مدرز ڈے – میر سیما آ ماں
نہ چاہتے ہوئے بھی کہیں بار عورت پر لکھنا پڑتا ہے۔مگر اس بار عورت کا عنوان مختلف ہے۔بچپن سے ہم نے یہی سنا اور دیکھا کہ ماں بڑی مختلف فطرت کی بڑی عظیم عورت ہوتی ہے۔اسے بخار نہیں ہوتا وہ تھکتی نہیں وہ روتی نہیں وہ ہر وقت میسر ہوتی ہے کبھی چین سے بیٹھ کر کھا تی نہیں پیتی نہیں حتی کہ وہ ہر محفل میں شریک نہیں ہوتی کیونکہ اسکی تمام مصروفیت توجہ اور محبت کا محور اسکی اولاد ہوتی ہے۔تو میں سوچتی تھی کہ ماں کے قدموں تلے اسی لیے جنت ہوتی ہوگی۔۔پھر کچھ عمر میں بڑھ گئے تو پتہ چلا کہ صاحب اولاد ہونے کے لیے جسمانی حتی کہ ذہنی تکالیف بھی بہت اٹھانی پڑتی ہے اور اب جب خود اس مقام پر آ ئے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت صرف جسمانی تکالیف کے بنا پر نہیں ملتی۔
یہ وہ تمام تکالیف سہنے کی بناء پر ملتی ہیں جو ایک عورت اولاد کی پرورش کرتے ہوئے سہتی ہے۔سب سے زیادہ وہ ذہنی اذیت جو ایک ماں کو پوری عمر ایک خود غرض معاشرے میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔بچے کی پیدائش کے دن سے لیکر اولاد کے جواں ہونے تک اردگرد کے رویے نازیبا الفاظ ماؤں کے ساتھ بد سلوکی جارحانہ رویے جو ہر لمحہ عورت کو صرف یہ احساس دلاتے ہیں کہ تم ایک ناکام ماں ہو۔ماں کا دل چیرنے کے لیے تو بس یہ احساس ہی کافی ہے۔مگر سلام ہے ماؤں کو جو ساری عمر ان احساسات کے ساتھ بخوبی گزر بسر کرلیتی ہیں۔ میں انتہائی تھوڑے الفاظ میں اپنی ماؤں سے صرف اتنا کہوں گی کہ جو مقام آ پ کو اللہ نے دیا ہے اسکے بعد معاشرے کے کسی بے درد سے اپ کو کسی بھی سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں اور آپکا بچہ صرف آپکا ہے
آپ اسے اچھا کھلائیں یا برا اچھا پہنائیں یا برا آپ اسے مارے ڈا نٹیں یا پیار کریں جو آپ کو مناسب لگتا ہے کریں کسی دوسرے تیسرے کا آپکے اور آپکے بچے کے درمیان کوئی کام نہیں یقین کریں آ پ سے بڑھ کر اپنی اولاد کی کوئی خیر خواہ نہیں۔ اس لیے اولاد کی تربیت کے لیے آپ جو بھی اصول بنائیں کسی بھی رشتے پر ان اصولوں کو قربان مت کریں کیونکہ یقین جانیں آ ج جو محبت کے نام پر آپکی اولاد کو بگاڑتا ہے کل کو سب سے پہلے آپکے بچے کے بگڑنے پر آپ کو ناکام ماں اور بگڑے بچے کا طعنہ بھی یہی رشتے دیں گے۔۔ اسلیے بہتر ہے کہ وقتی سکون کے لیے اپنے بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر مت چھوڑیں۔
دوسری طرف میں اپنے انتہائی رحم دل معاشرے سے گزارش کرونگی جو ایک عورت بلخصوص ایک ماں کے لیے ہمیشہ سے سفاک رہا ہے یہ جو آج کل ایک سے بڑھ کر ایک نا زیبا اور نا قابل یقین واقعات ہو رہے ہیں خاص طور پر اج کل ما ں کے طور پر ایک بے رحم چہرہ سامنے آ یا ہوا ہے یہ چہرہ آ پ ہی کا بنایا ہوا ہے ان واقعات کے پیچھے اصل کردار تو آپ ہیں جو ایک ماں کو اس قدر ذہنی کرب میں مبتلا کرتے ہیں کہ وہ اپنے وجود کے حصوں کاٹ پھینکنے پر مجبور ہو جاتی ہے ورنہ خود سوچیں کتے بلیاں بھی جہاں اپنے بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہیں وہیں ایک انسان ایک عورت اور وہ بھی ایک ماں کیسے کسی بے رحم بھیڑیے کا روپ دھار لیتی ہے۔۔تو براہ مہر بانی دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھولنے کے بجائے اپنے حصے کی کوئی نیکی ڈال دیں جو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکے نہ کہ کوئی پچھتاوا۔۔
بحر حال دنیا بھر کے عظیم ماؤں کو ہیپی مدرز ڈے اور اپ سب کے لیے ہمارے الفاظ بس یہی ہیں کہ ماں کا کوئی نعم البدل نہ تھا نہ ہے نہ کبھی ہوگا۔۔۔۔
