پختون سیاست: تاریخ کے رومان سے زمینی حقیقت تک ۔ تحریر: قریش خٹک
۔
برطانوی دفاعی ماہر اور گوریلا جنگوں کے نامور اسٹریٹجسٹ سر رابرٹ تھامسن کے بقول، ”قومی طاقت وسائل، انسانی قوت اور قومی ارادے کا مجموعہ ہوتی ہے، جبکہ قومی ارادہ بنیادی طور پر قیادت کے کردار اور مثال سے جنم لیتا ہے۔“ یہ جملہ انسانی تاریخ کے آئینے میں دنیا کی کئی اقوام کی طرح پختون قوم کی موجودہ سیاسی، سماجی اور تاریخی صورتحال پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض قومیں مادی وسائل کی کمی کے باوجود صرف دوراندیش، مخلص اور باکردار قیادت کی بدولت پستی کے اندھیروں سے نکل کر ترقی کے افق پر چمک اٹھیں، جبکہ بعض قومیں بے پناہ قربانیوں اور قدرتی وسائل کے باوجود قیادت کے بحران کے باعث فکری انتشار، داخلی تقسیم اور نفسیاتی غلامی کا شکار ہو گئیں۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند صدیوں کے دوران پختون قوم بھی بڑی حد تک اسی المیے سے دوچار رہی ہے۔ اس قومی بحران کا بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو پختون سماج کی ایک بڑی نفسیاتی اور فکری کمزوری یہ سامنے آتی ہے کہ اس نے اپنی تاریخ اور سیاست کو اکثر زمینی حقائق کے بجائے شاعرانہ اور رومانوی زاویے سے دیکھا۔ ماضی کی فتوحات، قبائلی بہادری اور جنگی روایات کو پختون بیانیے میں اس انداز سے پیش کیا گیا کہ حال کے حقیقی اور سنگین مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ یہ مروجہ سیاسی رویہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتا رہا کہ قومیں صرف ماضی کے قصوں یا فخرِیہ داستانوں کے سہارے زندہ نہیں رہتیں۔ زندہ قومیں ماضی سے سبق سیکھتی ہیں، اپنے حال کو سنوارتی ہیں اور مستقبل کی تعمیر کے لیے حکمتِ عملی وضع کرتی ہیں۔
مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہوا کہ اکثر روایتی قیادت نے تاریخ کے اسی رومان کو شعور کا متبادل بنا کر پیش کیا۔ جذباتیت کی اس فضا نے پختون معاشرے کو جدید سیاسی, معاشی، سائنسی اور علمی تقاضوں کے مطابق اپنی سمت متعین کرنے سے روکے رکھا۔ جب دنیا صنعتی، ڈیجیٹل اور فکری انقلابات سے گزر رہی تھی، پختون نوجوان کو شعوری یا لاشعوری طور پر انہی پرانے معرکوں کی یاد دلا کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، جس کا نتیجہ سیاسی اور فکری جمود کی صورت میں نکلا۔
یہ ایک تلخ مگر ناگزیر حقیقت ہے کہ بیسویں صدی کے آخری عشروں اور اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں پختون قوم ایک ایسی موثر، یکسو اور دوراندیش قیادت سے محروم رہی جو بدلتی ہوئی دنیا اور خطے کے نئے تزویراتی منظرنامے کو سمجھ سکتی۔ اس فقدان نے قوم کے اندر ایک مربوط قومی ارادے اور اجتماعی مقصد کو شدید نقصان پہنچایا۔ فکری ابہام، موقع پرستی اور موروثی مفادات نے پختون سماج کو تقسیم، بے یقینی اور احساسِ محرومی کے ایک ایسے دائرے میں دھکیل دیا جہاں قومی سیاست اکثر تخلیقی اور تعمیری ہونے کے بجائے محض ردعمل کی سیاست بن کر رہ گئی۔ بڑے تاریخی مواقع آئے، خطے کی جیو پولیٹکس نے کروٹیں لیں، لیکن ان نازک موڑوں پر قوم کی رہنمائی محدود وژن اور ذاتی یا خاندانی مفادات کے اسیر افراد کے ہاتھ میں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پختون قوم اپنی لازوال قربانیوں اور بے شمار نقصانات کے باوجود آج بھی سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور فکری خوداعتمادی کے بحران سے گزر رہی ہے۔
روایتی قوم پرست حلقوں کی جانب سے اکثر یہ شکوہ سامنے آتا ہے کہ پختون عوام اپنی قوم پرست قیادت اور نظریاتی مقاصد کا اس طرح ساتھ نہیں دیتے جس طرح دینا چاہیے تھا، اور اسی وجہ سے پختون نیشنلزم ایک مضبوط عوامی تحریک میں تبدیل نہ ہو سکا۔ بظاہر یہ بات جزوی طور پر درست محسوس ہو تی ہے کیونکہ پختون عوام کی اکثریت نے کبھی بھی انتخابی سیاست میں قوم پرست جماعتوں کا بھرپور ساتھ نہیں دیا، مگر اس سوال کا دوسرا اور زیادہ اہم پہلو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام محض کسی مبہم نظریے کے پیچھے اندھی تقلید میں نہیں چلتے بلکہ وہ موثر، مخلص اور عملی قیادت کے کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔ عوام کو صرف نعروں، جذبات خطابت اور مظلومیت کے بیانیے سے زیادہ دیر قائل نہیں رکھا جا سکتا؛ انہیں دلیل، اخلاقی کردار، واضح معاشی و سماجی وژن اور عملی جدوجہد سے مطمئن کیا جاتا ہے۔ آج کا پختون نوجوان، جو انٹرنیٹ اور عالمگیریت کے دور میں جی رہا ہے، صرف ماضی کے شکووں اور محرومیوں کا رونا رونے والے رہنماؤں کے مبہم سیاسی وژن سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک ایسا قابلِ عمل سیاسی و معاشی پروگرام مانگتا ہے جو اس کے مستقبل، اعلیٰ تعلیم، روزگار، امن، عزتِ نفس اور عالمی سطح پر وقار کی ضمانت دے سکے۔ اگر قیادت عوام کو عقل کی سطح پر مطمئن اور دل کی سطح پر متحرک کرنے کی صلاحیت کھو دے، تو پھر عوامی لاتعلقی کو صرف قوم کی بے حسی قرار دینا حقیقت کا ادھورا اور ناقص تجزیہ ہوگا۔
پاکستان کی پیچیدہ اور کثیرالقومی وفاقی سیاست میں پختون نیشنلزم آج ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی روایتی جدوجہد اور مستقبل کے جدید تقاضوں کے درمیان واضح فکری خلیج دکھائی دیتی ہے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں میں پختون قوم پرست سیاست نے بعض اہم آئینی کامیابیاں حاصل کیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کے تصور کو تقویت ملی، جبکہ سابقہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے “خیبر پختونخوا” رکھنا ایک بڑی علامتی اور تاریخی کامیابی قرار پایا۔ ان اقدامات نے وفاقی ڈھانچے میں پختون شناخت کا آئینی اعتراف تو کروا دیا، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان علامتی فتوحات سے آگے، اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کے سولہ سالوں میں عام پختون کی زندگی میں کوئی حقیقی اور مثبت تبدیلی پیدا ہوئی؟ کسی بھی قوم کی سیاسی شناخت کی آئینی توثیق یقیناً اہم ہوتی ہے، لیکن شناخت بذاتِ خود عوام کی معاشی بدحالی، غربت اور سماجی پسماندگی کو ختم کرنے کی خودکار ضمانت نہیں ہوتی۔ اگر شناخت کی سیاست کو معاشی اصلاحات، جدید تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے حقیقی ایجنڈے سے نہ جوڑا جائے، تو وہ محض علامتی فتوحات اور اقتدار کے حصول تک ہی محدود رہ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے یہی المیہ پختون سیاست کے ساتھ بھی پیش آیا۔ قوم پرست قیادت نے اپنے بیانیے کو زیادہ تر شناخت، زبان اور تاریخی محرومیوں کے گرد مرکوز رکھا، جبکہ عام پختون کی روزمرہ زندگی کے بنیادی مسائل—جیسے اسکولوں کی بدحالی، اسپتالوں میں سہولیات کی کمی، میرٹ کی پامالی اور بدعنوانی—پس منظر میں چلے گئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ روایتی قوم پرست قیادت کی دیکھا دیکھی آج جب لوگ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کے مسلسل تین ادوار کی حکومتی کارکردگی اور جوابدہی پر انگلی اٹھاتے ہیں، تو صوبائی اقتدار کے مزے لوٹنے والے حکمران بھی وفاق سے شکایت اور وسائل سے محرومی کے روایتی پردے میں چھپنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں موجود صوبائی وسائل کی کرپشن، اقربا پروری اور حکومتی نااہلی پر کوئی بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔
اس بحث کا ایک اور اہم فکری پہلو یہ ہے کہ پختون قوم پرست قیادت اکثر شہری حقوق اور فرد کی آزادی کے جدید جمہوری تصور کو پوری گہرائی سے سمجھنے اور اپنے اندر نافذ کرنے میں ناکام رہی۔ اجتماعی قومی حقوق کا مطالبہ اپنی جگہ سو فیصد درست ہوسکتا ہے، مگر اگر کوئی تحریک فرد کی آزادی، اختلافِ رائے، جمہوری تنوع اور قانون کی حکمرانی کو اہمیت نہ دے، تو وہ خود اپنے اندر فکری تضادات پیدا کر دیتی ہے۔ جدید دنیا میں کامیاب قومیں صرف نسلی یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ شہری آزادیوں، اداروں کی مضبوطی اور انسانی ترقی کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں۔ پختون سیاست میں ایک بڑا تضاد یہ رہا کہ قومیت کے مبہم تصور کو فرد پر فوقیت دیتے ہوئے شخصی آزادیوں اور قیادت پر تنقید کو شجرِ ممنوعہ سمجھا گیا، جس سے جدید جمہوری کلچر پنپ نہ سکا۔ آج پختون قوم پرست سیاست کی باگ ڈور عملی طور پر چند مخصوص خاندانوں تک محدود ہو چکی ہے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی خاندان بھی اب آپس میں سیاسی وراثت اور اجارہ داری پر دست و گریباں دکھائی دیتے ہیں۔
اسی تناظر میں اگر پختون علاقوں کے قدرتی وسائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ خطہ قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پختون بیلٹ معدنیات، گیس، تیل، پانی، پن بجلی اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے پاکستان کے اہم ترین خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ماضی میں پختون سیاست کا زیادہ زور وفاق سے وسائل میں منصفانہ حصہ لینے کے مطالبے پر رہا، جو یقیناً ایک جائز آئینی مؤقف تھا۔ لیکن اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس بحث کو صرف “حصہ لینے” کے روایتی فلسفے سے آگے بڑھا کر “وسائل کے موثر اور شفاف استعمال” کی طرف لایا جائے۔ صرف یہ نعرہ مستانہ لگانا کافی نہیں کہ ”وسائل ہمارے ہیں“ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو پختون عوام کی فلاح، جدید صنعت کاری، تعلیمی ترقی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے۔ اگر پختون سیاست واقعی اپنی بقا اور ترقی کی خواہاں ہے تو اسے روایتی اور جذباتی قوم پرستی کے خول سے نکل کر ’معاشی قوم پرستی‘ کے جدید تصور کو اپنا نا ہوگا۔ اس کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہونا یا تنہائی پسندی کا شکار ہونا نہیں بلکہ اپنے نوجوانوں کو جدید سائنسی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آج کا پختون نوجوان اپنی ثقافت اور شناخت پر فخر ضرور کرتا ہے، مگر وہ عالمی ترقی کی دوڑ میں بھی شامل ہونا چاہتا ہے۔ اگر سیاسی بیانیہ صرف ماضی کے زخموں اور شکایات تک محدود رہا، تو نئی نسل بہت جلد اس سے لاتعلق ہو جائے گی، کیونکہ بھوکے پیٹ اور غیر محفوظ مستقبل کے ساتھ نعروں کی کشش زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
موجودہ دور میں عالمگیریت اور ڈیجیٹل میڈیا نے پختون سیاست کو ایک نئی جہت دی ہے۔ آج لاکھوں پختون دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں، اور یہ پختون ڈائسپورا سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے جو روایتی جغرافیائی حدود اور سنسرشپ سے آزاد ہے۔ یہ صورتحال جہاں ایک طرف پختون مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی ہے، وہاں دوسری طرف اس سے کچھ فکری پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بعض حلقے، جو مقامی زمینی حقائق کی سختیوں سے براہِ راست جڑے نہیں ہوتے، اکثر حد سے زیادہ جذباتی، انتہا پسندانہ اور سخت گیر بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی قیادت، عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی کی خلیج مزید گہری ہو جاتی ہے، جس کا خمیازہ آخرکار یہاں زمین پر رہنے والے پختون کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پختون ڈائسپورا کی اس بے پناہ مالی، علمی اور ڈیجیٹل توانائی کو صرف احتجاجی نعروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ضائع کرنے کے بجائے معاشی سرمایہ کاری، تعلیمی وظائف، علمی تحقیق اور عالمی سطح پر تعمیری لابنگ کے لیے استعمال کیا جائے۔ دنیا کی کئی بڑی اقوام نے اپنی بیرونِ ملک آبادی کی علمی اور مالی طاقت کو قومی ترقی کا ذریعہ بنایا، مگر بدقسمتی سے پختونوں کی یہ صلاحیت ابھی تک کسی مربوط تعمیری ایجنڈے پر مجتمع نہیں ہو سکی۔
پختون قوم پرست جماعتوں کی سیاست کا ایک اور بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف وہ پارلیمانی سیاست کا حصہ بنتی ہیں، انتخابات لڑتی ہیں اور اقتدار میں شریک ہوتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ان کے بیانیے میں ریاست اور وفاق کے بارے میں شدید بداعتمادی اور نفی کا عنصر بھی موجود رہتا ہے۔ یہ فکری تضاد نوجوان نسل میں شدید ابہام پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی جماعت آئین اور وفاقی ڈھانچے کے اندر رہ کر سیاست کرنا چاہتی ہے، تو پھر اسے اسی نظام کی مضبوطی، ادارہ جاتی استحکام اور جمہوری تسلسل کے لیے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ سیاست میں بیک وقت دو کشتیوں کی سواری قوموں کو کبھی منزل تک نہیں پہنچاتی۔ وفاقی آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے حقوق اور اختیارات کی جدوجہد کرنا کوئی کمزوری یا سمجھوتہ نہیں بلکہ جدید وفاقی جمہوریت کا حسن ہے۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ وفاقی ریاستوں میں مختلف قومیتیں آئینی دائرے کے اندر رہ کر ہی اپنے سیاسی اور معاشی حقوق حاصل کرتی ہیں۔ پختون سیاست کو بھی احتجاجی اور جذباتی ردعمل سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی، تعمیری اور پالیسی پر مبنی سیاست کی طرف جانا ہوگا۔ محض ریاست مخالف بیانیہ پختون عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ آخرکار، عوام کو نظریاتی بحثوں سے زیادہ سڑکیں، اسکول، اسپتال، امن، روزگار اور انصاف چاہیے۔ یہی وہ بنیادی عوامل ہیں جو کسی بھی قوم کو داخلی طور پر مضبوط اور باوقار بناتے ہیں۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ عظیم قومیں صرف عسکری بہادری یا جذباتی نعروں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ دانش، محنت، تنظیم، سائنسی تعلیم اور وژن سے آگے بڑھتی ہیں۔ جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا اور چین نے اپنی قومی طاقت صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ جدید تعلیم، صنعت، سائنس اور سخت قومی نظم و ضبط سے حاصل کی۔ اگر پختون قیادت واقعی قوم کے مستقبل اور وقار کے بارے میں سنجیدہ ہے، تو اسے جذباتیت کے سحر سے نکل کر علم، معیشت اور اداروں کی سیاست کرنی ہوگی۔ پختون نیشنلزم کا مستقبل اب مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اس کی قیادت اپنی تاریخی روایات اور جدید جمہوری و معاشی اصولوں کے درمیان کوئی متوازن اور معتدل راستہ نکال سکتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ سیاست خود کو ایک جامع ترقیاتی وژن میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف پختون علاقوں کی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ پاکستان کی وفاقی جمہوریت کے لیے بھی ایک مضبوط اور تعمیری ستون ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ سیاست ماضی کی شکایات، موروثی و خاندانی سیاست اور جذباتی نعروں کے گرد ہی گھومتی رہی، تو نئی نسل کے لیے اپنی تمام تر کشش کھو دے گی۔
وقت آ گیا ہے کہ پختون قیادت تاریخ کے رومان سے نکل کر اکیسویں صدی کی سنگین حقیقتوں کا سامنا کرے۔ قوموں کی تقدیر نعروں سے نہیں بلکہ وژن، مضبوط اداروں، اعلیٰ تعلیم، معاشی خودکفالت اور دیانت دار قیادت سے بدلتی ہے۔ پختون قوم کے پاس جفاکشی، وسائل، صلاحیت اور ایک بڑی نوجوان آبادی۔سب کچھ موجود ہے۔ اب ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اسے ایک بالغ نظر، جمہوری، ترقی پسند اور دوراندیش قیادت میسر آئےجو شناخت کو ترقی سے، سیاست کو خدمت سے، اور قومی شعور کو انسانی وقار سے جوڑ سکے۔
