موڑکھو روڈ کی تعمیر میں تاخیر کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے محمد علی شاہ کی طبیعت بگڑ گئی، ہسپتال منتقل
۔
بونی (سہیل احمد) موڑکھو کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت محمد علی شاہ ، جو گزشتہ تین روز سے موڑکھو روڈ کی تعمیر میں تاخیر کے خلاف بونی چوک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، پیر کی شام ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، جس پر انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اور صدر پریس کلب اپر چترال محمد علی مجاہد نے محمد علی شاہ سے طویل ملاقات کی اور انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ موڑکھو روڈ پر تعمیراتی کام، بالخصوص اسفالٹ بچھانے کا عمل، جلد از جلد شروع کرایا جائے گا۔
تاہم محمد علی شاہ ان یقین دہانیوں سے مطمئن نہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک متعلقہ ٹھیکہ دار عدالت کے روبرو تحریری طور پر اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ تعمیراتی کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا، وہ محض زبانی وعدوں پر بھروسہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر اپر چترال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر مرحلے پر ان سے ملاقات کی، ان کا مؤقف سنا اور مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں، تاہم ان کے بقول محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) اور متعلقہ ٹھیکہ دار کی عدم دلچسپی اور ہٹ دھرمی کے باعث مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
محمد علی شاہ نے واضح کیا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی وقت ختم کریں گے جب موڑکھو روڈ پر عملی طور پر تعمیراتی سرگرمیوں، خصوصاً اسفالٹ بچھانے کے کام، کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔
ملاقات کے دوران محمد علی شاہ کی طبیعت مزید بگڑ گئی، جس پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ انہیں ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کا علاج جاری ہے۔
