نوائے سرود – بچوں کے ساتھ ہمارا رویہ – تحریر: شہزادی کوثر
۔
کہا جاتا ہے کہ اگر انسان کو اٹل یقین ہو جائے کہ ’’میں کر سکتا ہوں‘‘ تو آدھا سفر مکمل ہو جاتا ہے۔ زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا وقت کے ساتھ ساتھ کرنا پڑتا ہے، جن میں سے اکثر کا تعلق معاشرتی معاملات سے ہوتا ہے۔ لوگوں کا سامنا کرنے، اپنی بات منوانے اور اپنا مؤقف دوسروں تک پہنچانے جیسے مسائل بھی انہی مشکلات میں شامل ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر اکثر افراد کے لیے اپنے مقاصد کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔
سکول اور کالج میں بہت سے طالب علم اپنی خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں کر پاتے، حالانکہ ان کی محنت میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی قابلیت پر کسی کو شبہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جب کامیابی کی بات آتی ہے تو وہ متوسط طالب علموں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اعتماد کی کمی ہے، جو بچے کی صلاحیتوں کو گہنا دیتی ہے۔
بہت سے والدین اپنے بچے کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے خیال میں بچہ ناسمجھ ہوتا ہے، اسے اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی اور اس کی باتیں بھی غیر اہم ہوتی ہیں۔ یہ رویہ بچے کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ کچھ والدین سراہنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ بچہ کوئی اچھی کارکردگی دکھائے یا کوئی اچھا کام کرے تو وہ تعریف کے دو بول بھی نہیں بولتے۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ماں باپ کے منہ سے نکلا ہوا ایک تعریفی جملہ بچے کی تخلیقی اُڑان میں کتنی پائیداری پیدا کرتا ہے اور اسے کتنا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
اکثر والدین تنقید کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیتے۔ انہیں بچے کے اچھے کاموں یا اس کی چھوٹی موٹی معصومانہ باتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ انہیں ہر اس کام سے چِڑ ہوتی ہے جو بچہ اپنی مرضی سے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ٹی وی دیکھتے ہوئے یا موبائل میں مصروف والدین کے سامنے اگر بچہ کوئی مسئلہ بیان کرے یا اپنی کسی خوشی یا حیرت کا اظہار کرنا چاہے تو اسے یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے کہ ’’ابھی میں مصروف ہوں‘‘ یا ’’اپنی بات بعد میں بتاؤ‘‘۔ یہ رویہ بچے کے اندر نہ صرف اعتماد کو ختم کرتا ہے بلکہ اسے والدین سے ایک طرح کی نفرت بھی ہونے لگتی ہے، جس کا اظہار وہ اپنے چڑچڑے پن یا ان کی کسی بات کو ماننے سے انکار کی صورت میں کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ بچے کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے لیے غیر اہم ہے۔
دوسروں کے سامنے بچے کو نظر انداز کرنا، ڈانٹنا یا اس کے دوستوں کے سامنے اس پر چیخنا، بچے کی شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔ ایسے بچے شرمندگی کا شکار ہو کر اپنا حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے گفتگو کرنے سے کتراتے ہیں، اسٹیج پر جانے سے گھبراتے ہیں اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سکول میں استاد کی سرزنش بھی خود اعتمادی میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بعض لوگ جسمانی بناوٹ، رنگت اور قد و قامت کو موضوع بنا کر بھی بہت سے بچوں کی تحقیر کرتے ہیں، جس سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز کی خوبصورتی سے نوازا ہے، اسی طرح سب کی صلاحیتیں بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ ان باتوں کو موضوعِ گفتگو بنانا اور دوسروں سے موازنہ کرنا بچوں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
بچوں کو اس بات سے بھی شدید چِڑ ہوتی ہے کہ ان کا موازنہ ان کے بہن بھائیوں یا دوستوں سے کیا جائے۔ آج کل کے بچے اس رویے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ ان کا دوسروں سے موازنہ کیوں کیا جا رہا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ بڑوں نے اپنے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں، جن پر پورا اترنا ہر بچے کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس صورت میں بڑوں کا رویہ ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنے جیسا بن جاتا ہے، جو مناسب نہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کے معصوم ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہاں بڑوں سے ایک بڑی غلطی یہ سرزد ہوتی ہے کہ وہ بچے کی شخصیت کو قبول ہی نہیں کر پاتے۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ بچے کی بھی ایک بھرپور شخصیت ہوتی ہے۔ اس کی اپنی رائے ہوتی ہے، اس کے پاس سوچنے کا ایک منفرد انداز ہوتا ہے اور اس کی اپنی الگ پہچان بھی ہوتی ہے۔
بچوں کی شخصیت کو قبول کرکے ان کی رائے کو اہمیت دی جائے، یا کم از کم انہیں توجہ سے سنا جائے، تو یہی بچے بڑے مقاصد اور اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اپنے خیالات کا اظہار کرنے والے بچے کو بدتمیز، منہ پھٹ اور نافرمان قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ جب کوئی بچہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو اسے تحمل سے سننا ضروری ہے۔
اگر والدین کے کسی عمل کو بچہ انصاف کے خلاف سمجھتا ہے اور اس بارے میں ان سے بحث کرتا ہے تو یہ بدتمیزی یا نافرمانی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی شخصیت کا حوصلہ اور اعتماد ہوتا ہے، جس کے بل بوتے پر وہ سچ بیان کرنا چاہتا ہے۔ اگر ایسے موقع پر بچے کو بات کرنے سے پہلے ہی خاموش کرا دیا جائے تو اس کے اندر نافرمانی کا لاوا ابلنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ خاموش کرانے والے کے خلاف بغاوت پر آمادہ رہتا ہے۔
اس کے برعکس اگر بچے کے خیالات اور باتوں کو تحمل سے سنا جائے اور اس کی رہنمائی پیار و محبت سے کی جائے تو بچہ اعتماد حاصل کرتا ہے اور اسے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس اسے اپنے گھر سے ملنا چاہیے، ورنہ اگر کوئی اور اسے توجہ دے اور اس کی بات سنے تو بچہ اس کی طرف اپنائیت محسوس کرنے لگتا ہے، جو بعد میں بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔
گھر سے ملنے والی محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی والدین اور بچے کے تعلق کو مضبوط بناتی ہے، ورنہ یہی بچے تنہائی کا شکار ہو کر غلط راستوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک عجیب انداز ہے، جہاں بچے کو گھر میں ہی اپنائیت کی فضا نہیں ملتی، اس کے احساسات و جذبات کی کوئی پروا نہیں کی جاتی اور اس کے خیالات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً بچوں میں باغیانہ رویے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ والدین شکایت کرتے ہیں کہ آج کل کی اولاد بہت نافرمان ہو گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس میں قصور والدین کا بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں بچوں کی تربیت کا سلیقہ نہیں آتا اور وہ ہر جگہ اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بڑا بننے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے وہ خود بچگانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور سارا الزام بچوں پر ڈال دیتے ہیں۔
بچوں کی عزتِ نفس مجروح کرکے، انہیں سخت الفاظ سے مخاطب کرکے، غصہ دکھا کر یا مسلسل ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے نہ تو اچھی تربیت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان سے فرمانبرداری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
