبک کے راستے سے پنجشیر اور فرضی ڈیورنڈ لائن کے درمیان ٹیکٹیکل سڑک کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ صوبہ پہلی بار چترال سے منسلک ہو گیاہے۔
امارت اسلامی کے نیشنل ٹیلی وژن کے مطابق صوبہ پنجشیر کے ترجمان سیف الدین لیٹن کا کہنا ہے کہ 194 کلومیٹر لمبا اور 10 میٹر چوڑا یہ سڑک افغانستان کے دشوار گزار پہاڑی راستوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا جو مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پنجشیر میں قائم وزارت قومی دفاع نے اس کا م کو مکمل کر لیا ہے ۔

پنجشیر کے گورنر حافظ محمد آغا حکیم نے اس سڑک کے کام کی تکمیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے۔ کہ امارت اسلامی نے سٹریٹجک سڑکیں بنا کر پنجشیر کو معاشی تنہائی سے نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس راستے سے پنجشیر نورستان، تخار، بدخشاں اور آخر میں چترال سے جڑا ہوا ہے۔
وزارت دفاع ملی کے ڈویژن فوقالعاده کے انجینئرنگ شعبے کے مسئول حافظ مولوی نقیبالله فرقانی نے باختر ایجنسی کو بتایا کہ اس سڑک کی تعمیر انجینئروں نے متعلقہ اداروں کے تعاون سے شروع کی تھی، جو پریان پنجشیر سے 175 کلومیٹر کی لمبائی اور 12 میٹر کی چوڑائی پر مشتمل ہے، اور تکمیل کے بعد زیباک ضلع کے توپخانه علاقے کو شاہ سلیم زیرو پوائنٹ چترال پاکستان سے جوڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سڑک کی تعمیر افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے مختصر ترین راستہ منتخب کرنے کے لیے کی گئی ہے، جو تقریباً 10 مہینوں میں مکمل ہوئی ہے۔
بدخشان کے اطلاعات و ثقافت کے سربراہ انجینئر ذبیحالله امیری نے اس سڑک کی تعمیر کو افغانستان کے لیے تجارتی ٹرانزٹ کے سلسلے میں نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ اس سڑک کے افتتاح کے بعد افغانستان کے شمال مشرقی، مشرقی اور وسطی صوبے آپس میں منسلک ہو جائیں گے اور تجارتی سامان پاکستان سے افغانستان اور افغانستان سے پاکستان کم وقت میں منتقل کیا جا سکے گا۔
اسی دوران، مقامی باشندوں نے زیباک ضلع کے توپخانه بندرگاہ کو شاہ سلیم چترال کے ساتھ کھولنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور امارت اسلامی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سڑک کے افتتاح کے ساتھ ساتھ مذکورہ بندرگاہ کو بھی فعال کیا جائے۔
دریں اثنا چترال کے مختلف مکاتب فکر نے بھی اس سڑک کی تعمیر کو علاقےکی ترقی کےلئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہےکہ جلد ازجلد شاہ سلیم بارڈر کو جائز کاروباری مقاصد کےلئے کھول کردونوں طرف پسماندہ علاقوں کی ترقی میں اپنا کردار اداکریں۔



Pictures with thanks from Badakhshan Media

