کالاش ویلی میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح، صحت، سیاحت و کمیونٹی فلاح کے منصوبے شامل
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) سیکریٹری سیاحت خیبر پختونخوا سعادت حسن نے گزشتہ روز بمبوریت ویلی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KVDA) کے زیرِ انتظام تعمیر شدہ متعدد اہم عوامی فلاحی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں کا مقصد سروس ڈلیوری کو بہتر بنانا، شفاف حکمرانی کو فروغ دینا اور مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی منہاس الدین، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لوئر چترال عبد السلام اور وزیرزادہ، سابق مشیر وزیراعلیٰ برائے اقلیتی امور بھی موجود تھے۔
افتتاح کیے گئے منصوبوں میں کالاش وادیوں کے لیے ٹیلی میڈیسن سہولت بھی شامل ہے، جس کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مکینوں کو طبی ٹیسٹ، تشخیص اور ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاکہ صحت کی سہولیات تک مساوی اور شفاف رسائی ممکن ہو سکے۔
اسی طرح بمبوریت میں KVDA کیمپ دفتر کا افتتاح بھی کیا گیا، جو کمیونٹی سینٹرک ترقی، مؤثر رابطہ کاری اور سروس ڈلیوری کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کرے گا۔ یہ دفتر مقامی مسائل کی بروقت نگرانی اور شفاف فیصلہ سازی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سیکریٹری سیاحت نے مہمان نوازی کے شعبے کے لیے نکاسیٔ آب کی بہتری کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا، جس کے لیے 3.9 ملین روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ سیاحتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور ماحول کے تحفظ کے لیے گڈ گورننس روڈمیپ کے عملی اصولوں کے مطابق شروع کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سیاحتی سہولت مرکز (TFC) کا افتتاح بھی کیا گیا، جو سیاحوں کو رہنمائی، معلومات اور منظم سہولیات فراہم کرے گا، جبکہ یہ اقدام شفافیت اور عوامی مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے اصولوں کی عملی عکاسی بھی کرتا ہے۔
دورے کے دوران سیکریٹری سیاحت نے کالاش کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کی اور کالاش کے مقدس مذہبی مقام جسٹک ہان کی بحالی کے کام کا بھی جائزہ لیا، جس سے حکومت خیبر پختونخوا کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری سیاحت سعادت حسن نے کہا کہ یہ منصوبے حکومت خیبر پختونخوا کی شمولیتی ترقی، مؤثر سروس ڈلیوری اور پائیدار سیاحت کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ترقیاتی اقدامات سے نہ صرف مقامی کمیونٹی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ کالاش وادیوں کے ثقافتی اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔


