گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں مالیاتی خواندگی اور بینکاری آگاہی سیمینار کا انعقاد
.
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خصوصی اقدام کے تحت نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ چترال کے تعاون سے گورنمنٹ ڈگری کالج لوئر چترال کے شعبہ اکنامکس کے طلبہ و طالبات کے لیے “نیشنل فنانشل لٹریسی اینڈ بینکنگ آگاہی” کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد نوجوان نسل میں مالی خواندگی، جدید بینکاری نظام، ڈیجیٹل بینکاری اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل بینک آف پاکستان چترال کے منیجر اور اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ عدنان زین العابدین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2012 میں نیشنل فنانشل لٹریسی پروگرام کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد عوام خصوصاً نوجوانوں کو مالیاتی معاملات کی بہتر سمجھ بوجھ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ باخبر مالی فیصلے کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی خواندگی سے آمدنی و اخراجات میں توازن، بچت کی عادت اور ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع کے محفوظ استعمال کو فروغ ملتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور آن لائن مالیاتی فراڈ سے متعلق آگاہی دیتے ہوئے طلبہ کو مشکوک لنکس، جعلی اکاؤنٹس اور غیر مصدقہ معلومات سے محتاط رہنے کی تلقین کی۔
سیمینار کے دوران نیشنل بینک آف پاکستان کے منیجر آپریشن ماجد خان اور اعتماد اسلامی برانچ کے منیجر محمد شریف نے طلبہ کو جدید بینکاری نظام، بچت اسکیموں، فنانسنگ مصنوعات، ڈیجیٹل بینکاری اور بینکاری شعبے میں کیریئر کے مواقع سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
سائبر سیکیورٹی سیشن میں طلبہ کو فشنگ ای میلز، جعلی ایس ایم ایس، فراڈ کالز، جعلی ایپس اور سوشل میڈیا اسکیمز کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ مقررین نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ OTP، PIN اور پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور آن لائن بینکاری کے لیے صرف مستند ایپس استعمال کریں۔
اس موقع پر گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے پرنسپل فضل الحق، پروفیسر غنی الرحمن، پروفیسر شفیق الرحمن اور دیگر اساتذہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے مالیاتی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جبکہ نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے کالج پرنسپل، شعبہ اکنامکس کے سربراہ اور پبلک لائبریری کے انچارج کو تعریفی شیلڈز پیش کی گئیں۔



