کوہستان کے ملا خیل: ایک قبیلہ، ایک ولی، ایک ورثہ – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
’’ملا خیل‘‘ ایک ایسا نام ہے جو مختلف علاقوں اور قبائل میں پایا جاتا ہے۔ نیازی قبیلے کی ایک شاخ ’’ملاخیل‘‘ جنوبی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد ہے۔ اخوند خیل کی ایک چھوٹی شاخ ’’ملاخیل‘‘ مردان، صوابی اور شانگلہ میں موجود ہے۔ مہمند ایجنسی میں بائیزئی قوم کے تحت بھی ’’ملا خیل‘‘ جیسی شاخ پائی جاتی ہیں۔ اتمان خیل قبیلے میں ’’ملی خیلہ‘‘ نامی شاخ بعض اوقات ملا خیل سے مشابہت رکھتی ہے۔ اورکزئی ایجنسی میں ایک سادات قبیلہ بھی ’’ملا خیل‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو اپنی روحانی اور نسلی شناخت میں ممتاز ہے۔
یہ تنوع اکثر اس غلط فہمی کو جنم دیتا ہے کہ شاید یہ تمام ملا خیل قبائل ایک ہی جد کی اولاد ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر قبیلہ اپنی الگ شناخت، تاریخ اور روایات رکھتا ہے۔ اس کالم میں جس ملا خیل قبیلے کو موضوع بنایا جا رہا ہے، وہ کوہستان کے دوبیر، کندیا اور گردونواح کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی روحانی و تاریخی حیثیت میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس قبیلے کی بنیاد ایک غیر معمولی شخصیت، بابا جی، سے جڑی ہے جن کی پیدائش اور ابتدائی زندگی روایات میں ایک روحانی معجزے کی صورت بیان کی جاتی ہے۔
روایت کے مطابق بابا جی، بہتَم کے بیٹے تھے۔ اُن کی والدہ نے دورانِ حمل محسوس کیا کہ بچہ رحم میں نماز کے حرکات کر رہا ہے۔ پیدائش کے بعد بھی یہ کیفیت جاری رہی، جس سے ماں خوفزدہ ہو گئی۔ بچے نے ماں کا دودھ پینے سے انکار کیا، تو وہ اُسے جنگل میں چھوڑ آئی۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آئی تو دیکھا کہ بچہ ایک بکری کا دودھ پی رہا ہے۔ بکری ماں کو دیکھ کر بھاگ گئی، مگر بچہ پھر بھی ماں کا دودھ نہ پیا۔ تین ماہ تک وہ بچہ جنگل میں بکری کے ساتھ رہا، اور پھر ایک دن توٹی (لوئر کندیا) کی مسجد کے پیچھے چٹان پر اذان دینے لگا۔
اُس وقت کنڈی (کندی) نامی شخص علاقے کا بادشاہ تھا، جس کے پاس 80 قلعہ نما برج تھے۔ کنڈی نے بابا جی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، مگر چھری اُن کے گلے پر اثر نہ کر سکی۔ بابا جی نے کہا: ’’میں اللہ کے حکم سے آیا ہوں۔‘‘ یہ سُن کر کنڈی نرم ہو گیا اور بابا جی کو حلوہ، انڈے اور دیگر نعمتیں دینے لگا تاکہ وہ خاموش رہیں۔ کنڈی کا بھانجا ددود کابلگرام گیا، جہاں اخوند صادق بابا اور میان باقی بابا نے اسے اسلام قبول کروایا۔ ددود نے اُنہیں بتایا کہ اُس کی قوم مشرک ہے اور اُنہیں کوہستان کو مسلمان بنانے کی ترغیب دی۔
ایک بڑی فوج کے ساتھ وہ کنڈی کے خلاف آئے، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اُنہیں شک ہوا کہ کنڈی کے پیچھے کوئی روحانی طاقت ہے۔ میاں باقی بابا نے بابا جی کو دیکھا اور سمجھا کہ یہی اصل قوت ہیں۔ اُنہوں نے بابا جی سے کہا کہ کنڈی کو اسلام کی دعوت دیں۔ بابا جی نے کوشش کی مگر کنڈی نے انکار کر دیا۔ جب بابا جی نے مسلمانوں کو بتایا کہ کنڈی نے انکار کر دیا ہے، تو اُنہوں نے پوچھا: ’’تم اُس مشرک کے ساتھ کیوں رہتے ہو؟‘‘ بابا جی نے جواب دیا: ’’وہ مجھ پر مہربان ہے اور مجھے انڈے دیتا ہے۔‘‘ میان باقی بابا نے کہا:’’میں تمہیں انڈوں کی ماں دوں گا۔‘‘ اور اُنہیں ایک مرغی دے دی۔
بابا جی مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو گئے، اور کنڈی جنگ میں مارا گیا۔ اُس کے تین بیٹے گلگت کے علاقہ یاسین کی طرف فرار ہو گئے، جہاں اُن کی نسل راجگان (بادشاہوں) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے بعد میاں باقی بابا اور بابا جی بٹیرائی (دریائے سندھ کے پار) گئے، جہاں ڈوکو نامی ایک بزرگ رہتے تھے۔ وہ اُن کے ساتھ ٹھہرے اور اُن کی دو بیٹیوں سے شادی کی۔ اس طرح بابا جی کی روحانی حیثیت کو اس شادی کے ذریعے مزید تقویت ملی، کیونکہ اُنہیں ایک ولی کی بیٹی دی گئی۔ یہ واقعہ اُن کے روحانی مقام کی تصدیق کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
اپر کوہستان ، لوئر کوہستان کے ملا خیل قبیلے کی یہ داستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک روحانی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ اُن کی روایات میں مذہب، قربانی، اور روحانی تجربات کی جھلک نمایاں ہے۔ اُن کی نسل آج بھی دوبیر، کندیا اور گرد و نواح میں موجود ہے، اور اُن کی کہانی علاقائی تاریخ کا ایک نایاب باب ہے۔ اُن کی نسبی روایات میں کچھ ابہام ضرور ہے، جیسے شرنی اور کنڈی کے تعلق کی تفصیلات یا ددود کے والد کا نام، مگر مقامی روایات میں ان ابہامات کو قبول کر لیا گیا ہے۔
یہ ملا خیل قبیلہ ایک ایسی شناخت رکھتا ہے جو ماضی کی گہرائیوں سے اُبھر کر آج بھی اپنی روحانی روایت، تاریخی وقار اور نسلی تسلسل کے ساتھ زندہ ہے۔ ان کی کہانی صرف ایک قبیلے کی تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا ورثہ ہے جو ایمان، قربانی اور تعلق کی بنیاد پر نسلوں کو جوڑتا ہے۔ ان کی روایات میں وہ روشنی جھلکتی ہے جو وقت کی گرد میں بھی مدھم نہیں پڑتی۔ ہر نام کے پیچھے ایک الگ داستان ہوتی ہے — اور دوبیر ،کندیا کے ملا خیل قبیلے کی یہ داستان نہ صرف سننے کے قابل ہے بلکہ محفوظ رکھنے کے لائق بھی ہے۔

