پاک افغان عمائدین کا جرگہ کامیاب، ارندوایریا میں کشیدگی اور فائرنگ کا سلسلہ بندکرنے کا فیصلہ، اعلامیہ جاری
چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) پاک افغان سرحد کے ارندو ایریا میں دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے عمائدین کے درمیان ہونے والے ایک اہم جرگے کے بعد کشیدگی اور فائرنگ کا سلسلہ بند کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سرحدی علاقے ارندو کے مقامی مشران اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع ناڑی اور صوبہ نورستان کے اضلاع برگمٹال اور کامدیش کے عمائدین کے درمیان ایک بڑے جرگے کا انعقاد ہوا، جس میں سرحدی جھڑپوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ طویل مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔
جرگے میں طے پانے والے نکات کے مطابق افغان حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ضلع ناڑی سے لے کر برگمٹال تک کسی بھی علاقے میں تخریب کار عناصر کو سہولت فراہم نہیں کی جائے گی اور انہیں پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
معاہدے کے تحت یہ بھی طے پایا کہ اگر مذکورہ علاقوں سے پاکستانی حدود میں فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش آیا تو نورستان جانے والی رابطہ سڑک دوبارہ بند کر دی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق افغانستان کے علاقوں ناڑی، بریکوٹ، دوکلام اور کنڈاکسی کے شہری اپنے گھروں کو واپس جائیں گے، جبکہ پاکستانی علاقے ارندو کے عوام بھی اپنے گھروں کو واپسی کریں گے۔
مزید برآں ناڑی سے برگمٹال تک سڑک پیدل اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھلی رہے گی۔
جرگے میں دونوں اطراف کے سرحدی علاقوں کے عمائدین نے شرکت کی اور طے شدہ معاہدے پر دستخط کیے۔
پاکستانی جانب سے شریک عمائدین میں ارندو کے حاجی شیر محمد (سابق ناظم، ارندو خاص)، عبدالمجید (ارندو خاص)، ماہر شاہ (ارندو خاص)، مولانا احمد فقیر (ارندو خاص)، حاجی ملک جان (ارندو خاص)، حاجی شیر زمین (چیئرمین دمیل نثار)، حاجی غازی خان (ارندو گول)، حاجی گل حمید (دمیل نثار)، قاری محمد دائم (اکروہی)، حاجی ملک (اکروہی)، لال زمان (ارسون)۔
جبکہ افغانستان کی جانب سے شریک عمائدین میں حاجی گل ملا خان، حاجی گل حسن، حاجی متبر خان، عبدالستار ایوبی، حاجی محمد حسن، مولوی گل محمد، اصغر خان، وکیل محمد ظاہر، عمران، حاجی شاہ ولی، علی احمد، مولوی عبدالحق اور محبت اللہ شامل تھے۔
جرگے کے کامیاب انعقاد اور معاہدے کے بعد علاقے میں امن و استحکام کی بحالی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
