ہندوکش کے دامن سے ۔ پانی کے بلبلے ۔ چترال کی پسماندگی کے اصل ذمہ دار کون؟ ۔ تحریر: عبد الباقی
چترال کی پسماندگی، بنیادی حقوق سے محرومی اور سہولتوں کی کمی کے اصل ذمہ دار خود چترالی عوام ہیں، جو ہر انتخاب میں امیدوار کی اہلیت، قابلیت اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھنے کے بجائے رشتہ داری، برادری، ذاتی مفادات اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے افراد اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جو علاقے کے مسائل حل کرنے کے بجائے ذاتی یا جماعتی ایجنڈے میں الجھے رہتے ہیں۔
2018 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی نمائندوں نے اپنے پسماندہ حلقے کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے کشمیر، فلسطین اور سودی نظام کے خلاف تقاریر میں پانچ قیمتی سال ضائع کر دیے، جس کے نتیجے میں چترال ترقیاتی کاموں سے مکمل طور پر محروم رہا۔ 2024 کے انتخابات میں بھی عوام نے ایسے نمائندے منتخب کیے جو عوامی مسائل کے بجائے اپنے محبوب قائد کی رہائی کو ہی اپنی سیاست کا محور بنائے رہے، حتیٰ کہ عوامی عہدے سے محرومی کے بعد بھی ان کی آوازیں بے اثر ثابت ہوئیں۔
صوبائی سطح پر بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے، جہاں عوامی نمائندے حلقے کے مسائل کے بجائے قیادت کے دیدار میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی میں نمائندے کشمیر و فلسطین کے جنون میں مبتلا رہے، آج قیادت کی رہائی کا جنون حاوی ہے، مگر عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
چترال کے عوام گزشتہ اٹھہتر برسوں سے تعلیم، صحت، سڑکوں اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ ضلع میں واحد ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں اور جدید آلات کی شدید کمی ہے، جس کے باعث مریضوں کو پشاور ریفر کیا جاتا ہے۔ طویل اور کٹھن سفر کے بعد بھی اکثر مریضوں کو بروقت علاج میسر نہیں آتا۔ تحصیل اور دیہی سطح کے ہسپتال بھی سہولتوں سے خالی ہیں۔
سڑکوں کی صورتحال بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ شندور روڈ، بمبوریت روڈ، گرم چشمہ روڈ اور بونی بوزند تورکہو روڈ جیسے اہم منصوبے فنڈز کی کمی کے باعث برسوں سے التوا کا شکار ہیں۔ ترقی کے وعدے محض دعوؤں تک محدود ثابت ہوئے ہیں۔ لواری ٹنل کی تکمیل میں 42 سال اور گولین گول پاور پراجیکٹ میں 31 سال لگنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمرانوں نے چترالی عوام کی شرافت اور امن پسندی کو کمزوری سمجھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ چترالی عوام، خصوصاً نوجوان نسل، ذاتی پسند و ناپسند اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنے اجتماعی مفادات کے لیے بیدار ہوں۔ آئندہ انتخابات میں ایسے نمائندے منتخب کیے جائیں جو اہلیت، قابلیت اور عوامی خدمت کا حقیقی جذبہ رکھتے ہوں۔ جب تک عوام خاموش رہیں گے، چترال کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

