غربت کی گلیوں سے شہرت کے آسمان تک نانا پاٹیکر کی کہانی – میری بات / روہیل اکبر
.
نانا پاٹیکر جیسے لوگ دنیا سے رخصت تو ہو جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے ایسی کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں تک زندہ رہتی ہیں ان کی اصل پہچان کیمرے کی روشنیوں سے کہیں آگے ہوتی ہے وہ اپنی زندگی کے دکھوں، محرومیوں، جدوجہد اور انسان دوستی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں بھارتی فلمی دنیا کے معروف اداکار نانا پاٹیکر بھی انہی لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے غربت کی تاریک گلیوں سے نکل کر شہرت کی بلندیوں تک کا سفر طے کیا اور کامیابی کے باوجود اپنی مٹی سے رشتہ نہیں توڑا وہ ایک ایسا فنکار جس کی آواز میں گرج، آنکھوں میں آگ اور اداکاری میں حقیقت کی ایسی شدت تھی کہ دیکھنے والا چند لمحوں کے لیے اپنی دنیا بھول جاتا تھا مگر اس فنکار کی اپنی زندگی بھی کسی فلم کی کہانی سے کم نہ تھی فرق صرف اتنا تھا کہ فلموں میں دکھائے جانے والے دکھ چند گھنٹوں بعد ختم ہو جاتے ہیں جبکہ حقیقی زندگی کے زخم انسان کے ساتھ برسوں چلتے ہیں
نانا پاٹیکر کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے پاس موجود دولت نہیں بلکہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ وہاں تک پہنچتا ہے کہتے ہیں کہ کامیابی کی عمارت کی بنیاد میں اکثر وہ آنسو شامل ہوتے ہیں جنہیں دنیا کبھی دیکھ نہیں پاتی۔ نانا پاٹیکر کی ابتدائی زندگی بھی مشکلات سے بھری ہوئی تھی ان کے خاندان کو معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا اور والد کی جائیداد سے محرومی کے بعد حالات مزید دشوار ہو گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے ماضی کی تلخ یادیں بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نویں جماعت میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ اسکول کے بعد روزانہ تقریباً آٹھ کلومیٹر پیدل چل کر ممبئی کے علاقے چونا بھٹی جاتے تھے جہاں فلمی پوسٹر پینٹ کرنے کا کام کرتے تھے۔
اس محنت کے عوض انہیں ماہانہ صرف 35 روپے ملتے تھے زندگی کی ضروریات اتنی محدود تھیں کہ بعض اوقات دن میں صرف ایک وقت کا کھانا میسر آتا تھا ذرا تصور کیجیے! ایک کم عمر لڑکا جس کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہوں جس کے دل میں کچھ بننے کی خواہش ہو مگر جیب خالی ہو گھر کے حالات خراب ہوں اور پیٹ کی بھوک اسے ہر روز محنت کرنے پر مجبور کرتی ہو یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں دوستوں کے ساتھ گھومتے ہیں اور اپنے والدین سے فرمائشیں کرتے ہیں مگر کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچپن کو حالات وقت سے پہلے چھین لیتے ہیں انہیں کھیلنے کی عمر میں ذمہ داری اٹھانا پڑتی ہے خواب دیکھنے سے پہلے روٹی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے اور مسکرانے سے پہلے اپنے گھر والوں کی پریشانیوں کو سمجھنا پڑتا ہے نانا پاٹیکر بھی اسی کٹھن راستے سے گزرے شاید یہی وجہ تھی کہ جب انہیں زندگی میں کامیابی ملی تو وہ غربت کے دکھ کو بھول نہ سکے کیونکہ بھوک صرف پیٹ کو نہیں ستاتی یہ انسان کے ذہن پر بھی اپنے نشان چھوڑ جاتی ہے وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا کبھی وہ انسان کو ایسے امتحان میں ڈال دیتا ہے
جہاں اپنے بھی اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں اور کبھی اسی انسان کو ایسی بلندی عطا کرتا ہے کہ دنیا اس کے نام سے پہچانی جاتی ہے نانا پاٹیکر نے اپنی محنت، صلاحیت اور غیر معمولی اداکاری کے ذریعے بھارتی سینما میں وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب ہزاروں فنکار دیکھتے ہیں۔ 1978 میں فلم ’گمن‘ سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا اس کے بعد انہوں نے اپنی اداکاری کا ایسا رنگ جمایا کہ دیکھنے والوں کے ذہنوں پر ان کے کردار نقش ہو گئے ۔’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’اب تک چھپن‘، ’نٹ سمراٹ‘ اور ’ویلکم‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری نے ثابت کیا کہ وہ صرف مکالمے بولنے والے اداکار نہیں بلکہ کردار کے اندر اتر کر اسے زندہ کرنے کا ہنر جانتے تھے کبھی وہ غصے سے بھرا ہوا ایسا کردار ادا کرتے کہ دیکھنے والا سہم جاتا کبھی درد میں ڈوبا ہوا انسان بن کر دلوں کو چھو لیتے اور کبھی مزاح کے ذریعے لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے یہی ایک بڑے فنکار کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ ہر کردار میں اپنی الگ شناخت چھوڑ جائے۔
غربت کے دنوں میں چند روپے کمانے کے لیے محنت کرنے والا یہ شخص وقت کے ساتھ کروڑوں کی دولت رکھنے والی شخصیات میں شمار ہونے لگا ان کی دولت کے بارے میں مختلف ذرائع نے مختلف اندازے پیش کیے مگر میرے نزدیک ان کی زندگی کی سب سے بڑی دولت ان کی اداکاری، محنت اور وہ تجربات تھے جنہوں نے انہیں ایک منفرد انسان بنایا دنیا کا ایک عجیب اصول ہے جب انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ خواب دیکھتا ہے کہ ایک دن اس کے پاس سب کچھ ہوگا لیکن جب اس کے پاس سب کچھ آ جاتا ہے تو اکثر وہ مزید حاصل کرنے کی دوڑ میں اپنی زندگی کا سکون کھو بیٹھتا ہے کوئی بڑی گاڑی خریدنا چاہتا ہے کوئی محل جیسا گھر بنانا چاہتا ہے کوئی اپنے نام کے آگے ایسے القابات لگوانا چاہتا ہے جن سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہو مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد بھی سادگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھتے ہیں۔
نانا پاٹیکر کے بارے میں بھی یہی بات مشہور رہی کہ وہ شہرت اور دولت کے باوجود غیر ضروری نمودونمائش سے دور رہتے تھے ان کی رہائش، ان کا رہن سہن اور کاشتکاری سے وابستگی اس بات کی یاد دلاتی تھی کہ انسان کی خوشی کا تعلق ہمیشہ مہنگی گاڑیوں، قیمتی گھڑیوں اور بڑے بنگلوں سے نہیں ہوتا ان کی زندگی کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس میں ممبئی کے ایک نسبتاً سادہ اپارٹمنٹ، گوا میں جائیداد اور پونے کے قریب فارم ہاؤس کا ذکر ملتا ہے۔ ان کا کھیتی باڑی سے لگاؤ بھی ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تھا یہاں سوال یہ نہیں کہ کسی کے پاس کتنی جائیداد ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ جائیداد بڑھنے کے ساتھ اس کے دل میں دوسروں کے لیے کتنی جگہ باقی رہتی ہے نانا پاٹیکر کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سماجی خدمت بھی تھا وہ کسانوں کی مشکلات اور دیہی زندگی کے مسائل سے لاتعلق نہیں رہے نام فاؤنڈیشن کے ذریعے کسانوں کی مدد اور پانی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے کاموں میں ان کی وابستگی قابلِ ذکر رہی ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس دولت ہے، اختیار ہے،
وسائل ہیں مگر ان کے اردگرد بھوک، بے روزگاری اور محرومی کے شکار انسانوں کی طرف ان کی نظر نہیں اٹھتی وہ اپنے گھروں کی آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن کسی غریب بچے کی تعلیم، کسی بیمار کی دوا یا کسی بھوکے خاندان کے راشن کے لیے ان کا ہاتھ نہیں کھلتا اس کے برعکس جو شخص خود بھوک دیکھ چکا ہو وہ دوسروں کی بھوک کا مفہوم بہتر سمجھ سکتا ہے۔ جو شخص محرومی کے راستوں سے گزرا ہو وہ کسی ضرورت مند کی خاموشی میں چھپی فریاد سن سکتا ہے شاید نانا پاٹیکر کی ابتدائی زندگی کے تجربات نے انہیں یہ احساس دیا کہ کامیابی کا اصل حسن صرف اپنے لیے جینے میں نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے میں بھی ہے۔انسان کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ اس نے کتنی دولت جمع کی بلکہ اس بات سے ناپی جانی چاہیے کہ اس نے اپنی استطاعت کے مطابق کتنے لوگوں کے دکھ کم کیے زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم انسان کی قدر اکثر اس وقت پہچانتے ہیں جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتا اس کے زندہ ہونے تک ہم اس کی خامیوں پر بحث کرتے ہیں،
اس کے کاموں میں نقص نکالتے ہیں اس کی کامیابیوں کو قسمت کا نام دیتے ہیں اور اس کے دکھوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں لیکن جب موت اسے ہم سے جدا کر دیتی ہے تو وہی دنیا اس کے قصیدے پڑھنے لگتی ہے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو سوچنا چاہیے کہ ہم آخر کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ وہ دولت جسے انسان اپنے ساتھ قبر میں نہیں لے جا سکتا؟ وہ شہرت جو چند دن بعد کسی نئے نام کے شور میں دب جاتی ہے؟ وہ عہدے جن کے لیے ہم اپنے تعلقات اور ضمیر تک داؤ پر لگا دیتے ہیں؟
یا وہ محبت، خلوص اور نیک اعمال جو انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں؟ نانا پاٹیکر کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غربت انسان کی تقدیر کا آخری فیصلہ نہیں ہوتی حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں محنت اور مستقل مزاجی انسان کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ لیکن کامیابی ملنے کے بعد اپنی اصل کو یاد رکھنا اس سے بھی بڑا امتحان ہے ان کی وفات پر افسوس کرنے والوں کو ان کی فلمیں، ان کے مکالمے اور ان کے کردار یاد آئیں گے مگر ان کی زندگی کا اصل خراجِ عقیدت یہ ہوگا کہ ہم ان کی جدوجہد سے سبق حاصل کریں غریبوں کے دکھ کو سمجھیں، کسانوں کی مشکلات کا احساس کریں اور اپنے اردگرد موجود ضرورت مند انسانوں کے لیے آسانی پیدا کریں کیونکہ دنیا سے جانے کے بعد کسی انسان کی دولت نہیں اس کے کردار کی خوشبو زیادہ دیر تک باقی رہتی ہے ہم میں سے ہر شخص ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جائے گا کوئی شہرت کے ساتھ جائے گا،
کوئی خاموشی سے، کوئی محل چھوڑ کر اور کوئی چھوٹا سا گھر لیکن جاتے ہوئے کوئی بھی اپنے ساتھ اپنی دولت، عہدہ یا اختیار نہیں لے جا سکے گا پیچھے رہ جائیں گے تو صرف اعمال، یادیں اور وہ نشانیاں جو ہم نے دوسرے انسانوں کی زندگیوں میں چھوڑی ہوں گی نانا پاٹیکر کا سفر غربت سے شہرت تک کا سفر ضرور تھا لیکن اس میں چھپا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی کامیابی کے ساتھ اپنی انسانیت بھی زندہ رکھنی چاہیے۔