نیاء سال نئی اُمیدیں اور ہم – تحریر: ڈاکٹر غلام مرتضیٰ
جب گھڑی کی سوئی گیارہ بجے سے بارہ کی طرف بڑھتی ہے تو دل میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔ پچھلے سال کی تکلیفیں، ناکامیاں اور جدوجہد سب پس پشت ہٹ جاتی ہیں اور آنکھوں میں نئے سال کی چمک دمک جھلکنے لگتی ہے۔ 2026ء ہمارے لیے کیا لائے گا؟ یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے۔ بڑے شہروں کی گلیوں سے لے کر چھوٹی بستیوں تک، ہر کوئی امید کی کرن تھامے بیٹھا ہے۔ نئے سال کی آمد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی ایک سفر ہے، جہاں ہر موڑ پر نئی امیدیں جنم لیتی ہیں۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معاشی چیلنجز، صحت کے مسائل اور سماجی مسائل کا سامنا ہے، امید ہی وہ روشنی ہے جو اندھیرے کو چیر دیتی ہے۔ یاد کیجیے 2025ء کو، جب وبائیں، مہنگائی اور قدرتی آفات نے ہمیں آزمایا، مگر ہماری قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ اب 2026ء نئی بہتری کا وعدہ لے کر آ رہا ہے۔ دعا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسیاں، معاشی بحالی اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہمیں کامیابی کی طرف لے جائیں۔ ہمیں بس یہ یقین رکھنا ہے کہ بھلائی کا راستہ ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔
نئے سال میں ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ اپنے خاندان، محلے اور قوم کی بھلائی کے لیے قدم اٹھائیں۔ معاشرتی بھلائی کے لیے این جی اوز اور فلاحی اداروں سے جڑیں، بچوں کی تعلیم اور غریبوں کی مدد کریں۔ یاد رکھیں، کامیابی وہ نہیں جو دولت لاتی ہے، بلکہ وہ جو دلوں کو چھوتی ہے۔
کامیابی کا سب سے بڑا راز بھلائی ہے۔ جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو اللہ ہماری راہیں آسان کر دیتا ہے۔ 2026ء میں پاکستان کو معاشی ترقی، صحت کے بہتر نظام اور تعلیم کی روشنی چاہیے۔ ہمارے نوجوان، خواتین اور ہر طبقے کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ کرپشن سے نجات، ایمانداری اور محنت ہی حقیقی کامیابی کا ضامن ہیں۔
آئیے نئے سال پر عہد کریں کہ امید کو تھامے رکھیں، بہتری کے لیے کام کریں، بھلائی پھیلائیں اور کامیابی حاصل کریں۔ خوش رہیں، صحت مند رہیں اور پاکستان کو ترقی دیں۔
نئے سال میں ملکی حالات کی بہتر ہوں امن و سکون، اور عوام کی خوشحالی ہو قومی اتحاد اور مثبت اقدامات ہوں۔ 2026ء کی دہلیز پر کھڑے ہو کر ہم سب پاکستانی ملکی حالات کی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ پچھلے سال مہنگائی، بجلی گیس کے بِلوں پیٹرول کی قیمتوں نئے نئے ٹیکسوں اور معاشی دباؤ نے ہمیں تھکا دیا، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر بہتری لائیں۔ حکومت کی نئی معاشی پالیسیاں، زرعی اصلاحات اور صنعتی ترقی سے پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ یاد کیجیے، جب سیلاب اور وبائیں آئیں تو ہماری قوم نے ہمت دکھائی۔ اب بھی وہی جذبہ چاہیے۔ ٹیکس کی ایمانداری، کاروبار کی ترقی اور تعلیم پر زور دیں تو معاشی بہتری خود بخود آئے گی۔ امن و سکون کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔
بلوچستان سے خیبر تک، ہر صوبے میں امن کی خواہش ہے۔ دہشت گردی، فرقہ وارانہ جھگڑے اور سیاسی انتشار ختم کریں تو ملک سکون کی فضا میں سانس لے سکے گا۔ نوجوانوں کو روزگار دیں، خواتین کو بااختیار بنائیں اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ نئے سال میں فورسز اور عوام کا اتحاد امن کی ضمانت دے گا۔ فلاحی اداروں اور این جی اوز سے جڑیں، بچوں کی تعلیم اور غریبوں کی مدد کریں۔ جب گھر گھر سکون ہو تو قوم مضبوط ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا کرم امن دینے والوں پر ہوتا ہے۔ خوشحالی کا مطلب دولت نہیں، بلکہ صحت، تعلیم اور روٹی ہے۔ سرکاری ہسپتال بہتر بنائیں، سکولوں میں مفت کتابیں دیں اور ضرویات زندگی خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء کو سستا فراہم کریں۔
آئیے عہد کریں ملکی بہتری کے لیے امن کے لیے آواز اٹھائیں اور خوشحالی کے لیے محنت کریں۔
نیا سال 2026 ہم سب کے لیے خوشیوں، برکتوں اور کامیابیوں کا سال ہو۔ دعا ہے کہ یہ سال ہمیں نئی امیدوں، روشن مواقع اور بے شمار کامیابیاں دے۔ جیسے ہی نیا سال شروع ہوتا ہے، اللہ آپ کو کامیابی اور خوشحالی سے نوازے۔ یاد رکھیں، ہر دن ایک نیا موقع ہے اپنی ایمان کو تازہ کرنے اور آگے بڑھنے کا۔ ہر دن کو نئے سال کی طرح شروع کریں، ایک نیا جذبہ کے ساتھ۔ اللہ آپ کو اپنے انعامات سے بھر دے۔ نیا سال خوشی اور برکتوں سے بھرپور ہو۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ کی زندگی ایمان اور سکون سے بھرپور ہو۔ آپ کے تمام جائز خواب اور خواہشات پورے ہوں۔ آپ کے دل کو سکون، صحت کو توانائی، اور روح کو خوشی ملے۔ رزق میں برکت اور اعمال میں اخلاص عطاء ہو۔ یہ سال آپ کی زندگی میں محبت، ہمدردی، اور اتحاد کا پیغام لے کر آئے۔ یاد رکھیں ہر نیا سال اللہ کی ایک خاص نعمت ہے جو ہمیں اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع دیتا ہے۔ آئیں اس نئے سال کو دعا، شکر گزاری اور نیک ارادوں کے ساتھ شروع کریں۔
2026 کے لیے نیک تمنا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کے لیے سکون اور خوشیوں کا سال ہو۔ اللہ ہم سب کو ہر مشکل سے بچائے اور زندگی کے ہر لمحے کو خوبصورت بنائے۔ آمین۔ سال کا بدلنا تو ہر سال ہوتا ہے مزہ تو تب ہے کہ سال ہی نہیں حال بھی بدلے وگرنہ 25 کے 26 ہو جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سال تو مجموعہ ہے لمحوں کا، ہم روتے ہیں سال کے گزرنے پر کہ سال ختم ہو گیا اب واپس نہیں آئے گا مگر ایک سال کا گرزا کوئی بھی لمحہ واپس نہیں آئے گا ہمیں ان پہ بھی سوچنا چاہیے۔ ہمیں ان لمحوں میں مثبت تبدیلی لانی ہے۔ ہمیں سال میں نہیں حال میں تبدیلی لانی ہے تب ہم سال گزرنے پر کہہ سکتے ہیں کہ ہندسہ ہی نہیں حال بھی بدلہ ہے، ورنہ سال کا ہندسہ بدلتا رہے گا ہم سال کے آخری دن سال کے جانے کا افسوس کرتے رہیں گے،
پھر نئے سال کا نیا مہینہ، نئی تاریخ مگر ہمارا حال وہی پرانا۔ بے شک ہمارا سال اسلامی سال ہے عیسوی سال ہمارا نہیں ہے مگر ہم نے اس سال کے ساتھ ہی چلنا ہے تو نئے سال پہ مغرب کا افسوس بنتا ہے کہ سال گزر گیا ہم کچھ اور بہتر کر لیتے اس میں، کچھ اور ایجادات کچھ اور تسخیرات کر لیتے، نئے سال کی آمد پہ مغرب کا جشن کرنا بنتا ہے کہ نیا سال انکے لیے ایک نئی سوچ، نئی بلندیاں، نئی ایجادات، نئی تسخیرات لیکر آتا ہے اور ہمارا؟ ہمارا فقط ہندسہ بدلتا ہے معافیاں تلافیاں ہوتی ہیں، دسمبر میں غمگین شاعری ہوتی ہے، پرانی باتیں یاد کی جاتی ہیں، غم منایا جاتا ہے، کوئی نئی سوچ، نئی منصوبہ بندی، کچھ نیا کرنے کی چاہ نہیں ہوتی، تسخیرات، ایجادات ہماری ترجیحات نہیں ہوتیں، بس نئے سال میں وہی پرانا حال۔۔۔۔۔ بدلنا ہے تو خود کو بدلو، بدلنا کیا ہے ہندسے کو۔ توبہ استغفار کریں ہو سکتا ہے اس کے بعد نیا آنے والا سال ہمیں دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو۔ نیک تمناوں سے دعا ضرور کریں۔
رہے ہجر میں یا وصال میں،
تُو رہے جیسے بھی حال میں،
نہ آئے لغزش تیری چال میں،
تُو رہے خدا کی ڈھال میں،
جو ابھی ہو تیرے خیال میں،
تجھے سب ملے نئے سال میں،
تیرے اپنے سارے قریب ہوں،
اور محبتیں بھی نصیب ہوں،
جو رقیب ہیں وہ حبیب ہوں،
وہ امیر ہوں جو غریب ہوں،
رہے تیرا ستارہ کمال میں،
تجھے سب ملے نئے سال میں۔
تیری سب دعائیں قبول ہوں،
تُو نہ ہو تو سارے ملول ہوں،
غم جو بھی آئیں فضول ہوں،
نصیب خوشیوں کو طُول ہوں،
تُو کبھی نہ آئے زوال میں،
تجھے سب ملے نئے سال میں،
بڑے تیرے لیے بے چین ہوں،
تیرے بچےّ قرتہ العین ہوں،
جو خدا اور تیرے مابین ہوں،
وہی تیرا نصب العین ہوں،
تُو کبھی نہ آئے سوال میں،
تجھے سب ملے نئے سال میں۔
تجھے فکر بھی ہو نماز کا،
انجام ہو تیرے ہر آغاز کا،
تجھے چلے پٙتا اس راز کا،
قبول ہونا ہے اس آواز کا،
جو ندا ہو سوزو ملال میں،
تجھے سب ملے نئے سال میں۔
تیرا ہاتھ دعا کو اُٹھا کرے،
تو میرے لئے بھی دعا کرے،
جو چاہے تجھ کو ملا کرے،
جا خدا تیرا بھی بھلا کرے،
ہو ہر چاہت تیری فال میں،
تجھے سب ملے نئے سال میں۔ آمین!
نیا سال مبارک ہو، پاکستان زندہ باد!

