اپر چترال کے نشکو میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی نوعمر خاتون کے کیس میں نامزد ملزم جنید ساکن رائین تورکہو کے خلاف آیف آئی ار درج کردی گئی
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر چترال کے نشکو میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی نوعمر خاتون شہلا کے کیس میں پیش رفت کرتے ہوئے اپر چترال پولیس نے 21اگست کو چاک کردہ ایف آئی آر میں دفعہ 365کے ساتھ گزشتہ رات دفعہ تعزیرات پاکستان کا دفعہ 302بھی لگا دیا گیا ہے۔ اپر چترال کے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر حمیداللہ نے میڈیا کواس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ نامزد ملزم کی گرفتاری بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا میں اس کیس کے بارے میں بے سروپا قیاس آرائیوں اور پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کررہی ہے جس میں جلد بازی کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے تاکہ کیس ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہوسکے اور ملزم سزا سے نہ بچ سکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 27اگست کو خاتون کے والد محمد یعقوب نے مقامی عدالت کے سامنے ضابطہ فوجداری کے دفعہ 164کے تحت جنید ولد محمد ہاشم ساکنہ رائین تورکھو پر دعویداری کردی تھی کہ ان کے بلیک میلنگ کی وجہ سے ان کی بیٹی شہلا یعقوب نے یہ قدم لینے پرمجبورہوئی۔
دریں اثنا ملزم جنید نے ڈی پی اواپرچترال کو درخواست دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ وہ اس کیس میں ملوث نہیں ہے ، انھوں نے سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ سے پاک، شواہد پر مبنی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہینڈ رائٹنگ اور موبائل ریکارڈ کی معروضی انداز میں جانچ پڑتال اور تصدیق کی جائے۔
اس کے علاوہ جبری شادی کے حالات و وجوہات کی بھی تحقیقات کی جائیں۔تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے سوشل میڈیا پر کسی قسم کی کردار کُشی کی اجازت نہ دی جائے۔ا ور میرے خلاف کسی تعصب کے بغیر تفتیش کی جائے۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے والد حال ہی میں دل کا سرجری کیا ہے جبکہ بے سروپا سوشل میڈیا ٹرائل کی وجہ سے ان کو مذید تکلیف پہنچ رہی ہے لہذا صاف شفاف اور غیر جانبدارنہ تحقیقات کرکے اصل حقائق سامنے لایا جائے۔

