The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 30 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، موجودہ پالیسی تبدیل کی جائے تو 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے: سہیل آفریدی

Chitral Times

4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، موجودہ پالیسی تبدیل کی جائے تو 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے: سہیل آفریدی

4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، موجودہ پالیسی تبدیل کی جائے تو 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے: سہیل آفریدی

4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، موجودہ پالیسی تبدیل کی جائے تو 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے: سہیل آفریدی

۔
 پشاور( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیر اعلی ہاوس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی وی پر وفاقی حکومت کے دو مسخرے اور کارٹون بٹھائے گئے ہیں، جن کے صرف دو مقاصد ہیں، ایک 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے عوام کی توجہ ہٹانا اور دوسرا حکومت کی کرپشن چھپانے کے لیے لوگوں کی توجہ بھٹکانا ہے۔ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، عوام بڑی تعداد میں نکلیں گے اور پرامن طریقے سے احتجاج کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کسی بھی طریقے سے کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو رہی، انہیں لانے والے بھی جان چکے ہیں کہ نالائقوں کو عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے۔
 وزیر اعلیٰ نے مرکز میں پی ٹی آئی کی سابق حکومت اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں ملک کی جی ڈی پی شرح نمو 6.1 فیصد تھی، جو موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے 2.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ عمران خان کے دور میں فی کس آمدنی 1700 ڈالر تھی، جبکہ موجودہ حکومت آج بھی اس سطح تک نہیں پہنچ پائی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان جنگ کے حالات میں بھی 4.3 فیصد جی ڈی پی شرح نمو حاصل کر رہا ہے، جبکہ افغانستان کی فی کس آمدنی 355 ڈالر سے بڑھ کر 430 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ملک کا کل قرضہ پہلے 43 ہزار ارب روپے تھا، جو گزشتہ چار سالوں میں بڑھ کر 99 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ہمارا غریب طبقہ پس چکا ہے، 44.5 فیصد آبادی، یعنی 12 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ ایک طرف 12 کروڑ لوگوں کو دو وقت کا کھانا میسر نہیں، جبکہ دوسری طرف 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری برآمدات 30 ارب ڈالر ہیں جبکہ درآمدات 70 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں برآمدات اور درآمدات کا معاملہ اٹھایا تو جواب دیا گیا کہ ترسیلات زر آ رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ان کی پالیسی یہ ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی 44 فیصد آبادی کو مزید بڑھا کر 70 فیصد تک پہنچا دیا جائے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 4 اکتوبر کو اتنے لوگ نکلیں گے کہ یہ لوگ انہیں سنبھال نہیں سکیں گے۔ اگر کسی ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو عوام کا ردعمل سامنے آئے گا۔
 انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوام کی طاقت سے حکومت آئی ہے، کسی کی بیساکھیوں پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بٹھائے جانے والے یہ کارٹون عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ آپ کیڑے مکوڑے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور کارٹون نیٹ ورک عوام کے دلوں میں نفرتیں پیدا کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان میں انتشار پھیلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو عوام نہتے آئیں اور پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ کسی کے ہاتھ میں نقصان پہنچانے والی کوئی چیز ہوئی تو اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہوگا، وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہوگا یا ان کے لانے والوں کا ہوگا۔ محمد سہیل آفریدی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور یہ پرامن ہوگا۔ عوام اپنے جمہوری حق کے تحت پرامن احتجاج کریں گے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا نقصان پہنچانے والی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
۔

ملک کے قرضے میں چار سال کے دوران 56 ہزار ارب روپے اضافہ ہوا: مزمل اسلم

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ آج کل خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ صوبے کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال اور دیگر صوبوں کی کارکردگی کے تناظر میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے معیشت، برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار، ترقیاتی اخراجات، صحت و تعلیم اور مالی نظم و نسق بنیادی اشاریے ہیں، اور ان تمام شعبوں میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
 مشیر خزانہ نے کہا کہ 2022 میں جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو پاکستان کا مجموعی قرضہ 43.5 ٹریلین روپے، یعنی 43 ہزار 500 ارب روپے تھا، جو 30 جون 2026 تک بڑھ کر 99.5 ٹریلین روپے، یعنی 99 ہزار 500 ارب روپے ہو چکا ہے۔ اس طرح تقریباً چار سال میں ملک کے قرضے میں 56 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ صوبہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، حالانکہ 2024 میں صوبے کا مجموعی قرضہ 634 ارب روپے تھا جو دو سال میں بڑھ کر 809 ارب روپے ہوا، جبکہ صوبائی حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے الگ اکاونٹ قائم کیا ہے جس میں اس وقت تقریباً 250 ارب روپے موجود ہیں۔ اس طرح قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص رقم کو بھی سامنے رکھا جائے تو صوبے کی مالی پوزیشن کی درست تصویر سامنے آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اس کی برآمدات ہوتی ہیں، لیکن پاکستان کی برآمدات میں گزشتہ چار سال کے دوران اضافہ ہونے کے بجائے کمی آئی ہے۔ 2022 میں پاکستان کی برآمدات 31.8 ارب ڈالر تھیں جبکہ 2026 میں یہ تقریباً 30.8 ارب ڈالر ہیں، یعنی چار سال بعد بھی برآمدات 2022 کی سطح سے ایک ارب ڈالر کم ہیں۔ بڑے برآمدی اہداف کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عملی طور پر برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے گئے، مختلف ممالک سے سرمایہ کاری اور وفود کی آمد کی بات کی گئی، لیکن گزشتہ سال پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری صرف 486 ملین ڈالر رہی۔ ان کے مطابق یہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ چار سال میں چار مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں جا چکی ہے اور اگلے سال پانچویں پروگرام کی بات ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں غربت کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یعنی تقریباً 25 کروڑ کی آبادی میں 12 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ بے روزگاری کے حوالے سے حکومتی اعدادوشمار 7.1 فیصد ہیں، جبکہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 22 فیصد ہے، یعنی ہر پانچواں شخص بے روزگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد تقریباً 28 لاکھ افراد روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں شمار ہوتی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ 26.8 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو تاریخی بلند ترین سطح قرار دیتی ہے، لیکن ان ذخائر کی ساخت بھی دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 8 ارب ڈالر سعودی عرب اور 8.2 ارب ڈالر چین کے ڈپازٹس کی صورت میں موجود ہیں، جبکہ کویت سے بھی رقم حاصل کی گئی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ سے تقریباً 15 ارب ڈالر خریدے ہیں۔
 مشیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں اسٹیٹ بینک مارکیٹ میں ڈالر فراہم کرتا تھا، جبکہ اب ذخائر بڑھانے کے لیے مارکیٹ سے ڈالر خریدے جا رہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو گزشتہ چار سالوں کی اوسطاً 2.3 فیصد رہی ہے، جبکہ پاکستان کی تقریباً 80 سالہ تاریخ میں اوسط شرح نمو 4 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ کم شرح نمو کا براہ راست اثر روزگار اور غربت پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ بھی شدید دباو کا شکار ہے اور گزشتہ چار سالوں میں صنعتی ترقی کی شرح صرف 1.6 فیصد رہی، جبکہ عمران خان حکومت کے آخری دو سالوں میں صنعتی ترقی کی شرح 10 فیصد سے زیادہ تھی۔
اسی طرح اس دور کے آخری دو سالوں میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 6 فیصد سے زیادہ رہی، جبکہ موجودہ شرح نمو تقریباً 2.3 فیصد ہے۔انہوں نے مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ 2022 سے اب تک اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں مجموعی طور پر تقریباً 80 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 409 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، بجلی کا یونٹ جو ٹیکسوں سمیت تقریباً 18 سے 20 روپے میں پڑتا تھا، اب تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ آٹے کی قیمت اور دستیابی بھی عام آدمی کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی آٹے کی قلت پیدا ہوئی ہے، جبکہ بین الصوبائی گندم کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے اثرات اب پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق گندم اور زراعت کے شعبے میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے۔
خیبرپختونخوا کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد موجودہ صوبائی حکومت کے قیام کے وقت صوبے کا ترقیاتی بجٹ تقریباً 70 ارب روپے تھا، جسے بڑھا کر 30 جون کو تقریباً 240 ارب روپے کی سطح پر بند کیا گیا۔ صحت کارڈ تقریباً بند ہو چکا تھا جسے صوبائی حکومت نے دوبارہ بحال کیا اور گزشتہ تین سالوں میں صحت کارڈ کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 125 ارب روپے مختص کیے گئے۔
 انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مالی نظم و نسق بہتر بنایا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک وقت میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے وسائل دستیاب نہیں تھے، جبکہ اب صوبہ چار ماہ کی پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کی پوزیشن میں ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ صوبے کے بجٹ کا تقریباً 38 فیصد حصہ صرف صحت اور تعلیم کے دو شعبوں پر خرچ ہو رہا ہے، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔ امن و امان بھی خیبرپختونخوا کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج ہے۔ تین سال پہلے پولیس کا بجٹ تقریباً 65 ارب روپے تھا، جو موجودہ مالی سال میں بڑھ کر 191 ارب روپے ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مطلق رقم کے لحاظ سے بھی خیبرپختونخوا کا پولیس بجٹ سندھ سے زیادہ ہے، حالانکہ سندھ کی آمدنی خیبرپختونخوا کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ ہے۔ یوں خیبرپختونخوا اپنے محدود وسائل کے باوجود امن و امان پر اپنے بجٹ کا نمایاں حصہ خرچ کر رہا ہے۔مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی مجموعی کارکردگی جانچنے کے لیے گورننس، بجٹ میں ترجیحات، ترقیاتی اخراجات، صحت، تعلیم، امن و امان اور مالی نظم و نسق سمیت تمام شعبوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے عالمی ادارے بھی ملکی اور صوبائی معاشی صورتحال پر رپورٹس جاری کرتے ہیں۔ اگر کسی عالمی ادارے کی رپورٹ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا نے کسی دوسرے صوبے کے مقابلے میں معاشی کارکردگی کے کسی بنیادی اشاریے میں کم کارکردگی دکھائی ہے تو ایسی رپورٹ سامنے لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے محدود وسائل اور سنگین امن و امان کی صورتحال کے باوجود ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا، صحت کارڈ بحال کیا، صحت و تعلیم کے لیے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کیا، پولیس اور امن و امان کے لیے وسائل بڑھائے اور مالی نظم و نسق کو بہتر بنایا۔ اس لیے صوبے کی کارکردگی پر رائے قائم کرتے وقت سیاسی بیانات کے بجائے واضح اعدادوشمار، بجٹ دستاویزات اور معتبر قومی و عالمی اداروں کی رپورٹس کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔