تعلیمی اداروں پر رحم کریں، ایندھن کی بچت کے نام پر طلبہ کا سال ضائع نہ کیا جائے!۔ مولانا خلیق الزمان
۔
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اگر تعلیمی اداروں میں ہفتے کے دوران تین دن چھٹی کرکے ایندھن کی بچت کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے تو اس پالیسی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ایک اخباری میں انھوں نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اضافی ہفتہ وار تعطیلات سے ہونے والی ایندھن کی بچت کتنی ہوگی؟ اس کے مقابلے میں طلبہ کی تعلیم کا جو قیمتی وقت ضائع ہوگا، اس کا نقصان کہیں زیادہ بڑا ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیمی سال متاثر ہوتے رہتے ہیں، ایسے میں مزید تعطیلات طلبہ کے تعلیمی معیار، نصاب کی بروقت تکمیل اور ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر واقعی قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا مقصود ہے تو کفایت شعاری کا آغاز ان شعبوں سے ہونا چاہیے جہاں غیر ضروری اخراجات کی گنجائش موجود ہے۔ وزراء، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو حاصل مراعات، پروٹوکول اور سرکاری اخراجات کا بھی شفاف اور سنجیدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ بچت ضرور کی جائے، مگر بچوں کی تعلیم کی قیمت پر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی وسائل میں کفایت شعاری بھی ضروری ہے اور تعلیم کا تسلسل بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں کے درمیان ایسا متوازن راستہ اختیار کیا جائے جس سے حکومتی اخراجات میں کمی بھی ہو اور طلبہ کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔
انھو ں نے حکومت سے مؤدبانہ اپیل کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں غیر ضروری تعطیلات سے گریز کیا جائے اور طلبہ کے قیمتی وقت اور ان کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ قوم کا مستقبل ہمارے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں زیرِ تعلیم ہے۔ آج اگر ان کی تعلیم میں بار بار خلل ڈالا گیا تو اس کے اثرات مستقبل میں پوری قوم کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔