The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 27 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چراغِ ہدایت بجھ گیا – مفتیٔ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کا سانحہ ارتحال – تحریر:  ثنا اللہ مجیدی

Chitral Times

چراغِ ہدایت بجھ گیا – مفتیٔ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کا سانحہ ارتحال – تحریر:  ثنا اللہ مجیدی

چراغِ ہدایت بجھ گیا – مفتیٔ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کا سانحہ ارتحال – تحریر:  ثنا اللہ مجیدی

چراغِ ہدایت بجھ گیا – مفتیٔ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کا سانحہ ارتحال – تحریر:  ثنا اللہ مجیدی

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی امت کسی جلیل القدر عالمِ دین سے محروم ہوتی ہے تو گویا ایک چراغِ ہدایت بجھ جاتا ہے، علم و عرفان کی وہ شمع جو سینکڑوں دلوں کو روشن کرتی تھی، یکایک مدھم ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر دل و دماغ پر ایک ایسا خلا طاری ہو جاتا ہے جسے کوئی پر نہیں کر سکتا۔ یہی کیفیت 23ستمبر 2025ء میں ایک بار پھر امتِ مسلمہ نے محسوس کی، جب حرمین شریفین کی سرزمین پر ایک عظیم الشان شخصیت، سعودی عرب کے مفتی اعظم سربراہِ کبار العلماء اور خطیبِ یومِ عرفہ، شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“إنَّ اللهَ لا يَقبِضُ العلمَ انتزاعًا يَنتزعُه من العِبادِ، ولكنْ يَقبِضُ العلمَ بقبضِ العُلماءِ”
یعنی: “اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں کے سینوں سے نکال لے، بلکہ علما کے اٹھ جانے سے علم اٹھا لیا جائے گا۔”
یہ حدیثِ مبارکہ ایک اٹل حقیقت ہے، اور شیخ کی رحلت نے اسے ایک بار پھر عیاں کر دیا۔

شیخ عبدالعزیز مرحوم نصف صدی سے زائد عرصہ علم و دعوت کی خدمت سے وابستہ رہے۔ انہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے، شریعتِ مطہرہ کے احکام کو اجاگر کرنے اور امت کو اتحاد، تقویٰ اور سنت کی پیروی کی طرف بلانے میں اپنی پوری زندگی صرف کی۔ ان کی شخصیت میں علم و عمل کی جامعیت، تقویٰ و پرہیزگاری، اور امت کے لیے درد مندی نمایاں تھی۔ وہ نہ صرف فتاویٰ و ارشادات کے ذریعے مسائلِ دین کی توضیح کرتے رہے بلکہ ہر موقع پر مسلمانوں کو باہمی اخوت، ایثار اور شریعت پر استقامت کی تلقین کرتے رہے۔

ان کی امامت اور خطابت کی تاریخ بھی نہایت تابناک ہے۔ تین دہائیوں تک عرفات کے میدان میں وقوفِ حج کے دوران خطبہ دینا ان کا امتیازی شرف رہا۔ ان خطبات میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں امت کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے اور اصلاح و رجوع الی اللہ کی دعوت دیتے۔ ان کی گونج دار آواز صرف حجاج ہی تک محدود نہ رہتی بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتی تھی۔

ان کے علمی مقام کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں شیخ عبدالعزیز بن بازؒ جیسے اجلّہ علما کی جانشینی کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنے منصب کو ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ نبھایا اور ہر دور میں امت کے لیے رہنمائی کے چراغ جلائے۔
مختصر حالات زندگی:

شیخ عبدالعزیز مرحوم30 نومبر 1943ء میں ریاض میں پیدا ہوئے۔ وہ خاندانِ آل الشیخ کے فرد تھے، یہ وہ خانوادہ ہے جس نے صدیوں تک دینِ اسلام کی خدمت اور امت کی علمی و فکری رہنمائی کی ذمہ داری نبھائی۔ یہ کم سنی میں والد کے سائے سے محروم ہو گئے اور جوانی ہی میں اپنی ظاہری بصارت محروم ہوگئے، مگر ان کا دل و دماغ نورِ بصیرت سے منور رہا۔ نابینائی اُن کے عزم میں رکاوٹ نہ بنی، بلکہ یہی کمزوری ان کی قوت کا سرچشمہ بن گئی۔
انہوں نے ابتدائی عمر میں قرآنِ مجید حفظ کیا اور پھر جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ میں شریعت اور عربی زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی 1965ء میں سند فراغت حاصل کی۔ وہاں انہیں اپنے عہد کے جلیل القدر علما جیسے شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ اور شیخ عبدالعزیز بن بازؒ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ ان عظیم شخصیات کی علمی صحبت نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور انہیں اجتہاد و افتا کے میدان کے لیے تیار کیا۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد انہوں نے تدریس کا شعبہ اختیار کیا۔ وہ معہد امام الدعوۃ اور جامعہ کی کلیۃ الشریعہ میں کئی برسوں تک پڑھاتے رہے۔ ان کے درس میں صرف الفاظ نہیں بلکہ روحانی تاثیر بھی شامل ہوتی تھی۔ شاگرد نہ صرف علم کے موتی سمیٹتے بلکہ کردار اور تقویٰ کی خوشبو بھی پاتے۔
مئی 1999ء کو شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کو سعودی عرب کا مفتیٔ اعظم اور ہیئتِ کبار العلماء کا سربراہ مقرر کیا گیا، یہ وہ منصب تھا جو اس سے قبل شیخ عبدالعزیز بن بازؒ جیسے نابغۂ روزگار عالم کے پاس تھا۔ اس منصب پر فائز ہو کر انہوں نے ربع صدی تک امت کو درپیش مسائل میں شرعی رہنمائی فراہم کی۔ ان کے فتاویٰ میں اعتدال، حکمت اور کتاب و سنت کی روشنی نمایاں رہتی تھی۔ وہ دورِ حاضر کے چیلنجز کو سمجھنے اور ان کا شرعی حل پیش کرنے میں یگانہ حیثیت رکھتے تھے۔

ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک منفرد سعادت سے بھی نوازا۔ مسلسل تیس برس تک میدانِ عرفات میں خطبۂ حج دینے کی عظیم ذمہ داری انہی کے حصے میں آئی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج ایک میدان میں جمع ہو کر خطبۂ عرفہ سنتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمان کان لگا کر اس پیغام کو سنتے ہیں۔ ان کے خطبات میں قرآن و سنت کی روشنی، امت کے اتحاد کی دعوت، تقویٰ کی تلقین، اور معاصر مسائل پر بصیرت افروز رہنمائی شامل ہوتی تھی۔ ہر سال یہ خطبہ امت کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتا اور مسلمانوں کو ان کے دین و عقیدے کی بنیادوں کی طرف متوجہ کرتا۔

ان کی رہنمائی صرف سعودی عرب تک محدود نہ تھی۔ ان کی آراء، فتاویٰ اور خطبات دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ ان کے بیانات کا ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا جاتا، جس کے ذریعے یورپ، امریکا، افریقہ اور برصغیر تک ان کی آواز پہنچتی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور شریعت پر استقامت کی دعوت ہر جگہ سنائی دیتی۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کو مغربی افکار کے اندھی تقلید سے بچنے، دینی تشخص قائم رکھنے اور اپنے نوجوانوں کو اسلامی اقدار پر فخر کرنے کی تلقین کرتے۔

ان کی زندگی کا ایک روشن پہلو یہ بھی تھا کہ وہ امت کے روزمرہ مسائل میں اخلاقی اور عملی رہنمائی دیتے۔ وہ والدین کو تربیتِ اولاد کی ذمہ داری یاد دلاتے، نوجوانوں کو گناہوں اور فتنوں سے بچنے کی نصیحت کرتے، اور حکمرانوں کو عدل و انصاف کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔ وہ اکثر فرمایا کرتے کہ معاشرہ صرف اس وقت درست ہو سکتا ہے جب علمائے کرام، والدین اور حکمران اپنی ذمہ داریاں کتاب و سنت کے مطابق ادا کریں۔
ان کی شخصیت میں عاجزی اور سادگی نمایاں تھی۔ بڑے منصب پر فائز ہونے کے باوجود وہ اپنے شاگردوں اور عام مسلمانوں کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے۔ ان کے دروازے ہر سائل کے لیے کھلے رہتے اور وہ کبھی سوال کرنے والے کو محروم نہ لوٹاتے۔ نابینا ہونے کے باوجود ان کا حافظہ اور ادراک اتنا قوی تھا کہ وہ اکثر طویل دلائل اور نصوص کو ازبر بیان کر دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں عین الامۃ “امت کی آنکھ” کہا کرتے تھے۔

شیخ عبدالعزیزؒ کی علمی میراث نہ صرف ان کے ہزاروں شاگردوں میں محفوظ ہے بلکہ ان کے خطبات، فتاویٰ اور بیانات بھی امت کے لیے چراغِ راہ ہیں۔ وہ ایک ایسے رہبر تھے جنہوں نے شریعت کے اصولوں پر ڈٹ کر رہنمائی دی، مگر اس کے ساتھ ساتھ نرمی، بصیرت اور حکمت کو بھی ملحوظ رکھا۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی نمونہ تھی کہ علم اور تقویٰ مل کر کس طرح ایک انسان کو پوری امت کے لیے مشعلِ راہ بنا سکتے ہیں۔

ان کی وفات امتِ مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی خسارہ ہیاورعالمِ اسلام ایک ایسے رہبر سے محروم ہو گیا جو ہر حال میں دین کی مصلحت اور شریعت کی روح کے مطابق فیصلے کرنے والا تھا۔وہ بظاہر بصارت سے محروم تھے لیکن حقیقت میں امت کی آنکھ اور دل کی بصیرت تھے۔ ان کی ذات ایک ایسے مینارِ نور کی مانند تھی جو صدیوں کے اندھیروں میں روشنی بکھیرتا ہے آج امت اس سانحے پر سوگوار ہے اور یہ خلا تادیر محسوس کیا جاتا رہے گا۔

آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے امت کا ایک بڑا ستون زمین بوس ہو گیا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے شاگردوں کی صورت میں، ان کے فتاویٰ کی سطروں میں اور ان کے خطبات کی بازگشت میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی رحلت اس حقیقت کو ایک بار پھر آشکار کرتی ہے کہ:
“موتُ العالِم موتُ العالَم” — ایک عالم کی موت گویا ایک جہان کی موت ہے۔
اے اللہ! شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما اور امتِ مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرما۔ آمین۔